Fri 25 Jm2 1435 - 25 April 2014
8190

عورت کے نکاح اوراس کے مال کاولی

ہمیں یہ توعلم ہے کہ عورت کے نکاح کے وقت ولی کی موجودگی واجب ہے ، وہی اس کا نکاح کرے گا ، لیکن عورت اپنے ولی کی تحدید کیسے کرے گی ؟ اورکیا عورت کے تمام معاملات ولی ہی پورے کرے گا ؟
ہمیں اس کے بارہ میں معلومات مہیا کریں اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے ۔

الحمد للہ
ولایت نکاح کے پانچ اسباب ہيں : ملیکت ، قرابت داری ، ولاء ، امامت ، وصایا ۔

صحت نکاح کے لیے ولی شرط ہے ، اورکسی بھی عورت کے لیے جائز نہيں کہ وہ ولی بغیر خود ہی اپنانکاح کرلے یا بغیر کسی سبب کے ولی کے علاوہ کوئي اوراس کا نکاح کرے ، نہ تو اصل میں اور نہ ہی قائم مقام اور وکیل بن کر ، اوراگر عورت خود ہی نکاح کرتی ہے تو یہ نکاح باطل ہوگا ۔

لیکن مال کے بارہ میں یہ ہے کہ عورت جب عاقلہ اورسمجھدار اور بالغ ہو تو وہ اپنے مال پر پورا اختیار رکھتی ہے ، اسے اس میں پورا تصرف کرنے کا حق حاصل ہے وہ جس طرح چاہے اس میں عوض یا بغیر عوض کے تصرف کرسکتی ہے مثلا خرید وفروخت یا پھر کرایہ اورقرض یا اپنا سارا یا مال کا کچھ حصہ صدقہ و ھبہ وغیرہ کرسکتی ہے ۔

کسی ایک کو بھی اسے اس سے منع کرنے کا حق حاصل نہیں ، اورنہ ہی عورت کو اس کام کے لیے کسی کی اجازت درکارہے ، چاہے وہ عورت کنواری ہواوراپنے باپ کے ساتھ رہتی ہو یا بغیر باپ کے ، یا پھر وہ شادی شدہ ہو ۔

اور عورت کے لیے اپنی اولاد کے مال میں بھی تصرف کرنے کا حق حاصل ہے یعنی وہ اس میں سے کھا پی سکتی ہے ، جیسا کہ مرد کویہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی اولاد کے مال میں تصرف کرسکتا ہے ، اوراسی طرح عورت اپنے والدین کے مال سے جو اس کے لیے مباح ہے کھا پی سکتی ہے اوراس میں تصرف کرسکتی ہے ۔

ماں کواپنے چھوٹے بچوں اورمجنون کے مال کی ولایت حاصل ہے ، کیونکہ وہ اپنی اولاد پر دوسروں سے زيادہ شفقت کرنے والی ہے ۔

عورت اپنے خاوند کے مال میں خاوند کی اجازت کے بغیر نہ تو تصرف کرسکتی ہے اور نہ ہی اسے صدقہ کرسکتی ہے ، چاہے خاوند اسے صراحتا اجازت دے یا پھر عادت اورعرف سے مفہوم لیا جائے ۔

عورت وصی بھی بن سکتی ہے جب اس میں وصی کی شروط پائي جائيں تو اسے وصیت کے ذریعہ مال کی ولائت مل سکتی ہے ، چاہے وہ بچوں کی ماں ہو یا ان سے اجنبی ہو ۔

عورت وقف مال کی نگران بھی بن سکتی ہے ، بالاتفاق وقف میں تصرف اورنگرانی میں ولایت بھی حاصل ہوسکتی ہے ۔

واللہ اعلم .

دیکھیں کتاب : المراۃ فی الفقہ الاسلامی ص ( 691 ) ۔
Create Comments