Mon 21 Jm2 1435 - 21 April 2014
2127

ارکان نکاح ، شروط نکاح اورولی کی شروط

عقد نکاح کے ارکان اوراس کی شروط کیا ہیں ؟

الحمد للہ
اسلام میں عقدنکاح کے تین ارکان ہیں :

اول :

خاوند اوربیوی کی موجودگی جن میں مانع نکا ح نہ پایا جائے جوصحت نکاح میں مانع ہو مثلا نسب یا پھر رضاعت کی وجہ سے محرم وغیرہ ، اوراسی طرح مرد کافر ہو اورعورت مسلمان ہو ۔

دوم :

حصول ایجاب : ایجاب کے الفاظ عورت کے ولی یا پھر اس کے قائم مقام کی طرف سے اس طرح ادا ہوں کہ وہ خاوند کویہ کہے کہ میں نے تیری شادی فلاں لڑکی سے کردی یا اسی طرح کے کوئي اورالفاظ ۔

سوم :

حصول قبول : قبولیت کے الفاظ خاوند یا پھر اس کے قائم مقام سے ادا ہوں مثلا وہ یہ کہے کہ میں نے قبول کیا یا اسی طرح کے کچھ اور الفاظ ۔

صحت نکاح کی شروط :

اول :

زوجین کی تعیین : چاہے یہ تعیین اشارہ یا نام یا پھر صفت بیان کرکے کی جائے ۔

دوم :

خاوند اوربیوی کی دوسرے پر رضامندی :

کیونکہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

( ایم کی اجازت کے بغیر اس کا نکاح نہیں کیا جاسکتا ، اورکنواری عورت سے بھی نکاح کی اجازت لی جائے گی ، صحابہ کرام کہنے لگے اے اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ( کنواری ) کی اجازت کس طرح ہوگی ، تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی خاموشی ہی اجازت ہے ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 4741 ) ۔

حدیث میں ایم کا لفظ استعمال ہوا ہے ایم اس عورت کو کہتے ہیں جو اپنے خاوند سے اس کی موت یا پھر طلاق کی وجہ سے علیحدہ ہوچکی ہو ۔

اورتستامر کا معنی ہے کہ اس سے اجازت کی جائے گی جس میں اس کی جانب سے صراحب ہونا ضروری ہے ، ۔

اورکیف اذنھا : کا معنی ہے کہ کنواری کی اجازت کس طرح کیونکہ وہ تو شرماتی ہے ۔

سوم :

عورت کا نکاح اس کا ولی کرے : کیونکہ اللہ تعالی نے عورت کے نکاح میں ولی کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ہے :

{ اوراپنے میں سے بے نکاح عورتوں اورمردوں کا نکاح کردو } ۔

اورنبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے :

( جس عورت نے بھی ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا اس کا نکاح باطل ہے ، اس کا نکاح باطل ہے ، اس کانکاح باطل ہے ) سنن ترمذی حديث نمبر ( 1021 ) اس کے علاوہ اورمحدیثین نے بھی اسے روایت کیا ہے یہ حدیث صحیح ہے ۔

چہارم :

عقد نکاح کے لیے گواہ : اس لیے کہ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :

( ولی اوردو گواہوں کے بغیر نکاح نہیں ہوتا ) رواہ الطبرانی ۔ دیکھیں صحیح الجامع حدیث نمبر ( 7558 ) ۔

اورنکاح کی تاکید اوراعلان بھی ہونا چاہیے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

( نکاح کااعلان کرو ) مسنداحمد ، صحیح الجامع میں اسے حسن قراردیا گيا ہے دیکھیں صحیح الجامع حدیث نمبر ( 1072 ) ۔

ولی بننے کی شروط :

ولی میں مندرجہ ذيل شروط کا ہونا ضروری ہے :

1 – عقل ۔ یعنی عقلمند ہو بے وقوف ولی نہيں بن سکتا ۔

2 – بلوغت ۔ یعنی بالغ ہو بچہ نہ ہو

3 – حریہ : یعنی آزاد ہوغلام نہ ہو ۔

4 – دین ایک ہو ، اس لیے کافر کو مسلمان پر ولایت حاصل نہيں ہوسکتی ، اور اسی طرح مسلمان کسی کافر یا کافرہ کا ولی نہيں بن سکتا ۔

کافرمرد کو کافرہ عورت پر شادی کی ولایت مل سکتی ہے ، چاہے ان کا دین مختلف ہی ہو ، اوراسی طرح مرتد شخص کو بھی کسی پر ولایت نہیں حاصل ہوسکتی ۔

5 – عدالۃ : یعنی عادل ہونا چاہیے یہ عدل فسق کے منافی ہے ، جوبعض علماء کے ہاں تو شرط ہے اوربعض علماء ظاہری طور پر ہی عادل ہونا شرط لگاتے ہیں ، اورکچھ علماء کہتے ہیں کہ اتنا ہی کافی ہے کہ جس کی شادی کا ولی بن رہا ہے اس کی مصلحت حاصل ہونا ہی کافی ہے ۔

6 – ذکورۃ ۔ یعنی وہ مرد ہو ۔

کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : ( کوئي عورت کسی عورت کی شادی نہ کرے ، اورنہ ہی کوئي عورت خود اپنی شادی خود کرے ، جوبھی اپنی شادی خود کرتی ہے وہ زانیہ ہوگی ) سنن ابن ماجہ حدیث نمبر ( 1782 ) دیکھیں صحیح الجامع حدیث نمبر ( 7298 ) ۔

7 – رشد ، ایسی قدرت جس سے نکاح کی مصلحت اورکفوکی معرفت حاصل ہوتی ہے ۔

فقھاء کرام کے ہاں تو تو ترتیب ضروری ہے اس لیے ولی کے نہ ہونے یا اس کی نااہلی کی بنا پر یا پھر اس میں شروط نہ پائے جانے ک صورت میں قریبی ولی کو چھوڑ کر دور والے کو ولی بنانا جائز نہیں ۔

عورت کا ولی اس کا والد ہے اس کے بعد جس کے بارہ میں وہ وصیت کرے ، پھر اس کا دادا ، پڑدادا اوراس کے اوپر تک ، پھر اس کے بعد عورت کا بیٹا ، اورپھر پوتا اوراس سے نيچے تک ، پھر اس کے بعد عورت کا سگا بھائی ، پھر والد کی طرف سے بھائي ، پھر ان دونوں کے بیٹے ، پھر عورت کا سگا چچا ، پھر والد کی طرف سے چچا ، پھر چچا کے بیٹے ، پھر نسب کے لحاظ کے سے قریبی شخص جو عصبہ ہو ولی بنے گا جس طرح کہ وراثت میں ہے ، اورپھر جس کا کوئي ولی نہيں اس کا ولی مسلمان حکمران یا پھر اس کا قائم مقام قاضی ولی بنے گا ۔

واللہ اعلم .

الشیخ محمد صالح المنجد
Create Comments