49829: سٹيٹ بنك كى مرمت كرنے والى كمپنى ميں كام كرنے كا حكم


ميں انجينئر ہوں اور تقريبا دو برس قبل ڈپلومہ حاصل كيا تھا، كسى مناسب سے كام كى تلاش ميں تھا ليكن ابھى تك نہيں مل سكا، الحمد للہ ميرى مالى حالت اچھى ہے، اور ميں والد كے ساتھ رہائش پذير ہوں، ليكن اللہ تعالى سے چاہتا ہوں كہ مجھے كوئى كام مل جائے جس كى بنا پر ميں بغير كام كاج كے بيٹھنے كى سوچ سے نكل سكوں.
اب مجھے ايك كمپنى ميں كام مل رہا ہے جو سٹيٹ بنك كى تعمير و مرمت وغيرہ كا كام كرتى ہے، اس ميں كام سالانہ معاہدہ اور اچھى تنخواہ پر ہو گا، تو كيا اس كمپنى ميں ملازمت كرنے كا حكم بھى ايك بنك ميں ملازمت كے حكم كے مطابق ہى ہے؟
آپ سے ميرى گزارش ہے كہ مجھے جواب سے نوازيں، اور اگر ميں كمپنى كے سامنے يہ شرط ركھوں كہ ميں بنك ميں نے بنك ميں كام نہيں كرنے بلكہ مجھے كہيں اور منتقل كر ديا جائے، تو كيا پھر بھى اس پر وہى حكم لگے گا ؟
يہ علم ميں ركھيں كہ ابھى تك ميں نے كام شروع نہيں كيا.

الحمد للہ:

آپ كے ليے سٹيٹ بنك ميں كام كرنا جائز نہيں، نہ تو بلاواسطہ بنك ميں ہى اور نہ ہى كمپنى كے ذريعہ جو بنك كى اشياء صحيح كرنے كى ذمہ دار ہے؛ كيونكہ ايسا كرنے ميں گناہ معصيت اور ظلم و زيادتى ميں معاونت ہے.

اور يہى سٹيٹ بنك باقى سب بنكوں كا ذمہ دار اور مسئول ہے، اور سودى شرح كى تحديد كرنا، اور بنك كے نظام كى مخالفت كرنے والوں كا محاسبہ بھى يہى بنك كرتا ہے، اور باقى بنكوں كے ليے ايسے قوانين وضع كرتا ہے جو شريعت الہى كے خلاف ہيں.

لھذا اگر آپ كسى مينٹيننس كمپنى ميں كام كرتے ہيں تو اس ميں كوئى مانع نہيں كہ آپ ان كمپنيوں كے آلات اور ان كى تعمير كريں جو مباح كام كرتى ہيں، اور شرعى احكام كے عين مطابق ہيں، حتى كہ اگر آپ كى كمپنى ميں كئى ايك قسميں ہيں جو ايسى كمپنيوں اور اداروں كى مرمت وغيرہ كرتى ہيں جو ان كے حلال نہيں.

ليكن اہم يہ ہے كہ آپ اس فرع اور قسم ميں كام قبول نہ كريں، اور كسى دوسرى قسم ميں كام كرنے كا مطالبہ كريں جو شرعا مباح اور حلال ہے.

اسى ويب سائٹ ميں سودى بنكوں، اور سودى بنكوں كى مرمت وغيرہ كرنے والى كمپنيوں ميں ملازمت كرنے اور ان كے ليے پروگرام تيار كرنے كے متعلق كئى ايك فتوى جات موجود ہيں، جن ميں ہم نے ان اعمال كے حرام ہونے كے متعلق اہل علم كى كلام ذكر كى ہے، اور وہ بالكل بلكہ اس سے بھى شديد طور پر ان بنكوں كا خيال ركھنے والے ادارہ اور كمپنى پر منطبق ہوتا ہے.

آپ مزيد تفصيل كے ليے سوال نمبر ( 21113 ) اور ( 21166 ) اور ( 26771 ) كے جوابات ضرور ديكھيں يہ بہت اہم ہيں.

اللہ تعالى ہى توفيق بخشنے والا ہے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments