Thu 24 Jm2 1435 - 24 April 2014
2023

دعوت الی اللہ کس پرواجب ہے

کیا ہرمسلمان مرد وعورت پردعوت الی اللہ واجب ہے یا کہ صرف علماء کرام اورطلاب علم پرمنحصر ہے ؟

الحمد للہ :

جب انسان بصيرت كے ساتھ دعوت كا كام كرے توپھر اس میں کوئي‏ فرق نہیں کہ وہ کو‏ئى بڑا عالم ہو یا جس کی بات مانی جاۓ یا پھر وہ کوئي مجتھد طالب علم ہو اوریا کو‏ئى عامی ہو مسئلہ یہ ہے کہ اسے علم یقینی ہونا چاہیے کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے :

( اگرایک آیت کا بھی علم ہے تواسے بھی آگے پہنچادو ) ۔

داعی کے لیے کوئ شرط نہیں کہ وہ ایک بڑا عالم دین ہی ہو لیکن شرط صرف اتنی ہے کہ جس چیزکی وہ دعوت دے رہا ہے اس میں اسے علم چاہیے ، یہ جائزنہیں کہ وہ اپنے دعوتی شوق سے ہی دعوت دینی شروع کردے اوروہ اس مسئلہ ميں جاہل ہو ۔

تواس لیے ہم دیکھتےہیں کہ جنہیں دعوتی کاموں کا شوق ہوتا ہے لیکن ان کے پاس علم بالکل نہیں ہوتا سواۓ قلیل سے علم کے جس قابل ذکرنہیں ہوتا جس کی بنا پروہ ایسی اشیاء حرام کرنا شروع کردیتے ہیں جنہیں اللہ تعالی نے توحرام نہیں کیا ، اوراسی طرح ان اشیاء کوواجب قراردیتے ہیں جنہیں اللہ تعالی نے اپنے بندوں پرواجب نہیں کیا جوکہ ایک بہت ہی خطرناک بات ہے ۔

اس لیے کہ جسے اللہ تعالی نے حلال کیا ہواسے حرام قراردینا اللہ تعالی کی حرام کردہ چيزکوحلال کرنے کے مترادف ہے ، تومثلا جب وہ کسی دوسرے پراس چيزکے حلال ہونے کاانکارکریں گے تو ان کے علاوہ دوسرے ان پراس کے حرام ہونے کابھی انکارکریں گے ، اس لیے کہ اللہ تعالی نے یہ دونوں امربرابر قرار دیتے ہوۓ فرمایا ہے :

{ کسی چيزکے بارہ میں اپنی زبان سے جھوٹ موٹ یہ نہ کہہ دیا کرو کہ یہ حلال ہے اوریہ حرام ہے کہ اللہ تعالی پرجھوٹ بہتان باندھ لو سمجھـ لو کہ اللہ تعالی پربہتان بازی کرنے والے کامیابی سے محروم ہی رہتے ہیں } النحل ( 116 )۔

الشيخ محمد بن صالح بن عثیمین رحمہ اللہ تعالی
Create Comments