بدھ 6 ربیع الاول 1440 - 14 نومبر 2018
اردو

حرام طريقہ سے كمائے ہوئے مال كا حكم

33852

تاریخ اشاعت : 05-07-2006

مشاہدات : 4135

سوال

كيا يہ صحيح ہے كہ جس نے حرام كام مثلا شراب كي تيارى ، اور نشہ آور اشياء فروخت اور اس كى ترويج كر كے مال جمع كيا ہو جب اللہ تعالى كے سامنے توبہ كرلے تو وہ مال حلال ہو جاتا ہے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ :

جب اس نے حرام كمائى كى تو اسے اس كى حرمت كا علم تھا تو پھر توبہ كرنے سے وہ مال حلال نہيں ہوتا، بلكہ اسے نيكى بھلائى كے كاموں ميں خرچ كر كے اس مال سے چھٹكارا حاصل كرنا واجب ہے.

اللہ تعالى ہى توفيق بخشنے والا ہے.

واللہ اعلم .

ماخذ: ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 14 / 32 )

تاثرات بھیجیں