85441: ڈش، كمپيوٹر، گاڑى، اور ٹيلى ويزن ميں استعمال كردہ اليكٹرانك سركٹ تيار كرنے كا حكم


ميں ايك الكٹرانك كمپنى ميں كام كرتا ہوں جو (Microelectronic ) اشياء تيار كرتى ہے، اور يہ كمپنى چپ سسٹم (System on Chip ) تيار كرتى ہے جو مختلف اشياء مثلا ٹيلى ويزن، كمپيوٹر، موبائل ٹيلى فون، ہوائى جہاز، گاڑي، ڈش .... وغيرہ ميں استعمال كى جاتى ہے، اور اسى طرح ہميں كمپنى ميں مرد و عورت كے اختلاط كى مشكل بھى درپيش ہے ہمارے ملك كى كمپنيوں ميں جس كے بغير كوئى چارہ ہى نہيں، ليكن الحمد للہ ميرے سب ساتھى نيك اور دين كا خيال ركھتے اور ايك دوسرے كو حق كى تلقين كرتے رہتے ہيں، ميرا سوال يہ ہے كہ:
كيا ميرى كمائى حلال ہے، برائے مہربانى مجھے كوئى وعظ و نصيحت فرمائيں ؟

الحمد للہ:

اول:

ہمارى اللہ تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ وہ آپ سب كى مدد فرمائے اور آپ كو توفيق سے نوازے، اور آپ كو ثابت قدمى عطا كرے، ہم آپ كو نصيحت كرتے ہيں كہ آپ ايك دوسرے كو نيكى و بھلائى كے كاموں ميں ايك دوسرے كى مزيد اور زيادہ معاونت جارى ركھيں، اور خير و بھلائى كو عام كرنے كى كوشش كريں، اور مختلف قسم كے موجود وسائل كو استعمال كرتے ہوئے خير كى دعوت ديں.

دوم:

مرد و عورت كے اختلاط والى جگہ كام كرنے ميں بہت سى خرابياں اور نقصانات ہيں جو كسى پر بھى مخفى نہيں، ليكن جو اس ميں مبتلا ہو اور اس كے بغير كوئى چارہ نہ ہو اور كوئى اور بھى كام نہ ملے تو اسے اللہ تعالى كا تقوى اختيار كرتے ہوئے نظريں نيچى ركھ كر ان نقصانات اور خرابيوں سے بچنا چاہيے، اور خلوت اور مصافحہ اور ہاتھ ملانے سے اجتناب كرے، اور اسى طرح وہ فتنہ و شر كے اسباب سے بھى دور رہے، اور اسے كوئى اور كام تلاش كرنے كى جدوجھد كرنى چاہيے، جو اس كے دين كو بھى محفوظ ركھے، اور اس كے دل كو بھى، چاہے اس كى تنخواہ پہلے سے كم ہى كيوں نہ ہو.

كيونكہ دين كى حفاظت جان اور مال پر مقدم ہے، مزيد تفصيل معلوم كرنے كے ليے آپ سوال نمبر ( 50398 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

سوم:

اگر تو كمپنى كئى قسم كے سسٹم تيار كرتى ہے جن ميں كچھ كمپيوٹر اور كچھ ہوائى جہازوں، اور كچھ ٹيلى ويزن اور ڈش ... الخ وغيرہ ميں استعمال ہوتے ہيں تو آپ ٹيلى ويزن اور ڈش والے سسٹم تيار كرنے سے اجتناب كريں؛ كيونكہ غالبا يہ دونوں اشياء معصيت و نافرمانى ميں استعمال ہوتے ہيں، جو كہ نظر اور سماعت دونوں ميں ہى ہے.

اور ہر وہ چيز جس كا غالب استعمال معصيت و نافرمانى ميں ہوتا ہو اس پر معاونت كرنى جائز نہيں، نہ تو اسے بنا كر، اور نہ ہى اس كى مرمت كر كے، يا فٹ كركے، يا پھر فروخت كر كے معاونت كرنا جائز نہيں، ليكن صرف اس شخص كى اس ميں معاونت ہو سكتى ہے جس كے متعلق يہ علم ہو كہ وہ اسے نافرمانى ميں استعمال نہيں كريگا.

مزيد تفصيل كے ليے آپ سوال نمبر ( 39744 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

اور اگر تيار كردہ سسٹم ان سب اشياء ( ٹيلى ويزن، كمپيوٹر، گاڑي وغيرہ ) ميں استعمال كرنا ممكن ہو تو پھر اس كى تيارى اور ملازمت كرنے ميں كوئى حرج نہيں، كيونكہ اس پر مباح كا غلبہ ہے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments