Sun 20 Jm2 1435 - 20 April 2014
79122

كيا صحيح فاصلہ ہونے كى صورت ميں مردوں كے ساتھ عورتوں كى نماز صحيح ہے ؟

ہمارے ملك ميں ايك مسجد ايسى ہے جہاں عورتيں مردوں كے ساتھ نماز ادا كرتى ہيں، ليكن ان كے مابين ديوار كا فاصلہ كيا گيا ہے، كيا يہ عمل صحيح ہے، يا كہ عورتوں كا مردوں كے پيچھے نماز كرنا ضرورى ہے ؟

الحمد للہ:

اول:

اگر عورتيں مردوں كى برابر كھڑى ہو كر نماز ادا كريں، اور ان دونوں كے مابين ديوار حائل ہو يا پھر اتنا فاصلہ ہو كہ وہاں نمازى كھڑا ہو سكے تو احناف، شافعيہ، مالكيہ، اور حنابلہ كے عام اہل علم كے ہاں ان كى نماز صحيح ہے علماء كرام ميں اختلاف اس ميں ہے كہ اگر بغير كسى پردہ اور ديوار كے مردوں كے برابر نماز ادا كريں تو اس نماز كے صحيح ہونے ميں اختلاف ہے.

احناف كہتے ہيں كہ اس طرح تين اشخاص كى نماز باطل ہو گى ايك عورت كے دائيں طرف والے كى، اور دوسرا عورت كے بائيں طرف والے كى، اور تيسرا عورت كے پيچھے كھڑے شخص كى، اس كے ساتھ انہوں نے كچھ شروط بھى ذكر كى ہيں، جن كا ماحاصل يہ ہے:

عورت مشتہاہ يعنى چاہى جانے والى ہو، جو سات برس كى ہو چكى ہو، يا پھر جماع كے قابل ہو، مذہب ميں اختلاف پر، كہ وہ عورت مطلق نماز ميں مرد كے ساتھ داخل ہو يعنى اس كا ركوع اور سجود ہو، اور تكبير تحريمہ اور اداء ميں دونوں مشترك ہوں، اور امام نے اس كى امامت كى نيت كى ہو يا پھر عمومى طور پر عورتوں كى امامت كى نيت كر ركھى ہو، باقى اور تفصيل كے ساتھ جو ان كى كتب كا مطالعہ كر كے معلوم كى جاسكتى ہيں.

ديكھيں: المبسوط ( 1 / 183 ) اور بدائع الصنائع ( 1 / 239 ) اور تبيين الحقائق ( 1 / 136 - 139 ).

امام نووى رحمہ اللہ تعالى اس مسئلہ ميں اختلاف اور احناف كے مذہب كى تلخيص كرتے ہوئے كہتے ہيں:

" اگر كوئى مرد اس حالت ميں نماز ادا كرے كہ اس كے پہلو ميں عورت ہو نہ تو مرد كى نماز باطل ہو گى اور نہ ہى اس عورت كى چاہے وہ مرد امام ہو يا مقتدى، ہمارا يہى مذہب ہے، اور امام مالك اور اكثر اہل علم كا بھى يہى كہنا ہے.

اور امام ابو حنيفہ رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں: اگر عورت نماز ميں نہ ہو يا پھر اس كى نماز ميں شريك نہ ہو بلكہ اپنى نماز ادا كر رہى ہو تو اس مرد اور عورت دونوں كى نماز صحيح ہے، اور اگر وہ نماز ميں شريك ہو ( ابو حنيفہ رحمہ اللہ تعالى كے ہاں اس كى نماز ميں مشاركت اس وقت ہو گى جب امام عورتوں كى امامت كى نيت كرے ) تو اس مشاركت كى حالت ميں اگر وہ مرد كے پہلو ميں كھڑى ہو اس كى دونوں طرف والے دونوں مردوں كى نماز باطل ہو جائيگى، ليكن اس عورت كى نماز باطل نہيں ہو گى، اور نہ ہى اس كے ساتھ والے مرد كے بعد والے كى نماز باطل ہو گى؛ كيونكہ اس عورت اور مرد كے درميان آڑ حائل ہے.

اور اگر وہ عورت اس مرد كے سامنے والى صف ميں ہو تو اس عورت كے پيچھے اور برابر مرد كى نماز باطل ہو جائيگى، اور اس كے برابر والے كے برابر ميں دونوں اشخاص كى نماز باطل نہيں ہو گى؛ كيونكہ اس كے درميان آڑ ہے، كيونكہ عورتوں كى صف امام كے پيچھے ہے، اور ان كے پيچھے مردوں كى صف ہے، عورتوں كى صف كے پيچھے والى سارى صف كى نماز باطل ہو جائيگى.

ان كا كہنا ہے كہ: قياس يہ تھا كہ آڑ كى بنا پر اس صف كے بعد والى دوسرى صف والوں كى نماز باطل نہ ہو، ليكن استحسان كى بنا پر ان سارى صفوں كى نماز باطل ہو جائيگى.

اور اگر عورت امام كے پہلو ميں كھڑى ہو تو امام كى نماز باطل ہو جائيگى؛ كيونكہ عورت اس كے ساتھ پہلو ميں ہے، اور ان كا مذہب ہے كہ: جب امام كى نماز باطل ہو جائے تو مقتديوں كى نماز بھى باطل ہو جائيگى، اور اس عورت كى نماز بھى باطل ہو جائيگى؛ كيونكہ وہ بھى مقتديوں شامل تھى.

يہ مذہب بہت ہى كمزور دليل اور حجت والا اس تفصيل كى كوئى اصل نہيں، اور ہمارى دليل يہ ہے كہ اصل ميں نماز صحيح ہے حتى كہ اس كے باطل ہونے ميں كوئى شرعى دليل مل جائے، اور ان كو يہ حق نہيں...

ہمارے اصحاب نے نماز جنازہ ميں كھڑے ہونے پر قياس كيا ہے كہ ان كے ہاں اس سے نماز باطل نہيں ہوتى.

اللہ تعالى ہى زيادہ علم ركھتا ہے، اسى كى حمد اور نعمت اور احسان ہے اور اسى كى جانب سے ہدايت و عصمت ہے. انتہى

ماخوذ از: المجموع للنووى مختصرا ( 13 / 331 ).

اور آڑ كى موجودگى ميں احناف بھى جمہور علماء كرام كے ساتھ متفق ہيں كہ اس سے كسى ايك كى بھى نماز باطل نہيں ہو گى.

ديكھيں: تبيين الحقائق ( 1 / 138 ).

دوم:

بلاشك و شبہ سنت تو يہى ہے كہ عورتوں كى صفيں مردوں كے پيچھے ہى ہونى چاہيں، جيسا كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے عہد مبارك ميں ہوتا تھا.

صحيح بخارى اور مسلم ميں انس بن مالك رضى اللہ تعالى عنہ سے مروى ہے وہ بيان كرتے ہيں كہ:

ان كى نانى مليكہ رضى اللہ تعالى عنہ نے نبى كريم صلى اللہ كو كھانے كى دعوت پر بلايا اور كھانے كے بعد فرمانے لگے اٹھو ميں تمہيں نماز پڑھاؤں تو انس رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ ميں نے چٹائى اٹھائى جو پڑى پڑى سياہ ہو چكى تھى ميں نے اس پر پانى كا چھڑكا اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم آگے كھڑے ہوئے ميں اور ايك يتيم بچے نے ان كے پيچھے صف بنائى اور ان كے پيچھے بوڑھى عورت نے تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ہميں دو ركعت نماز پڑھائى اور پھر چلے گئے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 380 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 658 ).

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالى اس كى شرح كرتے ہوئے فتح البارى ميں كہتے ہيں:

" اس حديث ميں كئى ايك فوائد ہيں:

عورتوں كى صفيں مردوں سے پيچھے ہونى چاہيں، اور عورت كے ساتھ كوئى عورت نہ ہو تو وہ اكيلى ہى صف ميں كھڑى ہو سكتى ہے" انتہى

ليكن اگر ايسى صورت ہو جو آپ ذكر كر رہے ہيں كہ وہ مردوں كے برابر صف بنائيں، تو الحمد للہ ان كى نماز صحيح ہے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments