ہفتہ 17 ربیع الثانی 1441 - 14 دسمبر 2019
اردو

جب مستحق اموال كى وصولي ميں تاخير ہو تو اس كى زكاۃ كيسے ادا ہو گى ؟

1995

تاریخ اشاعت : 28-05-2006

مشاہدات : 3443

سوال

جو سركارى استحقاقات وصول كيے جاتے ہيں وہ گزشتہ برسوں كے ہوتے ہيں، تو كيا ان استحقاقات كى وصولى كے بعد اس كى زكاۃ واجب ہوتى ہے ؟
اور اگر واجب ہوتى ہے تو كيا ايك برس كى ادا كى جائے گى ؟ يا اس كا حساب كس طرح ہے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ :

اگر تو معاملہ ايسا ہى ہو جيسا بيان كيا گيا ہے، تو وہ اسے وصول كرنے كے بعد اس پر نيا سال شمار كرے، اور سال مكمل ہونے پر اس كى زكاۃ ادا كرے گا، اور جو برس بيت چكے ہيں اس كى زكاۃ نہيں، كيونكہ وہ اس وقت اس كى مستقل ملكيت ميں نہ تھے.

ماخذ: ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 9 / 284 )

تاثرات بھیجیں