Mon 21 Jm2 1435 - 21 April 2014
50112

رمضان میں منعقد ہونے والے فٹ بال ٹورنامنٹ کا حکم

رمضان میں ہونے والے فٹ بال ٹورنامنٹ کا کیا حکم ہے ؟

الحمد للہ
مومن کے لائق تو یہی ہے کہ وہ خیر وبھلائي کےموسموں کوموقع غنیمت جانتے ہوئے اس خیروبھلائي کے موسم میں اپنے رب کی زيادہ سے زيادہ اطاعت وفرمانبرداری کرے ۔

اوران میں سب سے افضل اوربہتر موسم رمضان المبارک کا مہینہ ہے ، مسلمان اس ماہ مبارک میں کتنی زيادہ اطاعت کرتا ہے جس کا اجرو ثواب اوربھی زيادہ کردیا جاتا ہے ۔

ماہ رمضان تو روزے رکھنے اورقیام کرنے اورتلاوت قرآن اوراللہ تعالی کا ذکر واذکار اوراس طرح صدقہ وخیرات اورروزہ دار کی افطاری کروانے اورمساکین کے ساتھ رحم کرنے کا مہینہ ہے ، اسی ماہ مبارک میں مساجد میں اعتکاف کرتےہوئے دنیا سے الگ تھلگ ہو کر اللہ تعالی سے خاص لگاؤ لگایا جاتا ہے اوراس کی عبادت میں مصروف ہوا جاتا ہے ۔

اس کے فضائل توشمار ہی نہیں کیے جاسکتے ، اوراتنے معروف و مشہور ہيں کہ ان کا تذکرہ ہی نہیں کیا جاسکتا ۔

اس ماہ مبارک کی ہررات اللہ تعالی کچھ لوگوں کو جہنم سے آزادی دیتے ہيں ، اس میں جنت کے دروازے کھل جاتے اورجہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہيں ، شیطان جکڑ دیے جاتے ہیں ، گناہوں کے بخشش کے بہت سارے اسباب ہیں جن میں روزہ رکھنا ، اورلیلۃ القدر کا قیام بھی شامل ہے ۔

محروم تو وہی شخص ہے جو اس ماہ مبارک کی خیر وبھلائي سے ہی محروم ہورہے ، اورحقیقتا خائب وخاسر اورنقصان میں تو وہی شخص ہے جس سے یہ پورا مہینہ ختم ہوجائے اوروہ اپنے گناہ ہی معاف نہ کرواسکے ، لھذا اگر اس کے گناہ رمضان میں معاف نہيں ہوئے تو اور کب معاف ہونگے !!

اوراگر وہ ماہ رمضان میں اللہ تعالی کی طرف متوجہ نہيں ہوتا اوراس کی طرف رجوع نہيں کرتا تواور کب اللہ تعالی کی طرف رجوع کرے گا ؟ !

اوراسی لیے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( وہ شخص ذلیل ورسوا ہو جس کے پاس رمضان کا مہینہ آیا اورختم بھی ہوگيا لیکن اس کے گناہ معاف نہ ہوسکے ) سنن ترمذی حدیث نمبر ( 3545 ) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح سنن ترمذی میں اسے صحیح قرار دیا ہے

اورجب وہ ماہ رمضان میں اپنے اوقات کواللہ تعالی کی اطاعت میں صرف کرنا غنیمت نہيں سمجھے گا تو کب وہ غنیمت سمجھے گا ؟ !

مسلمان شخص تو اس ماہ مبارک میں ایک اطاعت کے بعد دوسری اطاعت کرتا ہے ، اورایک عبادت بجالانے کے بعد دوسری عبادت میں مشغول ہوتا ہے ، کبھی تونماز کی ادائيگي اورکہیں قرآن مجید کی تلاوت اورتسبیح و تحمید اوراذکار میں مصروف رہتا ہے ۔

اورکہیں روزہ دار کی افطاری میں مشغول ہے ، اوررات کے وقت تراویح اورتھجد اورسحری کے وقت توبہ واستغفار میں لگا رہتا ہے ۔۔ الخ

سوال نمبر ( 26869 ) کے جواب میں رمضان المبارک کے متعلق مسلمان شخص کےلیے ایک مختصر سا پروگرام اورخاکہ پیش کیا گيا ہے آپ اس کا مطالعہ ضرور کریں ۔

تومومن شخص اس ماہ مبارک میں ایسا وقت کب پاتا ہے کہ وہ اپنے اس قیمتی وقت کو ضا‏ئع کرے ، اللہ کی قسم اگر اوقات فروخت کیے جاتے ہوتے تو عقلمند حضرات تواسے خریدنے کے لیے ہر قیمتی چيز کوخرچ کرڈالتے ، وقت انسان کی زندگي اورعمر ہے جسے لامحالہ ختم ہونا ہے ۔

لھذا کچھ لوگ تو ایسے ہیں جو اسے اللہ تعالی اطاعت وفرمانبرداری میں صرف کرتے ہيں اورکچھ ایسے بھی ہیں جواپنے اوقات اورزندگي کو شیطان اوراپنی خواہشات میں خرچ کرتے ہیں ، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ہے :

( سب لوگ کوشش اورعمل کرتے ہیں کچھ تواپنے آپ کو(اللہ کے لیے) بیچ کر(جہنم سے ) آزاد کروالیتے ہيں اورکچھ ( شیطان کے پیچھے چل کر) ہلاک کرلیتے ہیں ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 223 ) ۔

امام نووی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ : ہرانسان عمل اورکوشش کرتا ہے کچھ تواپنے آپ کو اللہ تعالی کی اطاعت کےساتھ بیچ کر اپنے آپ کواللہ تعالی کے عذاب سے بچا لیتے ہیں ، اورکچھ وہ بھی ہیں جواسے شیطان اوراپنی خواہشات کی لیے بیچ دیتے ہیں اوران کی اطاعت کرکے اپنے آپ کو ہلاک کرلیتے ہیں ۔

اس ماہ مبارک کی بنسبت ان سب کھیلوں میں کم از کم یہی کہا جاسکتا ہے کہ یہ وقت کیا ضياع ہیں ، اور انسان کے پاس وقت سے قیمتی کوئي چيز نہیں جواس کی عمر اور زندگی ہے ۔

شاعر نے کیا ہی خوب کہا ہے :

وقت سب سے زيادہ قیمتی ہے جس کی حفاظت کا خیال کیا جاتا ہے ، اورمیں دیکھتا ہوں کہ تیرے نزدیک تو سب سے زيادہ آ‎سانی سے ضائع ہونے والی چيز ہی وقت ہے !

پھر یہ بھی ہےکہ ماہ رمضان المبارک کو ہی ان کھیلوں کے لیے کیوں خاص کیا جاتا ہے ، اورشعبان یا رجب اورشوال میں کیوں نہیں منعقد کرائے جاتے ؟

رمضان المبارک میں ہی مختلف چینل فلمیں اورڈرامیں کیوں پیش کرتے ہیں اوراس کا خصوصی اہتمام کیوں کیا جاتاہے ، حتی کہ بہت سارے لوگوں کے ذہن میں تو راسخ ہوچکا ہےکہ رمضان المبارک فٹ بال اورفلموں اورڈراموں وغیرہ کا مہینہ ہے ۔۔۔۔ الخ ۔

اوریہ لوگ اللہ تعالی کی طرف سے فرض کردہ روزوں کی حمکت سے دور ہوگئے اورغا‏ئب رہے روزوں کی حکمت کے بارہ میں اللہ تعالی نے فرمایا :

{ اے ایمان والو تم پر روزے رکھنے فرض کیے گئے ہيں جس طرح کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تا کہ تم تقوی اختیار کرو } البقرۃ ( 183 ) ۔

یہ لوگ اللہ تعالی کی اطاعت کرنے اوراس کے تقوی اور اللہ تعالی کےحرام کردہ کاموں سے کہاں ہیں ؟

لھذا مومن کے لیے ضروری ہے کہ وہ عقملندی کا مظاہرہ کرے اوراپنے نفس اورخواہشات کی پیروی نہ کرے وگرنہ اسے اس وقت ندامت کا سامنا کرنا پڑے گا جب ندامت کچھ فائدہ نہيں دے سکے گي ۔

وہ شخص ذلیل وخوار ہوا اوراس کا ناک مٹی میں مل گیا جس نے ماہ رمضان المبارک کو کھیل کود اور اللہ تعالی کی اطاعت کے بغیر کسی اورچيز میں راتیں گزار کربسر کردیں حتی کہ رمضان المبارک کا مہینہ ختم ہوگیا اوراسے اللہ تعالی کی جانب سے سوائے دوری اورگناہ کے کچھ حاصل نہ ہوا ۔

ایسے شخص کا ناک خاک آلودہ ہوا وہ ذلیل وخوار ہوگيا اوراس ذلت کے علاوہ اسے کچھ بھی نہ ملا ۔

ہم اللہ تعالی سے دعا گوہيں کہ وہ مسلمانوں کے حالات کی اصلاح فرمائے ، اورانہیں بہتر اوراچھے انداز میں ان کے دین کی طرف لوٹائے ، اورہمیں رمضان المبارک تک پہنچائے اور احسن انداز میں اپنی اطاعت وعبادت کرنے میں مدد فرمائے ، اورہم سے ہماری عبادت قبول منظور فرمائے ، یقینا اللہ تعالی قریب اوردعا کو قبول کرنے والا ہے ۔

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments