Sun 20 Jm2 1435 - 20 April 2014
31807

وہ اعمال جوانسان کواسلام سے خارج کردیتے ہیں

وہ کون سےاعمال ہیں جن کےکرنےسے مسلمان اسلام سےمرتد ہوجاتا ہے ؟

الحمد للہ
فضیلۃ الشیخ عبدالعزیزبن عبداللہ بن بازرحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے کہ :

اے مسلمان آپ کویہ علم ہونا چاہئے کہ اللہ تعالی نےسب بندوں پراسلام میں داخل ہونا اوراس پرعمل کرنااورجوچیز اس کےمخالف ہواس سے بچناواجب قراردیاہے اوراپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کواسی چیز کی دعوت دینے کےلئے مبعوث فرمایا ۔

اوراللہ تعالی نےیہ بتایاہےکہ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرےگاوہ ھدایت یافتہ ہے اورجواس سے اعراض کرےوہ گمراہ ہوااوربہت سی آیات میں مرتد ہونے والے اسباب اورہرقسم کےشرک اورکفرسےڈرایاگیا ہے ۔

علماءکرام رحمہ اللہ تعالی نےمرتدکےحکم میں ذ کرکیا ہے کہ :

مسلمان اپنےدین سےبہت سارے نواقض کی وجہ سےمرتد ہوسکتا ہے جس کی بناپر اس کامال اورخون حلال ہوجاتا اور وہ دائرہ اسلام سےخارج ہوجاتاہے ان میں سےسب سے خطرناک اورا کثرطور پروقوع ہونےوالےدس نواقض ہیں جنہیں محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ تعالی اوردوسرےاہل علم رحمہم اللہ نےذ کرکیاہے ۔

ان دس نواقض کوذ یل میں اختصار کےساتھ پیش کیاجاتاہے تا کہ آپ بھی اس سے بچیں اوردوسروں کو بھی اس سےبچائیں ان سےسلامتی اورعافیت کی امیدکرتےہوئے اورتھوڑی بہت وضاحت کےساتھ جوکہ ہم ذیل میں ذ کرکریں گے ۔

پہلا : اللہ تعالی کی عبادت میں شرک ۔

اللہ سبحانہ وتعالی کاارشاد ہے :

{ بیشک اللہ تعالی قطعی طور پرنہیں بخشےگا کہ اس کے ساتھ شریک مقررکیاجائے اورشرک کےعلاوہ باقی گناہ جسےچاہےبخش دے } النساء /( 116 )

اوراللہ وحدہ لاشریک کافرمان ہے :

{ یقین مانوکہ جوشخص اللہ تعالی کےساتھ شرک کرتا ہے اللہ تعالی نےاس پرجنت حرام کردی ہےاوراس کاٹھکانہ جہنم ہی ہےاورگنہگاروں کی مددکرنےوالاکوئی نہیں ہوگا } المائدۃ /( 72 )

اوراس میں سےمردوں کو پکارنا اوران سےاستغاثہ اورمددمانگنا اوران کےلئےنذرونیاز اور ذ بح کرناجس طرح کہ کوئی جن یاقبروالےکےلئےذ بح کرے ۔

دوسرا :

جس نےاللہ تعالی اوراپنے درمیان کوئی واسطے اوروسیلے بنائےجنہیں وہ پکارے اوران سےشفاعت طلب کرے اوران پرتوکل اور بھروسہ کرےتواس نےبالاجماع کفرکاارتکاب کیا۔

تیسرا :

جومشرکوں کوکافرنہ سمجھے اورنہ ہی انہیں کافرکہے یاان کےکفرمیں شک کرے یاان کےمذھب کوصحیح کہے وہ بھی کافر ہے۔

چوتھا :

جویہ اعتقادرکھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی اورکاطریقہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےطریقےسےبہتر اورا کمل ہےیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےعلاوہ کسی اورکا حکم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےحکم سے افضل ہے ، مثلاجوطاغوت کےحکم کونبی صلی اللہ علیہ وسلم کےحکم پرفضیلت دےتووہ کافر ہے ۔

پانچواں :

نبی صلی اللہ علیہ وسلم جولائےہیں اس میں سےکسی چیزسےکوئی بغض رکھےاگرچہ وہ اس پرعمل ہی کیوں نہ کرتاہووہ کافر ہے ۔

اس لئےکہ اللہ تبارک وتعالی کافرمان ہے :

{ یہ اس لئے کہ وہ اللہ تعالی کی نازل کردہ چیز سےناخوش ہوئےتواللہ تعالی نےان کے اعمال ضائع کردئے } محمد ۔/( 9 )

چھٹا :

جس نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےدین کامذاق اوراستہزاء کیایااس کےثواب یاعقاب اورسزا کومذاق کیاتواس نے بھی کفرکاارتکاب کیا ۔

اس کی دلیل اللہ تبارک وتعالی کایہ فرمان ہے :

{ کہہ دیجئے ! کہ اللہ تعالی اوراس کی آیات اوراس کارسول ہی تمہارے ہنسی مذاق کےلئےرہ گئےہیں ؟ تم بہانےنہ بناؤیقیناتم اپنےایمان کےبعد کافرہوگئےہو } التوبۃ ۔/(65۔66)

ساتواں :

جادو : اوراسی جادومیں سےکسی کوکسی کی طرف مائل کرنااورکسی سے پھیردینا۔

جوکوئی اس جادوکوکرےیااس کےکرنے پرراضی ہواس نےکفرکیا ۔

اس کی دلیل اللہ تعالی کایہ فرمان ہے :

{ وہ دونوں بھی کسی شخص کواس وقت تک نہیں سکھاتےتھےجب تک یہ نہ کہہ دیں کہ ہم توایک آزمائش توکفرنہ کر } البقرۃ /(102)

آٹھواں :

مسلمانوں کےخلاف مشرکوں کی مدد اورتعاون کرنا ۔

اس کی دلیل اللہ تعالی کایہ فرمان ہے :

{ تم میں سےجو بھی ان میں سےکسی سےدوستی کرےگا وہ بےشک انہی میں سے ہے بیشک اللہ تعالی ظالموں کوہرگز راہ راست نہیں دکھاتا } المائدۃ /( 51 )

نواں :

جویہ اعتقاد رکھے کہ بعض لوگوں کوشریعت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم سےنکلنا چائز ہے جس طرح کہ خضر کوموسی علیہ السلام کی شریعت سےنکلناجائزتھاتووہ بھی کافر ہے ۔

اس لئے کہ اللہ تبارک وتعالی کافرمان ہے :

{ جوشخص اسلام کےسوا کوئی اوردین تلاش کرےگااس کاوہ دین قبول نہیں کیا جائےگااوروہ آخرت میں نقصان اٹھانےوالوں میں سےہوگا } آل عمران ۔/( 85 )

دسواں :

اللہ تعالی کےدین سےاعراض برتنانہ تواس کاعلم حاصل کرنااورنہ ہی اس پرعمل کرنا۔

اس کی دلیل اللہ تعالی کایہ فرمان ہے :

{ اس سےبڑھ کرظالم کون ہوگاجسےاللہ تعالی کی آیتوں کاوعظ کیاگیا پھر بھی اس نےان سےمنہ پھیرلیا( یقین مانو ) ہم بھی مجرموں سےانتقام لینےوالےہیں } السجدۃ۔/( 22 )

اوریہ نواقض مذاق یاحقیقی طور پرپائےجانےکےدرمیان کوئی فرق نہیں صرف وہ شخص جس پرجبرکیاگیا ہے وہ اس سےخارج تویہ سب بڑے خطرناک اوروقوع کےلحاظ سے ا کثرہیں تومسلمان کےلئےضروری ہے کہ وہ ان سےبچ کراور ڈرکرر ہے ۔

ہم اللہ تعالی کےغضب کوواجب کرنےوالی اشیاء اوراس کےسخت قسم کےدردناک عذاب کوواجب کرنےوالی اشیاء سے پناہ طلب کرتےہیں ۔

اللہ تعالی اپنی مخلوق میں سب سےبہتراورافضل شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم اوران کی آل اوران کےصحابہ رضی اللہ تعالی عنہم پررحمتیں نازل فرمائےآمین ۔

ابن بازرحمہ اللہ تعالی کی کلام ختم ہوئی ۔

چوتھی قسم میں یہ بھی داخل ہے کہ :

جس نےیہ اعتقاد رکھا کہ قوانین وضعیہ اورنظام جسے لوگ بناتے ہیں وہ شریعت اسلامیہ سےبہتر اورافضل ہیں یا یہ قوانین اورنظام شریعت اسلامیہ کےمساوی وبرابر ہیں یہ انکانافذ کرنااوران کےساتھ حکم کرناجائز ہے ۔

اگرچہ اس کایہ اعتقاد ہوکہ شریعت اسلامیہ اس سےافضل ہے یااسلامی نظام بیسویں صدی میں اس قابل نہیں کہ اس کی تطبیق کی جائےیا یہ کہ اسلامی نظام مسلمانوں کےترقی پذیر ہونےکاسبب ہے یایہ کہ صرف بندے اوراس کےرب کےدرمیان تعلق ہے اوراس کازندگی کے دوسرے شعبوں میں اس کا کو‏ئی دخل نہیں(وہ بھی کافر ہے )۔

اوراسی طرح چوتھی قسم ( ناقض ) میں یہ بھی داخل ہے کہ :

عصرحاضرمیں اللہ تعالی کی مقررکردہ چوری کی سزاہاتھ کاٹنا اورشادی شدہ زانی کی سزارجم کرنااس موجودہ دورمیں نافذ کرنامناسب نہیں ۔( وہ بھی کافر ہے )

اوراسی طرح چوتھی قسم ( ناقض ) میں یہ بھی داخل ہے کہ :

ہروہ شخص جس نےیہ اعتقاد رکھا کہ معاملات یا حدود یاان دونوں کےعلاوہ شریعت اسلامیہ کےبغیرکسی اورکاحکم بھی نافذ کیاجاسکتا ہے اگرچہ اس کایہ اعتقاد نہ ہو کہ یہ شریعت اسلامیہ کےحکم سےافضل ہیں ۔

کیونکہ اس نےبالاجماع اس چیزکوجائزقراردیا ہےجسےاللہ تعالی نےحرام کیاتھاتوجو بھی اللہ تعالی کی حرام کردہ اشیاءکوجن کادین میں بالضرورۃ علم ہے جائز اورحلال قراردیا مثلازنی اورشراب اورسود اورشریعت الہی کےعلاوہ کسی اورکی تحکیم تووہ مسلمانوں کے اجماع سے کافر ہے ۔

ہم اللہ تعالی سےدعاگوہیں کہ وہ سب کواس بات کی توفیق دے جس میں اس کی رضاوخوشنودی ہے اوریہ کہ ہمیں اورسب مسلمانوں کوصراط مستقیم کی ھدایت نصیب فرمائےبیشک وہ سننےوالا اورقریب ہے اورہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اورانکی آل اورصحابہ اکرام رضی اللہ تعالی عنہم پررحمتیں نازل فرمائے ۔ آمین ۔

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments