Sat 19 Jm2 1435 - 19 April 2014
59928

استنجاء افضل ہے يا پتھر استعمال كرنے ؟

كيا پانى كى موجودگى ميں پتھر يا ٹشو پيپر كے ساتھ استنجاء كرنا صحيح ہے ؟
اور اگر صحيح ہے تو اس كى دليل كيا ہے، اور پانى سے استنجاء كرنا افضل ہے يا كہ پتھر استعمال كرنے ؟

الحمد للہ:

علماء كرام كا اس ميں كوئى اختلاف نہيں كہ اگر پانى موجود بھى ہو تو پتھر يا ٹشو پيپر كے ساتھ استنجاء كرنا صحيح ہے.

اس كى دليل صحيح بخارى اور صحيح مسلم كى درج ذيل حديث ہے ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جو شخص وضوء كرے تو وہ ناك كو جھاڑے اور جو پتھر استعمال كرے وہ طاق پتھر استعمال كرے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 159 ) صحيح مسلم حديث نمبر( 237 )

ابن قيم رحمہ اللہ نے " اغاثۃ اللھفان " ميں مسلمانوں كا اجماع نقل كيا ہے كہ گرميوں اور سرديوں ميں پتھر كے ساتھ استنجاء كرنا جائز ہے.

ديكھيں: اغاثۃ اللھفان ( 1 / 151 ).

پتھر يا مٹى كے ڈھيلے وغيرہ كے ساتھ استنجاء كرنے ميں شرط يہ ہے كہ: تين بار گندگى والى جگہ كو صاف كيا جائے حتى كہ اچھى طرح صفائى ہو جائے، اس كى دليل مسلم شريف كى درج ذيل حديث ہے:

سلمان فارسى رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ:

" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ہميں تين پتھروں سے كم كے ساتھ استنجاء كرنے سے منع فرمايا "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 262 ).

ليكن پانى كے ساتھ استنجاء كرنا افضل اور بہتر ہے اس كى دليل صحيح مسلم اور سنن نسائى كى درج ذيل حديث ہے، ذيل كے الفاظ سنن نسائى كے ہيں:

انس بن مالك رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم جب بيت الخلاء جاتے تو ميں اور ميرے جيسا ايك اور لڑكا پانى كا برتن اٹھا كر لے جاتے تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم پانى كے ساتھ استنجاء كرتے "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 271 ) سنن نسائى حديث نمبر( 45 ).

" اداوۃ " چمڑے كا ايك چھوٹا سا برتن ہے.

ابن قدامہ رحمہ اللہ " المغنى " ميں لكھتے ہيں:

" اور اگر كوئى شخص ان دونوں اشياء ميں سے كسى ايك پر اقتصار كرنا چاہے تو پانى افضل ہے، كيونكہ حديث ميں بيان ہوا ہے، اور اس ليے بھى كہ يہ گندگى والى جگہ كو پاك صاف كر ديتا ہے، اور بعينہ نجاست اور اس كا اثر زائل كرنے كا باعث ہے، اور پھر صفائى ستھرائى ميں بھى زيادہ بليغ اور بہتر ہے.

اور اگر وہ پتھر استعمال كرنے پر اقتصار كرنا چاہے تو اہل علم كے بغير كسى اختلاف كے ايسا بھى كرنا جائز ہے؛ كيونكہ اس كے متعلق بھى ہم احاديث بيان كر چكے ہيں؛ اور اس پر صحابہ كرام رضى اللہ عنہم كا اجماع ہے " اھـ

ديكھيں: المغنى ابن قدامہ ( 1 / 206 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments