3967: کھانے اورصدقہ کرنے میں قربانی تقسیم کرنے کی کیفیت


میری آپ سے گزارش ہے کہ قربانی کے گوشت کوتین حصوں میں تقسیم کرنے والی کوئي حدیث ہے توبیان فرمائيں ؟

الحمد للہ
احاديث نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم میں قربانی کے گوشت کوصدقہ کرنے کے بارہ میں حکم وارد ہے ، اوراسی طرح کھانے اوراسے زخیرہ کرنے کی اجازت بھی وارد ہے ۔

امام بخاری اورمسلم رحمہما اللہ تعالی نے عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا سے بیان کیا ہے کہ وہ فرماتی ہيں :

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دورمیں عیدالاضحی آنے پردیھاتوں سے غریب لوگ جلدی جلدی مدینہ آئے تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تین دن تک گوشت رکھو اورجوباقی بچ رہے اسے صدقہ کردو ، اس کےبعد لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوکہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم :

لوگ اپنی قربانیوں( کے چمڑوں ) سے مشکیزہ تیار کرتے اوراس کی چربی پگلاتے ہیں ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کیوں ؟ وہ کہنے لگے : آپ نے قربانی کا گوشت تین سے زيادہ کھانے سے منع کردیا تھا ، تورسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

میں نے توتمہیں ان آنے والوں کی وجہ سے منع کیا تھا ( جوغریب دیھاتی لوگ مدینہ آئے تھے ) لھذا کھاؤ اورزخیرہ بھی کرو ۔

دیکھیں : صحیح مسلم شریف حدیث نمبر ( 3643 ) ۔

امام نووی رحمہ اللہ تعالی اس حدیث کی شرح کرتے ہیں ہوئے کہتے ہيں : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان :

( میں نے تو تمہيں ان آنے والوں کی وجہ سےروکا تھا ) یہاں پران کمزور اورغریب دیھاتی لوگوں کی غمخواری کرنے کے لیے روکنا مراد ہے ،

قولہ ( یجملون ) یا پرزبر اورمیم پرزير اورپیش کے ساتھ کہا جاتا ہے جملت الدھن واجملتہ اجمالا ای اذبتہ ، یعنی میں نے چربی پگلائي ۔

اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان : ( میں نے توتمہيں ان آنےوالوں کی وجہ سے روکا تھا جوآئے تھے لھذا کھاؤ اورزخیرہ کرو اورصدقہ بھی کرو ) یہ قربانی کا گوشت تین دن سے زيادہ جمع کرنے کی ممانعت ختم ہونے کی صراحت ہے ، اوراس میں کچھ گوشت صدقہ کرنے اورکھانے کا بھی حکم ہے ۔

اورقربانی کے گوشت کے صدقے کے بارہ میں یہ ہے کہ جب قربانی نفلی ہو ہمارے اصحاب کے نزدیک صحیح یہی ہے کہ اس کے گوشت میں سے صدقہ کرنا واجب ہے کیونکہ اس پراس کے نام کا وقوع ہوتا ہے ، اورمستحب یہ ہے کہ اس کا اکثرگوشت صدقہ کردیا جائے ۔

ان کا کہنا ہے : اورکم ازکم کمال یہ ہے کہ ایک تہائي کھائے اورایک تہائي صدقہ کرے اورایک تہائي ھدیہ دے ، اوراس میں ایک قول یہ بھی ہےکہ نصف کھائے اورنصف صدقہ کردے ، اوریہ استحباب میں ادنی قدر کے خلاف ہے ، لیکن کافی ہونے کے اعتبار سے یہ ہے کہ اتنا گوشت صدقہ کرنا جس پراسم صدقہ بولا جاتا ہے جیسا کہ ہم بیان بھی کرچکے ہيں ۔

اوراس گوشت کوکھانا مستحب ہے نہ کہ واجب ، اورجمہورعلماء کرام نے فرمان باری تعالی میں امرکومندوب یا مباح کے معنی میں لیا ہے اورپھریہ حظر کے بعد واقع ہوا ہے

فرمان باری تعالی ہے : { لھذا اس ميں سے کھاؤ } ۔انتھی ۔

اورامام مالک رحمہ اللہ تعالی کہتے ہيں :

خود کھانے اورصدقہ کرنے اورفقراء مساکین کوکھانے کی کوئي حد مقرر نہيں اگروہ چاہے توفقراء ومساکین اورغنی لوگوں کو پکا کرکھلائے یا انہيں کچا گوشت ہی دے دے ۔ دیکھیں : الکافی ( 1 / 424 ) ۔

اورشافعیہ کہتے ہيں :

گوشت کا اکثر حصہ صدقہ کرنا مستحب ہے ، وہ کہتے ہیں : کم ازکم کمال یہ ہے کہ ایک تہائي کھائے اورایک تہائي صدقہ کرے اورایک تہائي ھدیہ دے ، اوروہ کہتے ہيں : نصف بھی کھانا جائز ہے ، اورصحیح یہ ہے کہ اس کا کچھ حص صدقہ کرنا چاہیے ۔ دیکھیں : نیل الاوطار ( 5 /145 ) اورالسراج الوھاج ( 563 )

اورامام احمد رحمہ اللہ تعالی کہتےہیں:

ہم عبداللہ بن عباس رضي اللہ تعالی عنہما کی حدیث کا مذھب رکھتے ہيں جس میں ہے ( وہ خود ایک تہائي کھائے اورایک تہائي جسے چاہے کھلائے ، اورایک تہائي مساکین وغرباء پرتقسیم کردے ) ۔

اسے ابوموسی اصفہانی نے الوظائف میں روایت کیا ہے اوراسے حسن کہا ہے ، اورابن مسعود ، ابن عمررضي اللہ تعالی عنہم کا قول بھی یہی ہے ، اورصحابہ کرام میں سے کوئي ان دونوں کا مخالف نہيں ۔

دیکھیں : المغنی ( 8 / 632 ) ۔

قربانی کے گوشت میں صدقہ کرنے کی واجب مقدار کے بارہ میں اختلاف کاسبب روایات میں اختلاف ہے :

کچھ روایات میں تو معین نسبت کی تعیین ہی نہیں کی گئي مثلا بریدہ رضي اللہ تعالی عنہ کی حدیث جس میں ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( میں نے تمہيں قربانی کے گوشت کوتین دن سے زيادہ کھانے سے منع کیا تھا تا کہ جس کے پاس ہے اسے دے جس کے پاس نہیں ، لھذاتم بھی کھاؤ اوردوسروں کوبھی کھلاؤ اورجمع کرو ) ۔

دیکھیں : سنن ترمذی حدیث نمبر ( 1430 ) امام ترمذي رحمہ اللہ تعالی نے اسے حسن صحیح کہا ہے ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام اوردوسرے اہل علم کا علم بھی اسی پر ہے ۔

واللہ اعلم .

الشیخ محمد صالح المنجد
Create Comments