Fri 25 Jm2 1435 - 25 April 2014
23496

چہرہ ننگا ركھنے كے متعلق حديث

كيا درج ذيل حديث صحيح ہے:
" جب عورت بالغ ہو جائے اور اسے حيض آنے لگے تو اس كے چہرہ اور ہاتھوں كے علاوہ كچھ ظاہر نہيں ہونا چاہيے " ؟
اور حديث كى بنياد پر عورت كا لباس كيسا ہونا چاہيے ؟
اور اگر عورت كسى ايسے معاشرے ميں رہتى ہو جہاں اس كے ليے سخت پردہ اذيت كا باعث ہو تو اسے كيا كرنا چاہيے ؟

الحمد للہ:

سوال ميں مذكور حديث كو ابو داود نے وليد عن سعيد بن بشير عنا قتادۃ عن خالد بن دريك عن عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كے طريق سے روايت كيا ہے.

وہ بيان كرتى ہيں كہ اسماء بنت ابى بكر رضى اللہ تعالى عنہا رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس آئيں تو اسماء نے باريك كپڑے پہن ركھے تھے، چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس سے اعراض كر ليا اور فرمايا:

" اے اسماء جب عورت بالغ ہم جائے اور اسے حيض آنے لگے تو اس كے ليے اس اور اس كے علاوہ ظاہر ہونا صحيح نہيں "

اور انہوں نے اپنے چہرے اور ہاتھوں كى طرف اشارہ كيا.

سنن ابو داود حديث نمبر ( 4104 ) ابو داود رحمہ اللہ كہتے ہيں: يہ خالد بن دريك كى مرسل حديث ہے، كيونكہ اس نے عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كو پايا ہى نہيں.

اور يہ حديث ضعيف ہے، اس سے استدلال كرنا صحيح نہيں، اس كے ضعيف ہونے كے اسباب درج ذيل ہيں:

1 - اس حديث كى سند ميں انقطاع ہے، جيسا كہ امام ابو داود رحمہ اللہ خود اس كى تصريح كرتے ہوئے كہتے ہيں: يہ مرسل ہے؛ خالد بن دريك نے عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كو پايا ہى نہيں.

2 - اس كى سند ميں بشير ازدى، اور كہا جاتا ہے ابو عبد الرحمن البصرى ہے، بعض علماء حديث نے اسے ثقہ قرار ديا ہے، اور امام احمد اور ابن معين اور ابن مدينى اور نسائى اور امام حاكم، اور ابو داود نے اسے ضعيف قرار ديا ہے.

اور اس كے بارہ ميں محمد بن عبد اللہ نمير كہتے ہيں: يہ منكر حديث ہے، اور ليس بشئى، اور ليس بقوى الحديث ہے، اور قتادہ سے منكر احاديث روايت كرتا ہے.

اور ابن حبان رحمہ اللہ اس كے متعلق كہتے ہيں: يہ ردى حفظ اور فاحش الغلط تھا، قتادہ سے وہ احاديث بيان كرتا ہے جس كى متابعت نہيں كى جا سكتى.

اور اس كے متعلق حافظ ابن حجر كہتے ہيں: يہ ضعيف ہے.

3 - اس ميں قتادہ ہے، اور يہ مدلس راوى ہے، اور پھر اس حديث ميں وہ عن سے حديث بيان كر رہا ہے، اسى طرح اس ميں وليد بن مسلم بھى ہے جس كے متعلق حافظ رحمہ اللہ كہتے ہيں: يہ ثقہ ہے، ليكن بہت زيادہ تدليس اور تسويہ كرتا ہے، اور اس نے بھى عن سے روايت بيان كى ہے.

ان علتوں كى بنا پر اس حديث پر ضعيف كا حكم لگايا گيا ہے.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ماخوذ از مجلۃ البحوث الاسلاميۃ ( 21 / 68 ).

اور اگر حديث كو صحيح بھى مان ليا جائے، يا شواہد كى بنا پر اس كو قوى مان ليا جائے تو علماء كرام نے ا سكا جواب يہ ديا ہے كہ: يہ واقعہ پردہ سے قبل كا ہے.

ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں: اور رہى اسماء رضى اللہ تعالى عنہا والى حديث ت واسے پردہ كى آيت سے قبل پر محمول كيا جائيگا ".

اور شيخ محمد بن صالح عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اگر فرض كر ليا جائے كہ يہ حديث صحيح ہے، تو اسے پردہ سے قبل پر محمول كيا جائيگا "

ديكھيں كتاب: عودۃ الحجاب ( 3 / 336 ).

اور اگر ہم حديث كے متن پر غور كريں تو ہم اس ميں انتہائى بعد پائينگى، كيونكہ اسماء رضى اللہ تعالى عنہا ميں تو تقوى ورع اور شرم و حياء اتنى تھى جو انہيں اس طرح كے شفاف اور باريك لباس پہننے ميں مانع ہے، كہ وہ اس لباس ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے سامنے آئيں.

اس مسئلہ ميں صحيح يہى ہے كہ عورت غير محرم اوراجنبى مردوں سے اپنا سارا جسم جس ميں چہرہ بھى شامل ہے چھپائيگى.

آپ مزيد تفصيل كے ليے سوال نمبر ( 21134 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

اور رہا يہ مسئلہ كہ جس معاشرے ميں عورت رہ رہى ہو وہاں پردہ كرنے سے اسے اذيت پہنچے تو اسے اس اذيت پر صبر و تحمل سے كام لينا چاہيے، اور دين پر عمل اور اپنے پروردگار كى اطاعت و فرمانبردارى كرنے كى راہ ميں اسے جو تكليف پہنچے اس ميں وہ اجروثواب كے حصول كى نيت ركھے، اور پھر اس سلسلہ ميں تو ہمارے سلف صالحين رضى اللہ عنہم ہمارے ليے بہترين نمونہ ہيں، كيونكہ انہيں اللہ كى راہ ميں بہت تكليفيں اور اذيتيں دى گئيں، ليكن پھر بھى يہ چيز انہيں دين اسلام سے دور نہ كر سكى، بلكہ ان كے ليے يہ تكليف و اذيت تو دين پر اور زيادہ سختى سے كاربند رہنے اور عمل كرنے كا باعث بنا.

ہو سكتا ہے جن ايام ميں ہم زندگى بسر كر رہے يہ وہى صبر كے ايام ہوں جن كے بارہ ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اپنے درج ذيل فرمان ميں خبر دى ہے كہ:

" لوگوں پر ايك وقت آئيگا جس ميں اپنے دين پر صبر كرنے والا شخص اس طرح ہو گا جس طرح كسى نے انگارے كو پكڑ ركھا ہو "

سنن ترمذى حديث نمبر ( 2260 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے السلسلۃ الاحاديث الصحيحۃ حديث نمبر ( 957 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

الجمر دہكتے ہوئے آگ كے انگارے كو كہتے ہيں.

ملا على قارى كہتے ہيں:

" حديث كا معنى يہ ظاہر ہوتا ہے كہ: جس طرح شديد ترين صبر و تحمل اور مشقت اٹھائے بغير انگارہ پكڑنا ممكن نہيں، اسى طرح اس دور ميں اپنے دين اور ايمان كے نور كى صبر عظيم كے بغير حفاظت كرنے كا تصور بھى نہيں كيا جا سكتا " ا ھـ.

ماخوذ از تحفۃ الاحوذى.

اور فيض القدير ميں مناوى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" يعنى كتاب و سنت كے احكام پر صبر كرنے والے شخص كو بھى بدعتيوں اور گمراہ قسم كے لوگوں سے اتنى ہى تكليف پہنچتى ہے، جتنى كسى شخص كو آگ كا دہكتا ہوا انگارا پكڑنے سے ہو، بلكہ ہو سكتا ہے اس سے بھى زيادہ تكليف پہنچے، اور يہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے معجزات ميں شامل ہوتا ہے جس كے بارہ ميں انہوں نے خبر دى اور يہ ہو بھى چكا ہے " اھـ.

اللہ تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ وہ ہميں اللہ تعالى سے ملاقات تك دين حق پر ثابت قدم ركھے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments