Thu 24 Jm2 1435 - 24 April 2014
72235

لفظ " اللہ " كى سكرين والا موبائل بيت الخلاء ميں لے جانا

اگر كسى شخص كے پاس موبائل سكرين پر عربى ميں اللہ اكبر لكھا ہو تو كيا اس كے ليے بيت الخلاء ميں موبائل سيٹ لے جانا جائز ہے ؟

الحمد للہ:

جمہور فقھاء كرام نے اللہ كے ذكر پر مشتمل كوئى بھى چيز بغير ضرورت بيت الخلاء ميں لے جانى مكروہ قرار دى ہے، مثلا اللہ كے نام پر مشتمل كرنسى اور روپے.

فقھاء كرام كى ايك جماعت نے بيان كيا ہے كہ جب وہ اسے چھپا كر ركھى تو پھر كوئى حرج نہيں.

ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" اگر كسى كے پاس اللہ كے نام پر مشتمل كوئى چيز ہو تو بيت الخلاء جاتے وقت اسے باہر ركھنا مستحب ہے....

اور اگر اللہ كے ذكر پر مشتمل چيز كو محفوظ كرے، اور اسے گرنے سے بچا كر ركھے، يا پھر انگوٹھى كا نگينہ اندر كى جانب كر لے تو اس ميں كوئى حرج نہيں.

امام احمد رحمہ اللہ كہتے ہيں:

اگر انگوٹھى ميں اللہ كا نام لكھا ہو وہ اسے اپنى ہتھيلى والى طرف گھما كر بيت الخلاء چلا جائے.

اور عكرمہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

اسے اس طرح اپنى ہتھيلى كے اندر والى طرف كر كے ہاتھ بند كرلو، اسحاق رحمہ اللہ نے بھى ايسا ہى كہا ہے، اور ابن مسيب اور حسن، اور ابن سيرين رحمہم اللہ نے اس كى رخصت دى ہے.

امام احمد درھم لے كر بيت الخلاء جانے والے شخص كے متعلق كہتے ہيں:

" مجھے اميد ہے كہ اس ميں كوئى حرج نہيں " انتہى.

ماخوذ از: المغنى ابن قدامہ ( 1 / 109 ).

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى سے درج ذيل سوال كيا گيا:

اللہ تعالى كے نام پر مشتمل اوراق لے كر بيت الخلاء ميں جانے كا حكم كيا ہے ؟

شيخ رحمہ اللہ كا جواب تھا:

" جب يہ اللہ كے نام پر مشتمل اوراق جيب ميں ہوں، اور ظاہر نہ ہوں، بلكہ مخفى اور چھپے ہوئے ہوں تو بيت الخلا ميں لے جانا جائز ہيں " انتہى

ديكھيں: فتاوى الطہارۃ صفحہ نمبر ( 109 ).

اس بنا پر " اللہ اكبر " كے الفاظ پر مشتمل سكرين والا موبائل جيب ميں ڈال كر لے جانے ميں كوئى حرج نہيں، وہ ظاہر نہ ہوتا ہو، بلكہ جيب ميں ہو.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments