22466: عمربھرمیں ایک بارحج کرنے کی مشروعیت میں حکمت


مسلمانوں پر عمربھرمیں کم ازکم ایک بارمکہ مکرمہ کی زيارت کرنا کیوں ضروری ہے ؟

الحمد للہ:

حمد کے بعد: ہم مسلمانوں کواس بات پرفخر اورشرف حاصل ہے کہ ہم اس اللہ واحدوصمد کے بندے وغلام ہیں جس سے نہ کوئی پیدا ہوا اورنہ وہ کسی سے پیدا ہوا ، اورنہ کوئی اس کا ہمسر ہے ، اوروہ ہمارا رب وپروردگار ہے ، اس کے علاوہ ہمارا کوئی رب نہیں ، اسی لیے ہم اپنے رب کریم کے احکام واوامر کوبجالانے میں کسی بھی قسم کی حیل وحجت سے کام نہیں لیتے بلکہ جوکچھ بھی ہمارا رب ہمیں حکم دیتا ہے ہم اسے انتہائی عاجزی وانکساری کے ساتھ تسلیم کرتے ہیں ، کیونکہ ہمیں علم ہے کہ ہمارا رب حکیم ہے جس کی حکمت سے زيادہ کسی کی حکمت نہیں ہوسکتی ، اورہمیں علم ہے کہ وہ رحیم ہے جس کے سوا کوئی رحم کرنے والا نہیں ہے وہ اپنی حمدوتعریف کے ساتھ پاک ہے ، اسی لیے ہم اس سے ایسی محبت کرتے ہیں جوہم پراس کے ہر اس حکم کی اطاعت لازم کرتی ہے جس کا وہ ہمیں حکم دیتا ہے اگرچہ اس حکم میں ہم پرمشقت ہی کيوں نہ ہو ، ہم اس کے دیے گئے حکم کی بجاآوری میں فخر اورسعادت وراحت محسوس کرتے ہیں ۔

اورجب کوئی انسان کسی دوسرے انسان سے محبت کرتا ہو تووہ اس کی خدمت کرناپسند کرتا ہے ، اوربعض اوقات تو اسے اس سے خوشی وسعادت حاصل ہوتی ہے ، توپھراس اللہ خالق ومالک اورعظیم الشان رب کے بارے میں کیا خیال ہے جس نے ہمیں پیدا فرمایا یہ جوکچھ ہمارے سامنے نعمتیں ہیں اُسی کی عطاہے – اُس کے لیے اعلی مثالیں– ہم نے اپنے پروردگار كو ہر چيز كا حساب دينا ہے، چنانچہ ہمیں اللہ كا ہر حكم مانتے ہوئے اس پر جلد عمل كرنا ضرورى ہے، شائد کہ ہم اس اللہ کی عظیم نعمتوں کا تھوڑا بہت شکر ادا کرنے میں کامیاب ہوجائیں، حقیقت یہ ہے کہ ہم اس کی بهى طاقت نہیں رکھتے ، لیکن اس كے باوجود اللہ تعالی اپنے فضل وکرم سے ہمارے یہ قلیل اعمال بھی قبول فرما كر اس کے بدلے میں ہمیں بہت زیادہ اجروثواب عطا كرتا ہے ۔

مثلا : ( حج کوہی لیں ) اگر کوئى مسلمان شخص حج کی ادئيگی اپنے رب کے مطلوبہ طریقہ پرکرتا ہے تواللہ تعالی نے اس کے گناہ معاف کرنے کا وعدہ فرمایا ہے ، اوراسے جنت میں داخل فرمائے گا ، لیکن شرط یہ ہے کہ وہ اپنے اس عمل کو سنگین مخالفتوں کا مرتکب ہوکر ضائع نہ کردے جس سے اللہ تعالی ناراض ہوتا ہے ۔

اس امت پراللہ تعالی کی کچھ زيادہ رحمت ہےکہ اللہ تعالی نے اپنے اوراپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کی اطاعت کواستطاعت پر معلق کیا ہے، کہ جب بندے میں استطاعت وطاقت ہو تو اس پرمطلوبہ عمل کی ادائيگى واجب ہوگى وگرنہ اس سے وہ عمل ساقط ہوجائے گا اوروہ معذور شمار ہوگا ۔

اللہ تعالی کا فرمان ہے : ( لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْساً إِلا وُسْعَهَا )

{ اللہ تعالی کسی نفس کوبھی اس کی طاقت سے زيادہ مکلف نہیں کرتا } البقرۃ ( 286)

یعنی اس کی طاقت کے مطابق ہی حکم دیتا ہے ۔

اورپھر خاص کر – حج – میں تواللہ تعالی کا فرمان ہے :

( وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلاً )

{ اوراللہ تعالی نے ان لوگوں پرجواس کی طرف استطاعت رکھتے ہیں بیت اللہ کا حج فرض کردیا ہے }آل عمران ( 97)

اوریہ بھی اس کی رحمت ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے بندوں پرعمربھر میں صرف ایک ہی بار حج کی ادائيگى فرض کی ہے تا کہ ان پرمشقت نہ ہو ، لیکن جس کے پاس قدرت واستطاعت ہو اسے بار بار حج و عمرہ كرنے كى ترغيب دلائى ہے ۔

اس کے بارے میں ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( حج وعمرہ لگاتارکیا کرواس لیے کہ یہ فقر اورگناہوں کواسى طرح ختم کردیتے ہیں جس طرح بھٹی لوہے کے زنگ کوختم کردیتی ہے ) سنن نسائی ( 2 / 4 ) یہ حديث صحیح ہے جیسا کہ البانی نے السلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ ( 1200 ) میں کہا ہے ۔

اوراللہ سبحانہ وتعالی نے یہ عظيم عبادت اس لیے مشروع کی ہے کہ ہم اللہ تعالی کی تعظيم كريں اورکبریائی بیان کریں اوراس کی نعمتوں اورعظیم فضل پراس کا شکرادا کریں ، لہذا بیت اللہ کےطواف کا مقصدان پتھروں! کے ارد گرد صرف گھومنا ہی نہیں بلکہ اس کا مقصدیہ ہے کہ :

اللہ تعالی نے ہمیں اس اس کے سات چکرلگانے کا حکم دیا ہے لہذا ہم اس کی اطاعت وفرمانبرداری کرتے ہوئے سات چکرہی لگاتے ہیں اوراس سے زیادہ نہیں اورنہ ہی اس میں کوئی کمی کرتے ہیں بلکہ ہم وہ کرتے ہيں جس کا اللہ تعالی نے ہمیں حکم دیا ہے ۔

ہمیں اس بات کا احساس ہے کہ ہم اس کے سامنے عاجزاورذلیل بندے ہیں لہذا ہم اس کی کبریائی بیان کرتے ہیں اوراس کی تعظیم کرتے ہوئے اس کا شکرادا کرتے ہيں، اس کی عبادت کرنا ہمارے ليے شرف ہے ، کیونکہ بہت سے لوگ مختلف معبودان باطلہ کی پرستش کرتے ہیں، بلکہ ان میں سے کچھ تو اپنی ذات یا شہوت کے پرستار ہیں۔

اسی طرح حج کے سارے اعمال اورمناسک میں ہے بلکہ ان ساری عبادات میں بھی اسی طرح ہے جواللہ تعالی نے ہمارے لیے مشروع کی ہیں ، چنانچہ اس پر اللہ تعالی کا شکرہے جس نے ہمیں اس عظيم الشان دین سے نوازا ہے ۔

پھرآپ اس عمر میں حج کے بارے میں سوال کرنے کا اہتمام آپ کى دینی تعلیم اورمعرفت کی حرص کی نشاندہی کرتا ہے ، لہذا ہم آپ کویہ نصیحت کرتے ہیں کہ آپ اسلام کے بارے میں مزيد تعارف وتحقیق کريں اورپڑھیں توخود بخود ہی آپ کیلئے یہ ظاہر ہوجائےگا کہ دین اسلام ہی فطرتی دین ہے جو آپ کے خالق، رازق، عظیم رب، جسکے علاوہ کوئی عبادت کا مستحق نہیں اُسکی رضامندی کی راہ کی طرف لے چلے گا۔

اسی مناسبت سے آپ یہ بھی جان لیں کہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بھائى اوراللہ تعالی کے نبی عیسی علیہ السلام آخری زمانے میں آسمان سے نزول فرمائيں گے اور بیت اللہ کا حج بھی کرینگے ، اور وہ اللہ تعالی کی توحید کا اعلان بھی کرینگے ۔

اور یہ ہمارا ایمان ہے کہ ایسا ہی ہوگا جیسا کہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خبر دی ہے ، اس کے بارے میں ہمارا ایمان ایسا ہی ہے جس طرح ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ دن میں سورج نکلا ہوتا ہے ۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : ( اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ابن مریم علیہ السلام وادی روحاء سے حج یا عمرہ یا دونوں کا ہی تلبیہ کہیں گے ) مسلم ( 1252 )

"ليهلن "کا معنی ہے کہ وہ حج اورعمرہ یا دونوں کا تلبیہ پکاریں گے ، اور "روحاء " مکہ اورمدینہ کے مابین ایک جگہ کا نام ہے ۔

ہم اللہ تعالی سے دعا گوہیں کہ وہ آپ کے سینہ کوہدایت کےلیے کھول دے ۔آمین .

شيخ محمد صالح المنجد
Create Comments