5522: ذبیح کا قصہ


مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق یہ ہے کہ اللہ تعالی کے نبی ابراھیم علیہ السلام اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنا چاہتے تھے ، میرے اورایک کافر کے درمیان بحث ہوگئ تو اس کافر نے یہ کہا کہ اس کا ذکر قرآن کریم میں نہیں ہے ۔
تواسے بحث وتمحیث کے بعد مجھ پر یہ واضح ہوا کہ جس بیٹے کو ذبح کرنا چاہتے تھے اس کے متعلق صحیح پتہ نہیں چلتا ( اس مترجم نسخہ کے مطابق جواس کے پاس ہے ) سورۃ نمبر ( 37 )
آپ سے گزارش ہےکہ ابراھیم علیہ السلام اورقربانی کے متعلق مسلمانوں کا موقف دلائل کے ساتھ واضح کریں ؟

الحمد للہ
اللہ تعالی نے اپنے بندے اورخلیل ابراھیم علیہ السلام کے متعلق ارشاد فرمایا ہے :

{ اور اس (ابراھیم علیہ السلام ) نے کہا میں توھجرت کرکے اپنے پروردگار کی طرف جانے والاہوں وہ ضرورمیری راہنمائ کرے گا ، اے میرے رب ! مجھے نیک بخت اولاد عطافرما ، تو ہم نے اسے ایک برد بار اور حلیم بچے کی بشارت دی ، پھر جب وہ بچہ اتنی عمر کوپہنچا کہ اس کے ساتھ چلے پھرے ، تو اس نے (ابراھیم علیہ السلام ) نے کہا اے میرے بیٹے ! میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ تجھے ذبح کررہا ہوں،اب تو بتا کہ تیری کیا راۓ ہے ؟ بیٹے نےجواب دیا ابا جان ! جو حکم ہوا ہے اسے بجا لایۓ ان شاءاللہ آپ مجھے صبرکرنے والوں میں سے پائيں گے ، غرض جب دونوں مطیع ہوگۓ اور اس نے (باپ نے ) اس کو( بیٹے کو ) کروٹ کے بل لٹادیا،تو ہم نے آواز دی کہ اے ابراھیم ! یقینا تونے اپنے خواب کوسچا کر دکھایا ، بیشک ہم نیکی کرنے والوں کواسی طرح جزا دیتے ہیں ، درحقیقت یہ کھلا امتحان تھا ، اور ہم نےایک بڑاذبیحہ اس کے فدیہ میں دے دیا ، اورہم نے ان کا ذکر خیر بعد میں انے والوں کے اندر باقی رکھا ، ابراھیم علیہ السلام پر سلام ہو ، ہم نیکوکاروں کواسی طرح بدلہ دیتے ہیں ، بیشک وہ ہمارے ایمان داربندوں میں سے تھا ، اورہم نے اس کو اسحاق علیہ السلام نبی کی بشارت دی جو کہ صالح لوگوں میں سے ہوگا ، اورہم نے ابراھیم واسحاق علیہما السلام پر برکتیں نازل فرما‏‏ئيں ، اوران دونوں کی اولاد میں بعض تو صالح ومحسن اور بعض اپنے نفس پر صریح ظلم کرنے والے ہیں } الصافات ( 99- 113 )

ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہيں :

اللہ تعالی اپنے خلیل ابراھیم علیہ السلام کے متعلق ذکر کرتے ہوۓ فرماتے ہیں کہ جب انہوں نے اپنی قوم کے ملک سے ھجرت کی تو اللہ تعالی سے سوال کیا کہ وہ انہیں صالح اولاد عطا کرے ، تواللہ تعالی نے ایک حلیم وبردبار بچے کی خوشخبری دی جوکہ اسماعیل علیہ السلام ہیں کیونکہ وہ ہی پہلے بچے ہیں جوکہ (ابراھیم خلیل علیہ السلام ) کے ھاں پیدا ہوۓ ، اوریہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس میں اہل ملل کےدرمیان کوئ اختلاف نہیں پایا جاتا کہ (اسماعیل علیہ السلام ) ان کے پہلے بیٹے ہیں ۔

اوراللہ تعالی کا یہ فرمان کہ ( پھر جب وہ بچہ اتنی عمر کوپہنچا کہ اس کے ساتھ چلے پھرے ) یعنی جب وہ جوان ہوا اور اپنے والد کے کام آنے لگا ، مجاھد کہتے ہیں کہ جب وہ اس کےساتھ چلنے پھرنے لگا ، یعنی جوان ہوگیا اورسفر کرنے اوراتنی طاقت آگئ کہ جوکچھ اس کا والد کرتاہے اس میں ھاتھ بٹانے لگا جب یہ کچھ ہو تو ابراھیم علیہ السلام نے یہ خواب دیکھا کہ انہیں انکے اس بیٹے کوذبح کرنے کاحکم دیا جارہا ہے ۔

اورحدیث شریف میں وارد ہے ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ مرفوعا بیان کرتے ہیں کہ < انبیاء کی خوابیں وحی ہوتی ہیں > اوراللہ تعالی کی طرف سے یہ ایک امتحان تھا کہ اس کا خلیل وہ اپنے عزیز ترین بیٹے کوجوکہ اسے بڑھاپے میں ملا ہے ، اور جب اس بات کا حکم دیا گیا کہ اسے اوراس کی ماں کوایسی جگہ پر چھوڑ دیں جو بے آب وگياہ اورچٹیل میدان ہو ، اورایسی وادی میں جہاں پر نہ توکوئ انس کرنے والا اورنہ ہی حرکت ہو ، اورکھیتی اورجانور ہو تواس نے ان کے بڑھاپے کواورزیادہ کردیا لیکن اس کے باوجود انہوں نے اللہ تعالی کے حکم پر عمل کیا اورانہیں وہاں اللہ تعالی کے سہارے اس پر توکل کرتے ہوۓ وہاں چھوڑ دیا ، تو اللہ تعالی نے ان کے لۓ اس تنگی سے نجات پیدا کردی اور انہیں ایسا رزق عطافرمایا جس کا وہ گمان بھی نہیں کرسکتے تھے ۔

پھر اللہ تعالی نے اس سارے معاملے کے بعد اپنے خلیل کو وہ بیٹا ذبح کرنے کا حکم دیا جوکہ اس کا اکلوتا اور پہلا تھا جس کے علاوہ اور کوئ بچہ نہیں تو پھر اس کا جواب دیتے ہوۓ اور اللہ تعالی کاحکم ماننے میں جلدی کرتے ہوۓ یہ سارا معاملہ اپنے اس بیٹے کے سامنے رکھا تاکہ اس کے دل میں یہ بات اسان ہوجاۓ اس کے بدلے کہ وہ اسے مجبورکرکے پکڑے اور زبردستی کرتے ہوۓ ذبح کردے :

{ تو اس نے (ابراھیم علیہ السلام ) نے کہا اے میرے بیٹے ! میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ تجھے ذبح کررہا ہوں،اب تو بتا کہ تیری کیا راۓ ہے ؟ }

توبردبار اورحلیم بیٹے نے جلدی سے جواب دیا :

{ بیٹے نےجواب دیا ابا جان ! جو حکم ہوا ہے اسے بجا لایۓ ان شاءاللہ آپ مجھے صبرکرنے والوں میں سے پائيں گے }

تویہ جواب انتہائ سیدھا اوراللہ تعالی اوروالد کی اطاعت ہے ، اللہ تعالی کا فرمان ہے : { غرض جب دونوں مطیع ہوگۓ اور اس نے (باپ نے ) اس کو( بیٹے کو ) کروٹ کے بل لٹادیا } اسلما کے معنی کے متعلق کہا گیا ہے یعنی جب وہ دونوں اللہ تعالی کے حکم کے سامنے جھک گۓ اور اس پرعمل کرنے کا پختہ عزم کرلیا ، اور تلہ للجبین ، کا معنی یہ ہے کہ اسے چہرے کے بل لٹا دیا ، ایک قول ہے کہ اسے گدی کی جانب سے ذبح کرنے کا ارادہ کیا تا کہ وہ ذبح کرتےہوۓ اس کے چہرے کو نہ دیکھے یہ قول ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ اورمجاھد اور سعید بن جبیر اور قتادہ اورضحاک رحمہم اللہ تعالی جمیعا کا ہے ۔

اوراسلما ، کا معنی ہے ، یعنی ابراھیم علیہ السلام نے تکبیر کہی اوربیٹے نے موت کے لۓ کلمہ شھادت پڑھا سدی وغیرہ کا کہنا ہے کہ اس کے حلق پر چھری چلائ لیکن اس نے کچھ بھی نہ کاٹا اوریہ بھی کہا جاتاہے کہ چھری اورحلق کے درمیان تامبے کی پلیٹ حائل کردی گئ تھی ،واللہ تعالی اعلم ، تو اس وقت اللہ تعالی کی طرف سے یہ آواز دی گئ :

{ تو ہم نے آواز دی کہ اے ابراھیم ! یقینا تونے اپنے خواب کوسچا کر دکھایا } یعنی آپ کے امتحان اوراللہ تعالی کی اطاعت کی طرف جلدی کرنے کا مقصدپورا ہوگیا وہ اس طرح کہ تیرابیٹا قربانی کےلۓ اورتیرابدن آگ کے لۓ اور تیرامال مہمانوں کے لۓ خرچ ہونا یہ سب امتحان ہے ، تواسی لۓ اللہ تعالی نے فرمایا :

{ درحقیقت یہ کھلا امتحان تھا } یعنی واضح اورظاہر امتحان ۔

اوراللہ تعالی کا یہ فرمان : { ، اور ہم نےایک بڑاذبیحہ اس کے فدیہ میں دے دیا } یعنی اس کے بیٹے کے ذبح کے بدلے میں اللہ تعالی نے جو اس کے لۓ بطور عوض آسان کردیا ، اور جمہور علماء سے مشہور یہ ہے کہ وہ عوض اورفدیہ وہ سفید رنگ کا موٹا تازہ سینگوں والا مینڈھا تھا ، امام ثوری رحمہ اللہ تعالی نے عبد اللہ بن عثمان بن خیثم عن سعید بن جبیر عن ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کہ ابن عباس بیان کرتے ہیں وہ مینڈھا چالیس سال تک جنت میں چرتا رہا ۔

اور ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے یہ بھی روایت کیا جاتا ہے کہ اس مینڈھے کا سر ابھی تک کعبہ کے پرنالے کے پاس لٹک رہا ہے ، تو یہ اکیلی ھی اس بات کی دلیل ہےکہ ذبیح اسماعیل علیہ السلام ہی ہیں کیونکہ وہ ہی مکہ میں مقیم تھے اور اسحاق علیہ السلام کے متعلق ہمیں یہ علم نہیں کہ وہ بچپن میں مکہ تشریف لاۓ ہوں ، واللہ تعالی اعلم ۔

دیکھیں البدایۃ والنھایۃ لابن کثیر ( 1/ 157- 158 )

توجیسا کہ اوپریہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ذبیح اسماعیل علیہ السلام ہیں ناکہ اسحاق علیہ السلام اورابن کثیر رحمہ اللہ تعالی نے ان آیات کی تفسیر میں اس کا ذکر کیا ہے کہ کئ ایک وجوھات سے یہ ثابت ہوتاہے کہ ذبیح اسماعیل علیہ السلام ہیں اس کا خلاصہ ہم یہاں پیش کررہے ہیں :

1 - یہ کہ اسماعیل علیہ السلام پہلے بیٹے ہیں جن کی ابراھیم علیہ السلام کو خوشخبری دی گئ ، اورپھرمسلمانوں اور اھل کتاب کے ھاں متفقہ طورپر وہ اسحاق علیہ السلام سے بڑے ہیں اوراھل کتاب کے ھاں یہ ذکر کیاگیاہے کہ بیشک اللہ تعالی نے ابراھیم علیہ السلام کو یہ حکم دیا کہ وہ اپنے اکلوتے بیٹے کوذبح کریں اور ایک نسخہ میں پہلے بیٹے کے الفاظ ہیں ۔

2 – یہ کہ جوپہلا بچہ ہو اور اس کے بعد اورکوئ اولاد نہ ہو توابتلاء اورامتحان کے اعتبار سے اس کے ذبح کا حکم زیادہ سخت ہوتاہے ۔

3 - یہ کہ اللہ تعالی نے جوبشارت دی ہے اس میں غلام حلیم یعنی بردبار بچے کا ذکرکیا ہے اوراس کے بعد یہ فرمایا :

{ اورہم نے اسے نبی اسحاق (علیہ السلام ) کی خوشخبری سنائ جوکہ صالحین میں سے تھا } اورفرشتوں نے جب ابراھیم علیہ السلام کو اسحاق علیہ السلام کی خوشخبری سنائ تو انہوں نے یہ کہا : { بیشک ہم نے تجھے ایک علیم بچے کی خوشخبری دی } ۔

4 - اور یہ کہ اللہ تعالی نے فرمایا :

{ توہم نے اسے اسحاق (علیہ السلام) کی خوشخبری سنائ ، اوراسحاق (علیہ السلام ) کے بعد یعقوب (علیہ السلام ) کی بھی } یعنی ان دونوں کی زندگی میں ہی بچہ پیدا ہوگا جس کا نام اسحاق رکھا جاۓ گا ، اوراس کاجانشین بھی ہوگا ،اس کی نسل ميں سے آگے نسل چلے گی اوراورلاد پیدا ہوگی ۔

تواس بیان کے بعد یہ جائز نہیں کہ اسے بچپن ہی میں ذبح کرنے کا حکم دے دیا جاۓ کیونکہ اللہ تعالی نے ان دونوں سے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ اس کی جانشینی اورنسل ہوگی ۔

5 - اورپھر یہ بات بھی ہے کہ اسماعیل علیہ السلام کو یہاں پر حلیم کے وصف سے متصف کیا گیا ہے کیونکہ یہ حلم کا وصف ہی جگہ پر مباسب ہے ۔

تفسیرابن کثیر ( 4/ 15 ) ۔

واللہ تعالی اعلم .

الشیخ محمد صالح المنجد
Create Comments