Thu 24 Jm2 1435 - 24 April 2014
60013

عتيرہ اور اس كاحكم

عتيرہ كيا چيز اور اس كا حكم كيا ہے ؟

الحمد للہ:

العتيرہ وہ ذبيحہ ہے جو اہل جاہليت رجب كے مہينہ ميں ذبح كيا كرتے تھے، اور انہوں نے اسے اپنے درميان ذبح كرنا سنت اور طريقہ بنا ليا تھا، جس طرح كہ ہم عيد الاضحى پر قربانى كرتے ہيں.

اور اس كے حكم ميں علماء كرام كا اختلاف پايا جاتا ہے، ان كے اختلاف كا سبب اس سلسلہ ميں وارد احاديث ميں اختلاف ہے، كچھ احاديث ميں اس كا حكم ديا گيا ہے اور كچھ ايسى احاديث ہيں جن ميں اس كى رخصت دى گئى ہے، اور كچھ احاديث ميں اس سے منع كيا گيا ہے.

ليكن علماء كرام كے صحيح اقوال ـ جيسا كہ آگے بيان ہو گيا ـ كے مطابق جن احاديث ميں اس كا حكم اور رخصت دى گئى تو يہ ابتدائى دور ميں تھا، پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس كى ممانعت كر دى.

اس كے حكم ميں علماء كرام كے كئى ايك اقوال ہيں:

پہلا قول:

امام شافعى رحمہ اللہ كے قول كے مطابق يہ سنت مستحبہ ہے، انہوں نے درج ذيل دلائل سے استدلال كيا ہے:

1 - مسند احمد اور سنن نسائى ميں عمرو بن شعيب عن ابيہ عن جدہ سے مروى ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے العتيرہ كے متعلق سوال كيا گيا تو آپ نے فرمايا:

عتيرہ حق ہے "

مسند احمد حديث نمبر ( 6674 ) سنن نسائى حديث نمبر ( 4225 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح الجامع حديث نبر ( 4122 ) ميں اس حديث كو حسن قرار ديا ہے.

2 - مسند احمد اور سنن ترمذى ميں مخنف بن سليم رضى اللہ تعالى عنہ سے مروى ہے وہ بيان كرتے ہيں كہ:

ہم نبىكريم صلى اللہ عليہ وسلم كے ساتھ ميدان عرفہ ميں وقوف كر رہے تھے تو ميں نے يہ فرماتے ہوئے سنا:

" لوگو ہر گھر والے پر ہر سال قربانى اور عتيرہ ہے، كيا تم جانتے ہو كہ عتيرہ كيا ہے ؟

يہ وہى ہے جسے تم رجبيہ كا نام ديتے ہو "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 2788 ) سنن ترمذى حديث نمبر ( 1518 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نےصحيح ابو داود ميں اسے حسن قرار ديا ہے.

3 - امام نسائى نے حارث بن عمرو سے بيان كيا ہے كہ ايك شخص نے عرض كيا: اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم العتائر كيا ہے ؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے جواب ديا:

" جو چاہے عتيرہ ذبح كرے، اور جو چاہے نہ كرے "

سنن نسائى حديث نمبر ( 4226 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے ضعيف سنن نسائى ميں اسے ضعيف قرار ديا ہے.

ديكھيں: المجموع ( 8 / 445 - 446 ).

دوسرا قول:

يہ مكروہ نہيں بلكہ مستحب ہے، بعض شافعى اس كے قائل ہيں جيسا كہ امام نووى رحمہ اللہ نے اپنى كتاب المجموع ميں بيان كيا ہے.

ديكھيں: المجموع ( 8 / 446 ).

تيسرا قول:

يہ مكروہ ہے كيونكہ نبىكريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس سےمنع فرمايا ہے، اور بعض اسے حرام اور باطل قرا ديتے ہيں.

ان كا كہنا ہے: رخصت اور حكم والى احاديث ابتدائى دور كى ہيں پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس سے منع كر ديا تو يہ منسوخ ہو گيا ہے.

امام نووى رحمہ اللہ نے قاضى عياض سے يہ قول نقل كيا ہے كہ:

" جمہور علماء كرام كے ہاں عتيرہ كا حكم منسوخ ہے "

ديكھيں: شرح مسلم ( 13 / 137 ).

اس كى حرمت پر انہوں نے درج ذيل دلائل سے استدلال كيا ہے:

1 - بخارى اور مسلم ميں ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ سے مروى ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" نہ تو فرع ہے اور نہ ہى عتيرہ "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5474 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1976 ).

الفرع اونٹنى كے سب سے پہلے بچے كو كہتے ہيں جو وہ اپنے بتوں كے ليے ذبح كرتے تھے.

2 - العتيرہ جاہليت والوں كا عمل تھا اور جاہليت كے لوگوں كى عبادت ميں ان كى مشابہت كرنى جائز نہيں كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جس نے كسى قوم سے مشابہت اختيار كى تو وہ انہيں ميں سے ہے "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 4031 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے ارواء الغليل حديث نمبر ( 1269 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

العتيرہ كى مشروعيت پر دلالت كرنے والى احاديث ذكر كرنے كے بعد ابن قيم رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" ابن منذر ـ العتيرہ والى احاديث ذكر كرنے كے بعد ـ رحمہ اللہ كہتے ہيں: عرب دور جاہليت ميں يہ عمل كيا كرتے تھے، اوربعض اہل اسلام نے بھى يہ عمل كيا، تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم ان دونوں كا حكم ديا، پھر اس سے روك ديا اور فرمايا:

" نہ تو فرع ہے اور نہ ہى عتيرہ "

چنانچہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا دونوں سے منع كرنا تھا كہ لوگ اس دونوں سے رك گئے، اور يہ تو معلوم ہے كہ نہى اور ممانعت اس وقت ہوتى ہے جب وہ عمل كيا جاتا رہا ہو، ہمارے علم ميں نہيں كہ كوئى بھى اہل علم يہ كہتا ہو كہ:

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے انہيں ان دونوں سے منع كيا اور پھر ان كى اجازت دے دى، ممانعت سے قبل اس پر عمل ہوتا تھا اس كى دليل نبيشہ كى حديث ميں يہ قول ہے:

" ہم جاہليت ميں عتيرہ ذبح كيا كرتے تھے، اور جاہليت ميں فرع بھى كيا كرتے تھے "

اور مختلف علاقوں كے علماء كرام كا اجماع اور اس كا عدم استعمال ان دونوں كے حكم ميں وقوف ہے، اس كے ساتھ اس كى نہى كا ثبوت اس كا بيان ہے جو كچھ ہم بيان كر چكے ہيں " انتہى.

اور الشيخ محمد بن ابراہيم رحمہ اللہ اپنے فتاوى جات ميں بالجزم عتيرہ كو حرام قرار ديتے ہوئے كہا ہے:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان:

" نہ تو فرع ہے اور نہ ہى عتيرہ "

اس سے اب ميں جو سمجھ رہا ہوں وہ يہ ہے كہ يہ حرمت كے بہت قريب ہے.

اور نفى بطلان كا فائدہ ديتى ہے، جيس طرح كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" نہ تو عدوى ہے اور نہ ہى طيرہ "

تو كيا " نہ تو فرع ہے اور نہ عتيرہ "

اس كا ابطال نہيں ہو گا ؟!

يہ اس دلالت كے ساتھ كہ:

" جس كسى نے كسى قوم سے مشابہت اختيار كرتى تو وہ اسى ميں سے ہے "

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے جاہليت كى مشابہت سے منع كر ديا.

پھر يہ تو عبادات ميں ہے، اور يہ معلوم ہونا چاہيے كہ عبادات توقيفى ہوتى ہيں، تو اگر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم اس كى نفى نہ بھى كرتے تو پھر يہ ممنوع تھا، كيونكہ جاہليت كے سارے امور ممنوع ہيں، اس ميں سے ہر ايك كى ممانعت كے ليے عليحدہ نص كى ضرورت نہيں.

اور بعض علماء نے اس كے مكروہ ہونے كى صراحت بيان كى ہے، اور ہم جو سمجھتے ہيں وہ حرام ہے، اور يہ اس مناسبت سے حرام ہے كہ انہوں نے اونٹنى كا پہلا بچہ اور رجب كے پہلے دس ايام ميں ذبح كرنا مخصوص كر ليا، ليكن اگر وہ جو جاہليت والے اپنے معبودوں كے ليے كيا كرتے تھے تو وہ شرك ہے " انتہى بتصرف

ديكھيں: فتاوى الشيخ محمد بن ابراہيم ( 6 / 165 ).

اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان:

" نہ تو فرع ہے اور نہ عتيرہ "

اور ايك روايت ميں ہے:

" نہ تو اسلام ميں فرع ہے اور نہ ہى عتيرہ "

اسے اسلام كے ساتھ خاص كرنا اس بات كو ثابت كرتا ہے كہ يہ دورجاہليت كے اوصاف ميں سے ہے، اس ليے بعض علماء كرام نے فرعہ كے خلاف عتيرہ كو مكروہ قرار ديا ہے، كيونكہ فرع سنت ميں وارد ہے، ليكن العتيرہ تو خاص كر مكرہ ہو گا، يعنى رجب كے ابتدائى ايام ميں ذبح كرنا، اور خاص كر جب اسے رجب كے شروع ميں ذبح كيا جائے، اور لوگوں كے ليے يہ كہا گيا ہے اس ميں كوئى حرج نہيں، كيونكہ دل اس طرح كے افعال كى طرف مائل ہوتے ہيں.

تو ہو سكتا ہے يہ خيال پيدا ہو جائے كہ رجب كا مہينہ بھى ذوالحجہ كىطرح قربانى والا مہينہ ہے، اور لوگ اسے بڑى كثرت سے كرتے ہيں، تو يہ مناسك و مشاعر ميں سے ايك شعار اور مظہر بن كرباقى رہ جائے، اور بلاشك و شبہ يہ ممنوع ہے.

چنانچہ ميرے ہاں راجح يہ ہے كہ:

فرع ميں كوئى حرج نہيں؛ كيونكہ سنت ميں يہ وارد ہے، ليكن عتيرہ كى كم از كم حالت مكروہ ہے " انتہى

ديكھيں: الشرح الممتع ( 7 / 325 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments