Fri 25 Jm2 1435 - 25 April 2014
7181

حدیث ( عورتوں میں سے صرف چارعورتیں درجہ کمال تک پہنچیں ) میں کمال سے مقصود کیا ہے

کیا آپ مندرجہ ذيل حدیث کی کچھ اضافی معلومات مہیا کرسکتے ہيں ؟ اللہ تعالی آپ کوجزاۓ خیرعطافرماۓ ۔
ابوموسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا :
( مردوں میں سے توبہت سے درجہ کمال تک پہنچے ، اورعورتوں میں سے ان عورتوں کے علاوہ کوئ‏ اوردرجہ کمال تک نہیں پہنچیں : مریم بنت عمران ، فرعون کی بیوی آسیۃ ، اورعائشہ رضي اللہ تعالی عنہن کی عورتوں پرایسےہی فضیلت ہے جس طرح کہ سب کھانوں پرثریدکو ۔ ) صحیح بخاری مجلد نمبر ( 5 )کتاب نمبر ( 62 )

الحمد للہ
 اول :

کمال نساء کےمعنی میں علماء کا اختلاف ہے :

کچھ کا کہنا ہے کہ اس کا معنی کمال نبوت ہے ۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالی عنہ فتح الباری میں کہتے ہیں :

گویا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ : عورتوں میں سے فلاں فلاں کے علاوہ کو‏ئ بھی نبی نہیں بنی ۔ فتح الباری ( 6 / 447 ) ۔

تویہ قول صحیح نہیں بلکہ مردود ہے :

اس قول کا رد :

کچھ روایات میں خدیجہ بنت خویلد اورفاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بھی آيا ہے ۔ یہ روایت طبرانی ہے ۔

اورہمیں اس بات کا یقینی علم ہے کہ خدیجہ اورفاطمہ رضي اللہ تعالی عنہما نبی نہیں تھیں ، اوریہ بھی انہیں عورتوں میں سے ہیں جودرجہ کمال تک پہنچیں ۔

تواس طرح عورتوں میں سے درجہ کمال تک پنچنے والی عورتوں سے مراد کمال ولایۃ ہے نہ کہ کمال نبوت ۔

امام نووی رحمہ اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں :

قاضی رحمہ اللہ تعالی عنہ کا کہنا ہے کہ : اس حدیث سے آسیہ اورمریم علیہ السلام کی نبوت پردلیل لی گئ ہے ۔

لیکن جمہور علماء کا قول ہے کہ وہ نبی نہیں تھیں بلکہ وہ اللہ تعالی کی ولیہ اورصدیقہ تھیں ۔

اورلفظ الکمال کااطلاق کسی چيزکے اتمام اوراس کی انتہاء پرہوتا ہے ۔

تویہاں پرجمیع فضائل اورنیکی وتقوی میں انتہاء کا معنی ہوگا ۔ واللہ تعالی اعلم دیکھیں شرح مسلم ( 15 / 198-199 ) ۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں :

قاضی ابوبکر اورقاضی ابویعلی اورابوالمعالی وغیرہ نے اس پراجماع نقل کیا ہے کہ عورتوں میں سے کوئ بھی نبی نہیں تھی ۔

اورقرآن وسنت بھی اسی پردلالت کرتاہے کہ عورتوں میں کوئ بھی نبیہ نہیں تھی جیسا کہ اللہ تعالی نے اپنے اس فرمان میں ذکرکیا ہے :

{ آپ سے قبل ہم نے بستی والوں میں جتنے وسول بھیجے ہیں وہ سب مرد ہی تھے جن کی طرف ہم وحی نازل فرماتے گۓ } یوسف ( 109 ) ۔

اوراللہ تعالی کا یہ بھی فرمان ہے :

{ مسیح ابن مریم پیغمبر ہونے کے کچھ بھی نہیں اس سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں ان کی والدہ ایک راست بازخاتون تھیں }الما‏ئدۃ ( 75)

تواس میں بیان کیا گیا ہے کہ ان کی والدہ جس درجہ پرپنہچیں اورجہاں انتہاء ہوئ‏ تھی وہ صدیقیت کا درجہ ہے ۔ دیکھیں مجموع الفتاوی ( 4/396 ) ۔

دوم :

مسنداحمد کی حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( فاطمہ رضي اللہ تعالی عنہا جتنی عورتوں کی سردار ہیں ۔۔۔ الحدیث ) مسند احمد حدیث نمبر ( 11347 ) ۔

تواس سے یہ ثبوت ملا کہ فاطمہ آسیہ رضي اللہ تعالی عنہما سے بہترہیں ، اوراگرآسیہ رضی اللہ تعالی عنہا نبیہ ہوتیں توفاطمہ رضي اللہ تعالی عنہا ان سے بہترنہیں ہوسکتی تھیں ، کیونکہ فاطمہ رضي اللہ تعالی عنہا نبیہ تونہیں تھیں ۔

سوم :

کرمانی رحمہ اللہ تعالی عنہا کہ کہنا ہے کہ :

لفظ ( الکمال ) سے کمال نبوت لازم نہیں آتا اس لیے کہ اس کا اطلاق کسی چيز کے کمال پریاپھراس کے کسی شعبہ پراطلاق ہوتا ہے ، تواس کمال سے عورتوں میں جوفضائل ہوتے ہیں ان سب میں کمال ہے ۔ دیکھیں الفتح ( 6 / 447 ) ۔

حدیث میں جس کمال کا ذکر ہوا ہے اس میں راجح یہی ہے جو اوپربیان کیا گیا ہے ۔

چہارم :

عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی دوسری عورتوں پرفضیلت جس طرح کہ سب کھانوں پرثرید کی فضيلت ہے ۔

حافظ ابن قیم رحمہ اللہ تعالی عنہ کا کہنا ہے :

ثرید گوشت اورروٹی کے مرکب کوکہتے ہیں ، اورگوشت سب سالنوں کا سردارہے اوراسی طرح روٹی سب سے اچھی اوربہتر غذا ہے ،اورجب یہ دونوں جمع ہوجائيں تواس سے آگے اوراچھی کوئ چيز نہیں ۔

زاد المعاد ( 4 / 271 ) ۔

امام نووی رحمہ اللہ تعالی کا قول ہے :

علماء کا کہنا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ ہرقسم کے کھانوں میں ثرید شوربے سے افضل ہے ، لھذا گوشت کا ثرید گوشت کے شوربے سے بہتر اور افضل ہے ، اوران میں وہ ثرید جس میں گوشت نہیں وہ اس کے شوربے سے افضل اوربہتر ہے ۔

اوریہاں پرفضيلت سے مراد اس کا نفع اور اس سے سیر ہونا اوراس کا آسانی سے نگلا جانا اورلذيذ ہونے کے ساتھ ساتھ آسانی سے کھایا جانا اورآدمی اسے آسانی سے حاصل کرسکنا وغیرہ مراد ہے ، تووہ ہرقسم کے شوربے اورسب کھانوں سے افضل ہوا ۔

اورعائشہ رضي اللہ تعالی عنہا کی فضيلت باقی سب عورتوں پرزائد ہے جس طرح کہ ثرید کی باقی سب کھانوں پرزیادہ فضيلت ہے ، اوراس حدیث میں اس کی تصریح نہیں کہ عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا مریم رضي اللہ تعالی عنہا سے بھی افضل ہیں ، اس لیے کہ اس میں یہ احتمال پایاجاتا ہے کہ اس فضیلت سے اس امت کی عورتوں پرفضیلت مراد ہو ۔

دیکھیں : شرح مسلم ( 15 / 199 ) ۔

عائشہ اورفاطمہ رضي اللہ تعالی عنہما کے درمیان فضيلت کی فصل میں حافظ ابن قیم رحمہ اللہ تعالی عنہ کا کہنا ہے :

تفصیل کیے بغیر فضيلت صحیح نہيں ، اگر اس فضيلت سے مراد اللہ تعالی کے ہاں کثرت اجرو ثواب ہے تویہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کا علم کسی نص کے بغیر نہیں ہوسکتا ، اس لیے کہ وہ اعمال قلب کے مطابق ہے نہ کہ صرف ظاہری اوراعمال جوارح اوراعضاء کے ساتھ ، دیکھیں کتنے ہی ایسے عمل کرنے والوں میں سے ایک اعضاء کے ساتھ بہت زیادہ عمل کرتا ہے لیکن دوسرا جنت میں اس سے بھی اعلی اورارفع درجہ رکھتا ہے ۔

اوراگر اس فضيلت سے فضيلت علم مراد ہے تو اس میں کوئ شک نہیں کہ عا‏ئشہ رضي اللہ تعالی عنہا امت کے لیے بہت ہی نافع اورعالمہ تھیں ، اورامت کوایسا علم دیا جوکہ ان کےعلاوہ کسی اورسے نہیں حاصل ہوسکا ، اورامت کے خاص اورعام بھی ان کے محتاج ہوۓ ۔

اوراگر اس فضيلت سے حسب ونسب کی فضیلت مراد ہے تو اس میں کوئ شک وشبہ نہیں کہ فاطمہ رضي اللہ تعالی عنہا افضل ہیں کیونکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی لخت جگر ہیں یہ ایک ایسی خصوصیت ہے جس میں ان کے بہنوں کے علاوہ کوئ‏ اور شریک نہیں ۔

اوراگر اس سے سرداری وسیادت مراد ہے تو فاطمہ رضي اللہ تعالی عنہا امت کی عورتوں کی سردار ہیں ۔

اورجب فضيلت کی سب وجوھات اوراس کے موارد کا اور فضل کےاسباب ثبوت مل جاۓ توپھرکلام علم اورعدل وانصاف پرہوگی ۔

اکثرلوگ جب فضيلت کے مسئلہ پربحث کرتے ہیں تو وہ فضيلت کی سب جہتوں پرتصیل سے نظرنہیں دوڑاتے اورنہ ہی اس پر بحث کرتے ہیں ، اورنہ ہی ان میں توازن برقرار رکھتے ہيں تواس بنا پروہ حق میں ناکام رہتے ہیں ۔

اوراگر اس میں کچھ تعصب بھی شامل ہوجاۓ‌توجس کی فضيلت بیان کی جارہی ہو اس کی طرف میلان ہو توپھر وہ جہل اورظلم کےساتھ کلام کرے گا ۔ بدائع الفوئد ( 3 / 682 - 683 ) ۔

عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا کے خصائص وفضائل بہت سے ہیں آپ ان کی تفصیل سوال نمبر ( 7878 ) کے جواب میں دیکھيں ۔

واللہ اعلم.

الشیخ محمد صالح المنجد
Create Comments