Thu 24 Jm2 1435 - 24 April 2014
78479

اگر كوئى اپنى جلد نگل جائے تو كيا روزہ ٹوٹ جائيگا ؟

اگر ميں اپنى جلد كا ناخن كے چوتھائى حصہ بھى چھوٹا ٹكڑا كھا جاؤں تو كيا اس سے ميرا روزہ ٹوٹ جائيگا ؟

الحمد للہ:

روزے دار كے ليے اپنے پيٹ ميں كوئى بھى كھانے پينے والى چيز يا دوائى داخل كرنى جائز نہيں.

كسى جامد چيز كو عمدا اور جان بوجھ كر منہ كے ذريعہ معدہ ميں داخل كرنے كا نام كھانا ہے، چاہے يہ چيز نقصان دہ ہو يا نفع مند، مثلا كنكري يا ناخن يا چمڑا وغيرہ، آئمہ اربعہ كا قول يہى ہے اس ميں كوئى اختلاف نہيں.

ديكھيں: حاشيۃ ابن قاسم على الروض المربع ( 3 / 389 ).

شافعى المسلك عالم دين الشيرازى كہتے ہيں:

" اس ميں كوئى فرق نہيں كہ كھانے والى كھائى جائے، يا نہ كھائى جانے والى چيز، چنانچہ اگر كوئى شخص مٹى چاٹے، يا كنكرى يا درہم يا دينار كا سكہ نگل جائے تو اس كا روزہ باطل ہو جائيگا؛ كيونكہ روزہ معدہ ميں پہنچنے والى ہر چيز سے ركنے كا نام ہے، اور يہ شخص اس سے ركا نہيں؛ اسى ليے يہ كہا جاتا ہے كہ: فلاں شخص مٹى كھاتا ہے، اور فلان شخص پتھر كھاتا ہے " انتہى.

امام نووى رحمہ اللہ تعالى اس پر تعليق چڑھاتے ہوئے كہتے ہيں:

" امام شافعى اور ان كے اصحاب رحمہم اللہ كہتے ہيں:

اگر روزہ دار شخص ايسے چيز نگل جائے جو عام طور پر كھائى نہيں جاتى مثلا دينار اور درہم كا سكہ يا مٹى يا كنكري يا گھاس، يا لوہا، يا دھاگہ وغيرہ تو ہمارے ہاں بغير كسى اختلاف كے اس كا روزہ ٹوٹ گيا.

امام ابو حنيفہ امام مالك، امام احمد اور سلف و خلف ميں سے جمہور علماء كرام كا بھى يہى قول ہے " انتہى.

ديكھيں: المجموع للنووى ( 6 / 340 ).

اس بنا پر جلد كا يہ ٹكڑا نگلنا روزہ كو باطل كرنا شمار ہوگا، ليكن اگر كوئى شخص اسے بغير ارادہ و قصد كے نگل جائے عمدا نہ نگلے تو اس كا روزہ صحيح ہوگا، اور اس كے ذمہ كچھ لازم نہيں آتا.

مستقل فتوى كميٹى كے علماء كرام كا كہنا ہے:

" اور اگر اس كے مسوڑھوں ميں زخم ہوں، يا پھر مسواك كى بنا پر خون نكل آئے تو اسے نگلنا جائز نہيں، بلكہ اسے باہر نكالنا ضرورى ہے، اور اگر اس كے اختيار كے بغير حلق ميں چلا جائے تو اس پر كچھ لازم نہيں آئيگا اور اسى طرح اگر اس كے اختيار كے بغير قئ پيٹ ميں واپس چلى جائے تو اس كا روزہ صحيح ہے " انتہى.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 10 / 254 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments