214323: اگر نمازی چار رکعتوں والی نماز میں پانچویں رکعت کیلئے کھڑا ہوجائے تو اسکا کیا حکم ہے؟


جب نمازی اکیلا چار رکعت والی نماز ادار کر رہا ہو، اورپھر بھول کر پانچویں رکعت کیلئے کھڑا ہو جائے تو اسے کیا کرنا چاہئے؟

الحمد للہ:

نماز میں زیادتی کے بارےمیں امام، منفرد، اور مقتدی سب کا ایک ہی حکم ہے، چنانچہ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر عمداً رکعت زیادہ کردے تو اسکی نماز باطل ہوجائے گی، اور عین ممکن ہے کہ ایسا کوئی بھی نہیں کرتا۔

اور اگر نماز میں زیادتی بھول کی وجہ سے ہو تو اسکی دو صورتیں ہیں:

1- کہ امام ، مقتدی ، یا منفرد ،کسی کو بھی زائد رکعت کے دوران ہی پتہ چل جائے، تو فورا تشہد میں بیٹھنا ضروری ہے، وگرنہ اسکی نماز باطل ہوجائے گی،کیونکہ اب وہ جان بوجھ کر نماز میں زیادتی کر یگا، چنانچہ اگر پہلے تشہد نہیں بیٹھا تو اب وہ تشہد بیٹھے گا، اور سلام کے بعد سجدہ سہو کریگا۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ شرح ممتع میں کہتے ہیں:

"مؤلف کا قول: (وإن علم فيها)یعنی اگر زائد رکعت کے دوران ہی نمازی کو زیادتی کا علم ہوجائے تو ( جلس في الحال )یعنی: جس وقت یاد آئے اسی وقت تشہد میں بیٹھ جائے ، تاخیر نہ کرے، چاہے پانچویں رکعت کے رکوع میں ہی یاد آئے تو وہ فورا تشہد میں بیٹھ جائے۔

یہاں کچھ طلبائے کرام کا وہم ہے کہ "ایسے شخص کا حکم اُسی شخص جیسا ہے جو پہلا تشہد بھول کر کھڑا ہوجاتا ہے، چنانچہ اگر زائد رکعت کیلئے کھڑا ہونے کے بعد قراءت شروع کردی تو اب تشہد میں واپس بیٹھنا حرام ہے" یہ وہم غلط ہے، کیونکہ زائد رکعت مکمل کرنا بالکل بھی ممکن نہیں ہے، جیسے یاد آئے تو تشہد میں لوٹنا واجب ہے، تا کہ نماز میں زیادتی نہ ہو؛ کیونکہ اگر نمازی زائد رکعت پڑھتا ہی رہے تو یہ نماز میں عمداً زیادتی کا موجب ہے، اور یہ جائز نہیں ہے؛ اس سے نماز باطل ہوجائے گی۔

مؤلف کا قول:( فَتَشَهَّد إن لم يَكُنْ تَشَهَّدَ ) یعنی : نمازی کو زائد رکعت کا جیسے ہی علم ہو تو تشہد بیٹھ جائے، اور تشہد کی دعا پڑھے، اگر زائد رکعت کیلئے کھڑا ہونے سے پہلے تشہد پڑھ چکا تھا تو اب دوبارہ ضرورت نہیں۔ لیکن یہاں سوال ہے کہ: کیا تشہد پڑھنے کے بعد بھی نماز میں زیادتی ہوسکتی ہے؟

جواب: یہ ہے کہ جی ہاں! ہوسکتی ہے، وہ اس طرح کہ چوتھی رکعت کے تشہد کو دوسری رکعت کا تشہد سمجھ لے، اور اپنے گمان کے مطابق تیسری کیلئے کھڑا ہواجائے، اور کھڑا ہونے کے بعد نمازی کو یاد آئے کہ یہ تو پانچویں رکعت ہے، اور جو تشہد پڑھا تھا وہ آخری تشہد تھا ، درمیان والا نہیں۔

مؤلف کا قول: ( وسَجَدَ وسَلَّم ) ظاہری طور پر تو اسکا یہی مطلب ہے کہ سلام سے پہلے سجدہ سہو کریگا، [حنبلی مذہب]یہی ہے؛ کیونکہ [حنابلہ]کے ہاں سلام کے بعد سجدہ سہو ہے ہی نہیں، الا کہ نماز مکمل ہونے سے پہلے ہی سلام پھیر لے تو [بعد میں سجدہ سہو کرسکتا ہے] جبکہ اسکے علاوہ جتنی بھی سہو کی صورتیں ہیں سب میں سجدہ سہوسلام سے پہلے ہے۔

جبکہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے اختیارات کے مطابق، نماز میں زیادتی کی وجہ سے کیا جانے والا سجدہ سہو ہمیشہ اور مطلقا سلام کے بعد ہی ہوگا۔

مسئلہ : نمازِ فجر میں تیسری رکعت کیلئے کھڑا ہوگیا تو اب کیا کریگا؟

جواب: قراءت شروع کر لے یا رکوع میں پہنچ جائے ہر حالت میں نمازی واپس تشہد میں بیٹھ کر تشہد پڑھے گا اور پھر سلام پھیر کر سجدہ سہو کریگا اور پھر دوبارہ سلام پھیرے گا، اس مسئلہ میں یہی راجح موقف ہے کہ یہاں سجدہ سہو سلام کے بعد ہوگا"انتہی

" الشرح الممتع " (3/342 - 343)

اور اگر نمازی کو نماز میں زیادتی کا علم نماز سے فراغت کے بعد ہی ہوا تو ایسی حالت میں اسکی نماز درست ہوگی، اور زیادتی کی وجہ سے سلام کے بعد سجدہ سہو کریگا۔

جیسے کہ " مجموع فتاوى ابن عثيمين " (14/31) میں ہے کہ:

"ایک ایسے آدمی کے بارے میں سوال ہے کہ جس نے ظہر کی نماز پانچ رکعت ادا کی اور اسے اس بات کا احساس تشہد ہی میں ہوا تو اسکا کیا حکم ہے؟

انہوں نے جواب دیا: اگر انسان نماز میں ایک رکعت زائد ادا کر لے اور اسے نماز سے فراغت کے بعد ہی احساس ہوتا ہے تو اسکے لئے سلام کے بعد سجدہ سہو کرنا واجب ہے، اسکی دلیل یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار پانچ رکعتیں پڑھائیں تو سلام پھیرنے کے بعد آپکو اس بارے میں بتلایا گیا: تو آپ نے اسی وقت دو سجدہ سہو کئے۔۔۔، سلام کے بعد سجدہ سہو کرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں زیادتی کے وقت سجدہ سہو کے وقت کا تعین نہیں کیا کہ یہ سلام سے پہلے ہوگا، چنانچہ اس سے معلوم ہوا کہ نماز میں زیادتی کے وقت سلام کے بعد سجدہ سہو کیا جائے گا، اسکی ایک اور دلیل حدیث ذو الیدین بھی ہے"انتہی

واللہ اعلم .

اسلام سوال وجواب ویب سائٹ
Create Comments