32706: بيوى نے خاوند كو كہہ ديا كہ: تم ميرے ليے والد كى طرح ہو


ميرے اور خاوند كے مابين كچھ اختلاف ہوا اور غصہ كى حالت اور اس كى مجھ پر حرمت كے باعث ميں نے اسے يہ كلمہ كہہ ديا كہ: تم قيامت تك ميرے ليے والد كى طرح ہو، اور يہ كئى ايك بار ہوا، مجھے كيا كرنا ہو گا؟
كيا ميں خاوند سے طلاق كا مطالبہ كروں يا نہ، ميں اپنے معاملہ ميں بہت پريشان ہوں ؟

الحمد للہ :

جب مسلمان شخص اپنے اوپر اللہ تعالى كى حلال كردہ چيز كو حرام كر لے تو اس كا حكم قسم كا ہوتا ہے، اس كى دليل مندرجہ ذيل فرمان بارى تعالى ہے:

﴿ اے نبى صلى اللہ عليہ وسلم جس چيز كو اللہ تعالى نے حلال كر ديا ہے آپ اسے كيوں حرام كرتے ہيں ؟ ( كيا ) آپ اپنى بيويوں كى رضامندى كرنا چاہتے ہيں، اور اللہ تعالى بخشنے والا ہے، تحقيق اللہ تعالى نے تمہارے ليے قسموں كو كھولنا مقرر كر ديا ہے، اور اللہ تعالى مولى اور كارساز ہے، اور وہى مكمل علم والا اور حكمت والا ہے ﴾التحريم ( 1 - 2 ).

سعدى رحمہ اللہ تعالى اس كى تفسير ميں كہتے ہيں:

" اللہ تعالى كى جانب سے اپنے نبى صلى اللہ عليہ وسلم كو يہ عتاب اور ڈانٹ ہے جب رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اپنى كچھ بيويوں كا دل بہلانے كے ليے اپنے اوپر اپنى لونڈى ماريۃ يا پھر شہد نوش كرنا حرام كر ليا تھا، اور يہ معروف ہے، تو اللہ سبحانہ وتعالى نے يہ آيات نازل فرمائيں:

﴿ تحقيق اللہ تعالى نے تمہارى قسموں كا كھولنا مقرر كر ديا ہے... ﴾.

اور سب مومنوں كى قسموں كے بارہ ميں يہ آيت عام ہے..

لھذا جس نے بھى حلال كھانا پينا يا لونڈى كو اپنے اوپر حرام كيا، يا پھر اس نے كوئى كام كرنے يا نہ كرنے پر اللہ تعالى كى قسم اٹھائى اور پھر قسم توڑ دى اور قسم توڑنا كا اردادہ كيا تو اس پر مذكورہ كفارہ ہے. اھـ

ديكھيں: تفسير السعدى ( 1035 ).

مستقل فتوى كميٹى سے اس جيسا ہى سوال دريافت كيا گيا تو اس كا جواب تھا:

آپ پر اپنے اوپر خاوند كو والد كى طرح كہہ كر حرام كرنے ميں قسم كا كفارہ ہے، وہ يہ كہ: دس مسكينوں كو كھانا دينا، ہر مسكين كو ڈيڑھ كلو غلہ، يا ان كا لباس، ہر مسكين كو كپڑے، يا ايك مومن غلام آزاد كرنا، اور اگر آپ ان تينوں اشياء ميں سے كوئى نہيں پاتيں تو پھر تين يوم كے روزے ركھيں.

اور آپ پر آپ كا خاوند حرام نہيں ہے، آپ كو اس فعل كى بنا پر اللہ تعالى سے توبہ و استغفار كرنا ہو گى، كيونكہ كسى بھى مسلمان شخص كے ليے جائز نہيں كہ اللہ تعالى كى حلال كردہ چيز كو اپنے ليے حرام كرے" اھـ

ماخوذ از: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 23 / 189 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments