1995: جب مستحق اموال كى وصولي ميں تاخير ہو تو اس كى زكاۃ كيسے ادا ہو گى ؟


جو سركارى استحقاقات وصول كيے جاتے ہيں وہ گزشتہ برسوں كے ہوتے ہيں، تو كيا ان استحقاقات كى وصولى كے بعد اس كى زكاۃ واجب ہوتى ہے ؟
اور اگر واجب ہوتى ہے تو كيا ايك برس كى ادا كى جائے گى ؟ يا اس كا حساب كس طرح ہے ؟

الحمد للہ :

اگر تو معاملہ ايسا ہى ہو جيسا بيان كيا گيا ہے، تو وہ اسے وصول كرنے كے بعد اس پر نيا سال شمار كرے، اور سال مكمل ہونے پر اس كى زكاۃ ادا كرے گا، اور جو برس بيت چكے ہيں اس كى زكاۃ نہيں، كيونكہ وہ اس وقت اس كى مستقل ملكيت ميں نہ تھے.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 9 / 284 ).
Create Comments