ہفتہ 20 رمضان 1440 - 25 مئی 2019
اردو

مغرب اور عشاء جمع كرنے كى حالت ميں وتر كب ادا كيا جائيگا ؟

21756

تاریخ اشاعت : 30-03-2009

مشاہدات : 5152

سوال

دوران سفر عشاء كے وقت وتر كى ادائيگى اور نماز قصر كرنے كا حكم كيا ہے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

اس سوال كى دو شقيں ہيں:

پہلى شق:

سفر ميں نماز قصر كرنا:

" سفر چار ركعتى نماز كے ليے قصر يعنى دو ركعت ادا كرنے كا سبب ہے بلكہ يہ ـ يعنى سفر ـ ايسا سبب ہے جو چار ركعتى نماز كو حسب اختلاف يا تو وجوبا قصر كرنے يا پھر ندبا قصر كرنے كا سبب ہے.

صحيح يہ ہے كہ قصر كرنا مندوب ہے نہ كہ واجب، اگرچہ كچھ نصوص كے ظاہر سے وجوب نكلتا ہے، ليكن كچھ دوسرى نصوص ايسى ہيں جو اس پر دلالت كرتى ہيں كہ يہ واجب نہيں... اھـ

چار ركعتى نماز ظہر اور عصر اور عشاء ہيں، اس كى دليل كتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم اور اجماع امت ہے:

قرآن مجيد ميں اللہ تعالى كا فرمان ہے:

اور جب تم زمين ميں سفر كرو تو تم پر نماز قصر كرنے ميں كوئى حرج نہيں، اگر تمہيں خدشہ ہو كہ تمہيں كافر فتنہ ميں ڈال دينگے .

اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فعل دليل ہے:

( كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم جب بھى كرتے تو دو ركعت ادا كرتے، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ثابت نہيں كہ آپ نے سفر ميں كبھى بھى چار ركعت نماز ادا كى ہو، بلكہ سب لمبے اور چھوٹے سفروں ميں دو ركعتيں ہي ادا كيا كرتے تھے ).

اور مسلمانوں كا اجماع: يہ امر معلوم بالضرورہ ہے، جيسا كہ ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہا كا قول ہے:

" ميں نے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم اور ابو بكر و عمر اور عثمان رضى اللہ تعالى عنہم كے پيچھے نماز ادا كى وہ سفر ميں دو ركعت سے زيادہ ادا نہيں كرتے تھے ).

اس پر سب مسلمانوں كا اجماع اور اتفاق ہے.

دوسرى شق:

مغرب كے ساتھ عشاء كى نماز جمع كرنے كى حالت جمع تقديم كہلاتى ہے، اور مسافر كو حق حاصل ہے كہ وہ مغرب كے ساتھ عشاء كى نماز جمع تقديم كے وقت وتر بھى ادا كر لے.

اس كے ليے فتاوى ابن عثيمين ( 1 / 412 ) اور الشرح الممتع ( 4 / 502 ) اور فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 8 / 144 ) كا مطالعہ كريں.

واللہ اعلم .

ماخذ: الشيخ محمد صالح المنجد

تاثرات بھیجیں