72203: بيوى سے ظہار كر ليا اور قسم اٹھائى كہ راضى ہونے تك جماع نہيں كريگا


ميرا بيوى كے ساتھ اختلاف ہوا تو ميں نے قسم اٹھائى كہ راضى ہونے كے بعد ہى ميں اس سے جماع كرونگا، اور ميں نے كہا كہ يہ راضى ہونے تك ميرى بہن جيسى ہے، اور ميرى نيت طلاق وغيرہ كى نہيں تھى.
بلكہ ميرى نيت اسے دھمكانے كى تھى كہ اسے اپنى غلطى كا احساس ہو جائے، كچھ ايام كے بعد جب ہمارا غصہ ٹھنڈا ہوا تو ميں نے اس سے جماع كر ليا، كيا مجھ پر كوئى گناہ تو نہيں ؟

الحمد للہ:

اول:

جب آپ نے قسم اٹھائى كہ راضى ہونے كے بعد ہى اس سے جماع كريں گے، اور آپ نے راضى ہونے سے پہلے بيوى سے جماع نہيں كيا، بلكہ راضى ہونے كے بعد ہم بسترى كى تو اس قسم ميں آپ پر كوئى گناہ نہيں ہے، كيونكہ آپ نے قسم نہيں توڑى.

دوم:

آپ كا اپنى بيوى كو كہنا كہ " تم ميرے راضى ہونے تك مجھ پر ميرى بہن جيسى ہو " يہ ظہار ہے جسے اللہ سبحانہ و تعالى نے حرام كيا اور اسے ايك منكر اور برى چيز اور جھوٹ قرار ديا ہے.

اگرچہ ميرى بہن جيسى كے الفاظ ظہر اختى جيسے نہيں ہيں، ليكن ظہار كى نيت ہونے يا پھر اس پر قرينہ كا موجود ہونا ظہار ہى كہلائيگا، قرينہ يہ ہے كہ يہ الفاظ جھگڑا يا غضب كى حالت ميں كہے جائيں، جيسا كہ ابن قدامہ رحمہ اللہ نے بيان كيا ہے، ليكن جب نہ تو نيت ہى اور نہ ہى اس كا كوئى قرينہ پايا جائے تو يہ ظہار نہيں ہوگا.

ديكھيں: المغنى ( 8 / 6 ).

سوم:

آپ كا بيوى كو يہ كہنا كہ:

" تم مجھ پر ميرى بہن جيسى ہو حتى كہ ميں راضى ہو جاؤں "

يہ مؤقت ظہار كہلائيگا جب تك آپ راضى نہيں ہو جاتے: اس ليے اگر آپ نے بيوى سے راضى ہونے سے قبل جماع كر ليا تو آپ پر ظہار كا كفارہ لازم آئيگا، اور اگر آپ نے راضى ہونے كے بعد بيوى سے جماع كيا تو پھر كچھ نہيں ہے.

ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" وقتى ظہار جائز ہے مثلا كوئى اپنى بيوى سے كہے تم مجھ پر ايك ماہ كے ليے ميرى ماں كى پيٹھ جيسى ہو، يا رمضان گزرنے تك، لہذا جب وقت ختم ہو جائے تو ظہار بھى ختم ہو جائيگا، اور بغير كسى كفارہ كے اس كى بيوى اس پر حلال ہو جائيگى، ليكن مدت كے اندر وطئ كرنے كى صورت ميں وہ عائد كہلائيگا.

ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما اور عطاء قتادۃ ثورى اور اسحاق اور ابو ثور كا قول يہى ہے، اور امام شافعى رحمہ اللہ كا بھى ايك قول يہى ہے ان كى دليل سلمہ بن صخر رضى اللہ تعالى عنہ كى حديث ہے جس ميں بيان ہوا ہے كہ:

" انہوں نے اپنى بيوى سے رمضان المبارك كا مہينہ گزرنے تك ظہار كيا، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو بتايا كہ انہوں نے دوران ماہ بيوى سے جماع كر ليا ہے، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اسے كفاہ ادا كرنے كا حكم ديا، اور اس پر وقت مقيد كرنے كا انكار نہيں كيا " انتہى

ديكھيں: المغنى ( 11 / 68 ) اختصار كے ساتھ.

اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ نے مؤقت ظہار كى مثال ديتے ہوئے كہا ہے:

" انسان سے ايسا ہو سكتا ہے كہ جب اس كى بيوى كوئى خرابى كرے اور برا سلوك كرے تو وہ بيوى سے كہے: تم مجھ پر اس ہفتہ ميرى ماں كى پيٹھ جيسى ہو، يا يہ سارا مہينہ يا كوئى اور وقت مقرر كر دے، تو يہ صحيح ظہار كہلائيگا.

اور ہمارے قول " يہ صحيح " كا يہ معنى نہيں كہ يہ حلال ہے، بلكہ اس كا يہ معنى ہے كہ يہ ظہار كہلائيگا اور ظہار ہو جائيگا، اس ليے جو مدت اس نے مقرر كى تھى اس كے بعد اگر جماع كرتا ہے تو كوئى كفارہ نہيں كيونكہ مدت ختم ہونے سے ظہار بھى ختم ہو گيا، ليكن اگر وہ مدت ختم ہونے سے قبل جماع كر لے تو اس پر ظہار كا كفارہ واجب آئيگا، اور اگر وقت جاتا رہے اور وہ وقت ختم ہونے كے بعد بيوى سے جماع كرتا ہے تو ظہار ختم ہو جائيگا " انتہى

ماخوذ از الشرح الممتع على زاد المستقنع ( 5 / 593 ) مختصرا.

چہارم:

اس غلط اور منكر كام كرنے پر آپ پر توبہ و استغفار كرنى واجب ہے، اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ تم ميں سے جو لوگ اپنى بيويوں سے ظہار كرتے ہيں تو وہ عورتيں ان كى مائيں نہيں، ان كى مائيں تو وہ ہيں جنہوں نے انہيں جنم ديا ہے، اور يہ لوگ تو برى اور جھوٹى بات كہہ رہے ہيں، اور يقينا اللہ تعالى معاف كرنے اور بخشنے والا ہے }المجادلۃ ( 2 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments