30788: نماز ظہر كے دوران ياد آيا كہ صبح كى نماز ادا نہيں كى


ظہر كى نماز باجماعت سے ميرى تين ركعت رہ گئى اور جب ميں نے دو ركعت مكمل كى تو مجھے ياد آيا كہ ميں نے تو فجر كى نماز بھى ادا نہيں كى ـ ميں مريض تھا ـ تو پھر ميں نے دو ركعت كے بعد نماز توڑ كر فجر كى نيت كر لى اور اس كے بعد ظہر كى نماز ادا كى، كيا ميرا عمل صحيح ہے ؟

الحمد للہ:

اس سوال كا جواب تين نقاط پر مشتمل ہے:

اول:

رہ جانے والى نمازوں كى ترتيب كا حكم:

آئمہ ثلاثہ امام ابو حنيفہ، امام مالك، اور امام احمد رحمہم اللہ تعالى كا مسلك ہے كہ فوت شدہ نمازيں قضاء كرتے وقت ترتيب واجب ہے، اس كى دليل خندق والے دن نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى كچھ نمازيں رہ گئيں تو آپ نے ترتيب كے ساتھ انہيں قضاء كر كے ادا كيا تھا:

جابر بن عبد اللہ رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے جنگ خندق والے روز عصر كى نماز غروب آفتاب كے بعد ادا كى اور اس كے بعد مغرب كى نماز پڑھى "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 641 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 631 ).

اور ايك دوسرى حديث ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" تم نماز اس طرح ادا كرو جس طرح تم نے مجھے نماز ادا كرتے ہوئے ديكھا ہے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 631 ).

ديكھيں: المغنى ابن قدامۃ ( 2 / 336 ).

دوم:

اگر ترتيب بھول جائے تو كيا ساقط ہو جائيگى ؟

اس كا جواب يہ ہے كہ:

جى ہاں بھول جانے كى صورت ميں ترتيب ساقط ہو جائيگى، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" يقينا اللہ تعالى نے ميرى امت سے خطا اور بھول، اور جس پر انہيں مجبور كيا گيا ہو معاف كر ديا گيا ہے "

سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 2043 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح ابن ماجہ حديث نمبر ( 1662 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

اور امام ابو حنيفہ، اور امام احمد بن حنبل رحمہما اللہ دونوں كا مسلك بھى يہى ہے.

ديكھيں: فتح القدير ( 1 / 424 ) اور المغنى ابن قدامہ ( 2 / 340 ) اور الشرح الممتع ( 2 / 139 ).

اور اگر كوئى شخص نماز بھول جائے اور دوسرى نماز كا وقت شروع ہو جانے كے بعد اسے ياد آئے تو اس كى تين حالتيں ہيں:

1 - موجودہ نماز شروع كرنے سے پہلے رہ جانے والى نماز ياد آجائے تو اس وقت اسے فوت شدہ نماز پہلے ادا كرنا ہو گى اور پھر موجودہ نماز ادا كرے گا.

2 - موجودہ نماز مكمل كرنے كے بعد فوت شدہ نماز ياد آئے كہ اس نے تو وہ نماز ادا ہى نہيں كى، چنانچہ اس كى موجودہ نماز صحيح ہو گى اور وہ صرف فوت شدہ نماز ہى ادا كرے گا، بھول جانے كى بنا پر ترتيب كے ساتھ ادائيگى ميں معذور ہو گا.

3 - اسے موجودہ نماز ادا كرنے كے دوران ياد آئے كہ اس نے تو اس سے قبل والى نماز ادا نہيں كى، تو اس حالت ميں وہ موجودہ نماز مكمل كرے اور يہ اس كے ليے نفل ہونگے، اور پھر وہ فوت شدہ نماز ادا كرنے كے بعد موجودہ نماز ترتيب كے ساتھ ادا كرے گا، امام احمد رحمہ اللہ تعالى كا مسلك يہى ہے.

ديكھيں: المغنى ابن قدامہ ( 2 / 336 - 340 ).

اور عبد اللہ بن عمر رضى اللہ تعالى عنہما كا قول يہى ہے، امام مالك رحمہ اللہ تعالى نے موطا ميں روايت كيا ہے كہ:

نافع بيان كرتے ہيں كہ عبد اللہ بن عمر رضى اللہ تعالى عنہما كہا كرتے تھے:

" جس كى بھى كوئى نماز رہ گئى ہو اور اسے امام كے ساتھ باجماعت نماز ادا كرتے ہوئے ياد آئے، تو امام كى سلام پھيرنے كے بعد رہ جانے والى فوت شدہ نماز ادا كرے، اور پھر اس كے بعد دوسرى نماز ادا كرے"

ديكھيں: موطا امام مالك حديث نمبر ( 408 ).

اور شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

( دوران نماز جب بھى فوت شدہ نماز ياد آئے تو يہ ايسے ہى ہو گى جيسے اسے نماز شروع كرنے سے قبل ياد آتى، اور اگر موجودہ نماز كے دوران ياد نہيں آتى بلكہ نماز سے فارغ ہونے كے بعد ياد آئے تو جمہور علماء كرام مثلا امام ابو حنيفہ، امام شافعى، امام احمد، كے ہاں اس كى موجودہ نماز كفائت كر جائيگى... ) اھـ

ديكھيں: الفتاوى الكبرى ( 1 / 112 ).

جس نماز ميں ہے اسے پورى كرنا بطور استحباب ہے، نہ كہ واجب، چنانچہ اگر وہ اس نماز كو توڑ كر فوت شدہ نماز ادا كرے اور پھر موجودہ نماز اس كے بعد ادا كرلے تو جائز ہو گا.

مہنا رحمہ اللہ كہتے ہيں: ميں نے امام احمد رحمہ اللہ تعالى كو كہا: ميں عشاء كى نماز ادا كر رہا تھا، مجھے دوران نماز ياد آيا كہ ميں نے تو مغرب كى نماز ادا نہيں كى، چنانچہ ميں عشاء كى نماز ادا كر لى، اور پھر مغرب كى نماز ادا كرنے كے بعد عشاء كى نماز لوٹائى ؟

امام احمد رحمہ اللہ تعالى كہنے لگے:

آپ نے صحيح كيا

ميں نے كہا: جب مجھے دوران نماز ياد آيا تھا تو كيا مجھے نماز توڑ نہيں دينى چاہيے تھى ؟

امام احمد رحمہ اللہ كہنے لگے: كيوں نہيں.

ميں نے كہا: تو پھر ميں نے صحيح كيسے كيا ؟

وہ كہنے لگے: يہ سب جائز ہے .

ديكھيں: المغنى ابن قدامہ ( 2 / 339 ).

اور بعض علماء كرام كا كہنا ہے كہ: جو موجودہ نماز ادا كر رہا ہے اسے مكمل كرے، اور پھر بعد ميں فوت شدہ نماز ادا كر لے، تو اس پر موجودہ نماز دوبارہ لوٹانى لازم نہيں، امام شافعى رحمہ اللہ تعالى كا مسلك يہى ہے.

ديكھيں: المجموع ( 3 / 70 ).

اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى نے بھى اسے ہى اختيار كيا ہے.

ديكھيں: مجموع فتاوى ابن عثيمين ( 12 / 221 ).

ليكن پہلا قول زيادہ زيادہ محتاط ہے.

سوم:

سائل كا يہ قول:

اس نے بيمار ہونے كى وجہ سے صبح كى نماز ادا نہيں كى تھى.

يہ عمل صحيح نہيں؛ كيونكہ نماز كا وقت نكل جانے تك نماز ترك كرنے كے ليے بيمارى كوئى عذر نہيں، بلكہ مسلمان شخص پر بروقت نماز ادا كرنا فرض ہے، پھر اگر وہ مريض ہے تو اپنى استطاعت كے مطابق نماز ادا كرے كيونكہ اللہ تعالى كسى بھى جان كو اس كى استطاعت سے زيادہ مكلف نہيں فرماتے.

چنانچہ اگر وہ كھڑے ہو كر نماز ادا كرنے سے عاجز ہو تو بيٹھ كر نماز ادا كر لے، اور اگر بيٹھنے سے بھى عاجز ہو تو پہلو كے بل نماز ادا كر لے، اور اگر وضوء كرنے سے عاجز ہو تو تيمم كر لے، اور اگر اس كے بدن نجاست لگى ہو اور وہ اسے زائل كرنے سے عاجز ہو تو جس حالت پر ہے اسى حالت ميں نماز ادا كر لے، اور اسى طرح .

ليكن اس كے ليے طہارت و پاكيزگى اور نجاست زائل كرنے سے عاجز ہونے كى بنا پر نماز وقت سے تاخير كرنى جائز نہيں، بلكہ وہ حسب استطاعت نماز ادا كرے گا، اور جس قدر اس ميں نماز كے واجبات اور فرائض ادا كرنے كى استطاعت ہو گى وہ حسب استطاعت ادا كرے گا، ليكن جس كى استطاعت نہيں ركھتا وہ عدم استطاعت كى بنا پر اس سے ساقط ہو جائينگے.

ديكھيں: شيخ ابن باز رحمہ اللہ كا " احكام صلاۃ المريض و طہارتہ " كے موضوع پر لكھا ہوا پمفلٹ.

واللہ اعلم .

الشيخ محمد صالح المنجد
Create Comments