44980: كيا شرمگاہ سے رطوبت خارج ہونے سے وضوء ٹوٹ جاتا ہے ؟


كيا عورت سے سفيد رطوبت خارج ہونے سے وضوء ٹوٹ جاتا ہے ؟

الحمد للہ:

ظاہر يہى ہوتا ہے كہ سوال كرنے والى كے سوال سے عورت كى شرمگاہ سے خارج ہونے والى رطوبت مراد ہے، اور اس مسئلہ ميں علماء كرام كا اختلاف ہے،اسے ہم ذيل كى سطور ميں دو مسئلوں ميں بيان كرينگے:

پہلا مسئلہ:

كيا يہ رطوبت طاہر ہے يا نجس ؟

پہلا قول:

يہ پاك اور طاہر ہے، امام شافعى اور امام احمد كا مسلك يہى ہے.

دوسرا قول:

يہ نجس اور ناپاك ہے.

پہلا قول راجح ہے، كيونكہ اس رطوبت كے نجس ہونے كى كوئى دليل نہيں، " المغنى ميں ہے:

" اس ليے كہ عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے كپڑوں سے منى جو كہ جماع سے ہوتى تھى كھرچ ديا كرتى تھيں .... اور يہ شرمگاہ كى رطوبت سے ملتى ہے، اور اس ليے بھى كہ اگر ہم عورت كى شرمگاہ كى نجاست كا حكم لگائيں تو پھر اس كى منى كے نجس ہونے كا حكم لگانا ہوگا " اھـ

دوسرا مسئلہ:

كيا يہ رطوبت نواقض وضوء ( وضوء توڑنے والى اشياء ) ميں سے ہے يا نہيں ؟

علماء كرام كے اس مسئلہ ميں دو قول ہيں:

پہلا قول:

يہ وضوء توڑ ديتى ہے، جمہور علماء كرام كا مسلك يہى ہے، انہوں نے اس سے استدلال كيا ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے استحاضہ والى عورت كو ہر نماز كے ليے وضوء كرنے كا حكم ديا تھا، اور يہ رطوبت يا سائل مادہ بھى استحاضہ سے ملحق ہے.

صحيح بخارى ميں عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا سے حديث مروى ہے كہ فاطمہ بنت ابى حبيش رضى اللہ تعالى عنہا نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس آئى اور كہنے لگى: مجھے استحاضہ آتا ہے اور ميں پاك نہيں ہوتى تو كيا ميں نماز ترك كردوں ؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: نہيں يہ تو رگ كا خون ہے، نا كہ حيض كا خون اس ليے جب تجھے حيض آئے تو نماز ترك كردو اور جب حيض ختم ہو جائے تو اپنے سے خون دھوؤ اور پھر نماز ادا كر لو"

راوى كہتے ہيں: ـ يعنى ہشام ـ اور ميرے والد ـ يعنى عروۃ بن زبير ـ نے كہا: پھر ہر نماز كے ليے وضوء كرو حتى كہ وہ وقت آ جائے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 228 ).

فتح البارى ميں وضوء كے حكم كا زيادہ ہونے كے متعلق حافظ ابن حجر رحمہ اللہ كہتے ہيں:

اور بعض نے يہ دعوى كيا ہے كہ يہ الفاظ معلق ہيں، يہ بات صحيح نہيں، بلكہ يہ محمد عن ابى معاويہ عن ہشام كى مذكورہ سند ميں موجود ہيں، اسے امام ترمذى نے اپنى روايت ميں بيان كيا ہے.

اور دوسرے يہ دعوى كرتے ہيں كہ قول: " پھر ہر نماز كے ليے وضوء كرو " عروہ بن زبير كى كلام ہے اور يہ موقوف ہے، ليكن يہ كلام محل نظر ہے اس ليے كہ اگر يہ كلام عروہ بن زبير كى ہوتى تو وہ يہ كہتے: پھر وہ وضوء كرے، يعنى خبر كا صيغہ استعمال كرتے، ليكن جب يہاں امر كا صيغہ استعمال ہوا تو يہ الفاظ بھى اسى ميں شامل ہوئے جو مرفوع الفاظ ہيں جو كہ " اپنا خون دھوؤ " اھـ

ديكھيں: فتح البارى ( 1 / 332 ) ( 1 / 409 ) اور ارواء الغليل ( 1 / 146 - 224 ) بھى ديكھيں.

دوسرا قول:

يہ نواقض وضوء ميں شامل نہيں اور اس سے وضوء نہيں ٹوٹتا، يہ قول ابن حزم رحمہ اللہ كا ہے.

اور اس مسئلہ ميں شيخ الاسلام ابن تيميہ كے پچھلے دو مذہب كى طرح دو قول ہيں، " الاختيارات " ميں لكھا ہے كہ يہ ناقض وضوء نہيں، اور مجموع الفتاوى ميں جمہور كے قول كو اختيار كيا ہے.

ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 21 / 221 ) اور الاختيارات ( 27 ).

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ نے پچھلے دو مسئلوں كے حكم كى تفصيل بيان كرتے ہوئے كہا ہے:

بحث و تمحيث اور تلاش كے بعد مجھے تو يہى ظاہر ہوا ہے كہ عورت سے نكلنے والا سائل مادہ اگر مثانہ سے نہيں نكلا بلكہ وہ رحم سے نكلا ہو تو وہ طاہر اور پاك ہے، اگرچہ وہ طاہر تو ہے ليكن اس سے وضوء ٹوٹ جائيگا، كيونكہ ناقض وضوء ہونے كے ليے نجس ہونا شرط نہيں، ديكھيں دبر سے خارج ہونے والى ہوا جس كا كوئى جسم نہيں، ليكن اس كے باوجود وہ وضوء توڑ ديتى ہے.

اس بنا پر جب عورت كا سائل مادہ اور رطوبت خارج ہو اور وہ وضوء كى حالت ميں ہو تو اس كا وضوء ٹوٹ جاتا ہے، اسے وضوء دوبارہ كرنا ہوگا، ليكن اگر وہ رطوبت مسلسل خارج ہوتى رہتى ہے تو پھر وضوء نہيں ٹوٹتا، ليكن اسے ہر نماز كے ليے وقت شروع ہونے كے بعد وضوء كرنا ہوگا، اور جس فرضى نماز كے وقت ميں اس نے وضوء كيا ہے اس وقت ميں اسى وضوء كے ساتھ وہ فرض نماز اور نوافل ادا كريگى اور قرآن مجيد كى تلاوت بھى اور اس كے علاوہ اس كے ليے جو مباح كام ہيں وہ سرانجام دے جيسا كہ اہل علم نے مسلسل پيشاب آنے كى بيمارى ميں مبتلا شخص كے متعلق بھى اسى طرح كہا ہے.

طہارت كے اعتبار سے اس سائل مادے كا حكم تو يہ ہے كہ وہ طاہر ہے نہ تو وہ بدن كو نجس كريگا اور نہ ہى لباس كو.

ليكن وضوء كے اعتبار سےاس كا حكم يہ ہے كہ وہ ناقض وضوء ہے ليكن اگر سائل مادہ مسلسل خارج ہوتا رہے تو پھر وضوء نہيں ٹوٹتا ليكن عورت نماز كا وقت شروع ہونے سے قبل وضوء نہ كرے، اور اسے لنگوٹ وغيرہ باندھ كر ركھنا چاہيے.

ليكن اگر يہ مادہ كبھى كبھار آتا ہو اور اس كى عادت ہو كہ نماز كے اوقات ميں رك جائے تو پھر اسے نماز اس وقت تك مؤخر كردينى چاہيے حتى كہ مادہ آنا رك جائے، ليكن اگر نماز كا وقت نكلنے كا خدشہ ہو تو پھر لنگوٹ باندھ كر وضوء كر كے نماز ادا كر لے، اور مادہ كم يا زيادہ آنے ميں كوئى فرق نہيں، كيونكہ تھوڑا آئے يا زيادہ وہ سبلين ميں سے ايك سے خارج ہو رہا ہے تو اس طرح اس كا قليل يا كثير ہونا ناقض وضوء ہوگا.

ليكن بعض عورتوں كا يہ اعتقاد ركھنا كہ اس سے وضوء نہيں ٹوٹتا اس كى ميرے علم ميں تو كوئى اصل اور دليل نہيں، صرف ابن حزم رحمہ اللہ كا قول ہے كہ:

اس سے وضوء نہيں ٹوٹتا، ليكن انہوں نے بھى اس كى كوئى دليل بيان نہيں كى، اور اگر ان كے پاس كتاب و سنت يا صحابہ كے اقوال ميں سے كوئى دليل ہوتى تو يہ حجت تھى.

عورت كو اللہ كا تقوى اختيار كرتے ہوئےاپنى طہارت و پاكيزگى كا خيال ركھنا چاہيے، كيونكہ بغير طہارت و پاكيزگى كے نماز قبول ہى نہيں ہوتى چاہيے سو بار بھى نماز كر لى جائے، بلكہ بعض علماء كرام تو يہ كہتے ہيں كہ:

" طہارت كے بغير بے وضوء نماز ادا كرنے والا شخص كافر ہو جاتا ہے، كيونكہ يہ اللہ تعالى كے احكام و آيات كے ساتھ استہزاء اورمذاق ہے.

ديكھيں: مجموع فتاوى ابن عثيمين ( 1 / 284 - 286 ).

مزيد تفصيل كے ليے آپ سوال نمبر ( 7776 ) اور ( 13948 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments