49032: احرام كى حالت ميں كسى دوسرے كا دل ركھنے كے ليے خوشبو قبول كر لى


اگر كسى شخص كو علم ہو كہ احرام كى حالت ميں خوشبو كا استعمال جائز نہيں ليكن اس كے باوجود وہ كسى دوسرے سے خوشبو قبول كر لے تو اس كا حكم كيا ہو گا ؟

الحمد للہ :

محرم شخص كے ليے بدن يا لباس ميں خوشبو استمال كرنا جائز نہيں:

بدن ميں استعمال نہ كرنے كرنے كى دليل احرام كى حالت ميں مرنے والے شخص كے بارہ ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا يہ فرمان ہے:

" اسے پانى اور بيرى كے ساتھ غسل دو، اور اسے دو كپڑوں ميں كفن پہناؤ اور اسے حنوط نہ لگاؤ، كيونكہ اللہ تعالى اسے روز قيامت تلبيہ كہتے ہوئے اٹھائے گا"

صحيح بخارى حديث نمبر ( 1265 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1206)

نبى صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان " ولا تحنطوہ " كا معنى يہ ہے كہ: اسے حنوط يہ لگاؤ، اور حنوط مخلوط خوشبو كو كہتے ہيں جو خاص كر ميت كے ليے تيار كى جاتى ہے، اور كوئى دوسرا استعمال نہيں كرتا.

اور مسلم كى ايك روايت ميں ہے:

" اور اسے خوشبو نہ لگاؤ "

تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس ميت كو حنوط لگانے سے منع كر ديا جو كہ خوشبو ہے، جيسا كہ مسلم كى روايت ميں اس كى وضاحت ہے حالانكہ ميت كے غسل اور كفن ميں خوشبو ركھنا مستحب ہے، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس كى علت بيان كرتے ہوئے فرمايا كہ: يہ روز قيامت تلبيہ كہتے ہوئے اٹھے گا، يعنى اس كى موت كى بنا پراس كا احرام باطل نہيں ہوا جو كہ اس كى دليل ہے كہ محرم شخص كو خوشبو لگانا حرام ہے، اور علماء كرام كا اس پر اجماع ہے.

ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

( اہل علم كا اجماع ہے كہ محرم شخص كو خوشبو لگانى ممنوع ہے ) ديكھيں: المغنى لابن قدامہ ( 5 / 140 ).

اور محرم شخص كے لباس ميں خوشبو نہ لگانے كى دليل نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا يہ فرمان ہے:

" اور تم وہ چيز نہ پہنو جسے زعفران اور ورس لگى ہوئى ہو"

صحيح بخارى حديث نمبر ( 1838 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1177)

ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

( ہم نہيں جانتے كہ اہل علم كے مابين اس ميں كوئى اختلاف ہے )

ديكھيں: المغنى لابن قدامہ المقدسى ( 5 / 142 ).

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى سے ايسے شخص كے متعلق دريافت كيا گيا جس نے احرام باندھ ليا تو اسے كسى دوسرے شخص نے خوشبو لگادى اور اس نے اس كا دل ركھتے ہوئے قبول كر لى حالانكہ اسے علم تھا كہ احرام كى حالت ميں محرم شخص كے ليے خوشبو حرام ہے، تو اس كا حكم كيا ہے ؟

شيخ رحمہ اللہ تعالى كا جواب تھا:

كسى بھى شخص كے جائز نہيں كہ وہ اللہ تعالى كى معصيت ميں كسى دوسرے كا دل ركھے اور اس سے اچھا معاملہ كرتے ہوئے اللہ تعالى كى معصيت ونافرمانى كا ارتكاب كر لے، جب آپ كو خوشبو پيش كى گئى تھى تو آپ پر واجب تھا كہ آپ اسے كہتے: محرم شخص كے ليے خوشبو جائز نہيں.

اور وہ شخص ( جس نے كسى دوسرے كو خوشبو دى ) اس پر ہو سكتا ہے يہ مخفى رہے كہ محرم شخص پر خوشبو كا استعمال حرام ہے، اور ہو سكتا ہے وہ بھول جائے اور آپ كو خوشبو لگا دے ...

اس بنا پر كہ آپ نے ايسا نہيں كيا اور آپ نے اللہ تعالى كى معصيت و نافرمانى ميں مجاملہ كيا آپ پر اپنے اس فعل سے توبہ كرنا واجب ہے، اور علماء كرام كہتے ہيں كہ:

آپ پر تين امور ميں سے ايك كرنا واجب ہو گا: يا تو مكہ ميں ايك بكرى ذبح كريں؛ اور اسے فقراء ميں تقسيم كر ديں.

يا پھر چھ مساكين كو كھانا كھلائيں، اور ہر مسكين كے ليے نصف صاع ہے اور يہ بھى مكہ ميں ہى ديا جائے.

اور يا پھر آپ تين روزے ركھيں، چاہے اپنے ملك اور علاقہ ميں ہى جا كر.

اور ان كا يہ بھى كہنا ہے كہ: جس جگہ ميں ممنوعہ چيز كا ارتكاب كيا گيا ہے وہاں بھى بكرى ذبح كى جاسكتى ہے، اور مسكينوں كو كھانا كھلايا جا سكتا ہے.

ديكھيں: الفتاوى ( 22 / 153 - 154 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments