21756: مغرب اور عشاء جمع كرنے كى حالت ميں وتر كب ادا كيا جائيگا ؟


دوران سفر عشاء كے وقت وتر كى ادائيگى اور نماز قصر كرنے كا حكم كيا ہے ؟

الحمد للہ:

اس سوال كى دو شقيں ہيں:

پہلى شق:

سفر ميں نماز قصر كرنا:

" سفر چار ركعتى نماز كے ليے قصر يعنى دو ركعت ادا كرنے كا سبب ہے بلكہ يہ ـ يعنى سفر ـ ايسا سبب ہے جو چار ركعتى نماز كو حسب اختلاف يا تو وجوبا قصر كرنے يا پھر ندبا قصر كرنے كا سبب ہے.

صحيح يہ ہے كہ قصر كرنا مندوب ہے نہ كہ واجب، اگرچہ كچھ نصوص كے ظاہر سے وجوب نكلتا ہے، ليكن كچھ دوسرى نصوص ايسى ہيں جو اس پر دلالت كرتى ہيں كہ يہ واجب نہيں... اھـ

چار ركعتى نماز ظہر اور عصر اور عشاء ہيں، اس كى دليل كتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم اور اجماع امت ہے:

قرآن مجيد ميں اللہ تعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور جب تم زمين ميں سفر كرو تو تم پر نماز قصر كرنے ميں كوئى حرج نہيں، اگر تمہيں خدشہ ہو كہ تمہيں كافر فتنہ ميں ڈال دينگے ﴾.

اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فعل دليل ہے:

( كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم جب بھى كرتے تو دو ركعت ادا كرتے، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ثابت نہيں كہ آپ نے سفر ميں كبھى بھى چار ركعت نماز ادا كى ہو، بلكہ سب لمبے اور چھوٹے سفروں ميں دو ركعتيں ہي ادا كيا كرتے تھے ).

اور مسلمانوں كا اجماع: يہ امر معلوم بالضرورہ ہے، جيسا كہ ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہا كا قول ہے:

" ميں نے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم اور ابو بكر و عمر اور عثمان رضى اللہ تعالى عنہم كے پيچھے نماز ادا كى وہ سفر ميں دو ركعت سے زيادہ ادا نہيں كرتے تھے ).

اس پر سب مسلمانوں كا اجماع اور اتفاق ہے.

دوسرى شق:

مغرب كے ساتھ عشاء كى نماز جمع كرنے كى حالت جمع تقديم كہلاتى ہے، اور مسافر كو حق حاصل ہے كہ وہ مغرب كے ساتھ عشاء كى نماز جمع تقديم كے وقت وتر بھى ادا كر لے.

اس كے ليے فتاوى ابن عثيمين ( 1 / 412 ) اور الشرح الممتع ( 4 / 502 ) اور فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 8 / 144 ) كا مطالعہ كريں.

واللہ اعلم .

الشيخ محمد صالح المنجد
Create Comments