Fri 18 Jm2 1435 - 18 April 2014
33852

حرام طريقہ سے كمائے ہوئے مال كا حكم

كيا يہ صحيح ہے كہ جس نے حرام كام مثلا شراب كي تيارى ، اور نشہ آور اشياء فروخت اور اس كى ترويج كر كے مال جمع كيا ہو جب اللہ تعالى كے سامنے توبہ كرلے تو وہ مال حلال ہو جاتا ہے ؟

الحمد للہ :

جب اس نے حرام كمائى كى تو اسے اس كى حرمت كا علم تھا تو پھر توبہ كرنے سے وہ مال حلال نہيں ہوتا، بلكہ اسے نيكى بھلائى كے كاموں ميں خرچ كر كے اس مال سے چھٹكارا حاصل كرنا واجب ہے.

اللہ تعالى ہى توفيق بخشنے والا ہے.

واللہ اعلم .

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 14 / 32 ).
Create Comments