Fri 25 Jm2 1435 - 25 April 2014
38264

كيا مسجد ميں روزہ افطار كرنا افضل ہے يا گھر ميں

كيا نماز كے بعد مسجد ميں كھانا افضل ہے يا كہ نماز كے بعد گھر جا كر اہل و عيال كے ساتھ كھانا افضل ہے ؟

الحمد للہ:

اگر تو سائل كى مراد روزہ افطار كرنا ہے، يعنى روزہ دار جو اشياء روزے اور كھانے كے وقت ميں فرق كرنے كے ليے كھاتا ہے تو اس ميں جلدى كرنى مباح ہے، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جب تك لوگ روزہ جلد افطار كرتے رہينگے تو ان ميں خير رہے گى "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 1957 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1098 ).

مزيد تفصيل ديكھنے كے ليے آپ سوال نمبر ( 13999 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

ليكن اگر سائل اس سے مراد نماز كى ادائيگى كے بعد شام كا كھانا مراد لے رہا ہے، تو ميرے علم كے مطابق تو سنت ميں اس كے متعلق كچھ محدود نہيں ہے، ليكن انسان كو مختلف متطلبات ميں توازن اختيار كرنا چاہيے، اس ليے مسجد ميں نمازيوں كے ساتھ كھانا اور روزہ افطار كرنے ميں مسلمانوں كى مصلحت ہے، اور اس سے دلوں ميں محبت و الفت اور وحدت پيدا ہوتى ہے، اور ايك دوسرے سے تعارف ہوتا ہے، اور معاشرے ميں بھائى چارے كى فضاء قائم ہوتى ہے.

اور گھر ميں افراد خانہ كے ساتھ بيٹھ كر روزہ افطار كرنے اور كھانا كھانے ميں گھرانے كے افراد ميں اجتماعيت پيدا ہوتى ہے، اور ان كے حالات كا علم ہوتا ہے، اور خاندان كے افراد كے مابين تعلقات ميں اضافہ ہوتا ہے، اور پھر گھر كے بچوں كو كھانے پينے كے آداب، اور بڑوں كے ساتھ بات چيت كى تعليم بھى حاصل ہوتى ہے، اور اس كے علاوہ خاوند و بيوى كے مابين محبت، اور والدين اور ان كى اولاد كے مابين پيار بڑھتا ہے.

خاندان كے سربراہ كو چاہيے كہ وہ ان سب مصلحتوں كو مدنظر ركھتا ہوا ان كو جمع كرنے كى كوشش كرے، يعنى كچھ ايام اپنے گھر ميں خاندان كے ساتھ افطارى كرنے كے ليے مخصوص كر لے، اور كچھ ايام مسجد ميں نمازيوں كے ساتھ افطارى كرے.

اور اس بات كا خيال ركھے كہ خاندان كا خيال كرنا، اور اپنى اولاد اور بچوں كى ديكھ بھال اور ان كو دين كى تعليم اور دينى آداب سكھانے فرض ہيں، اور مسجد ميں دوست و احباب اور نمازيوں سے صرف ملاقات نفل ہے كيونكہ يہ تو نماز تراويح، يا كسى علمى درس وغيرہ كے موقع پر بھى ہو سكتى ہے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments