Wed 23 Jm2 1435 - 23 April 2014
93559

حيض ختم ہونے كے بعد خون كے قطرات آنا

ايك چھياليس برس كى عورت كو رحم ميں كچھ خرابى كى بنا پر بيس جون سے تين اكتوبر تك حيض نہ آيا، اور تين ماہ اور بارہ يوم گزرنےكے بعد خون آيا اس كا رنگ تقريبا ہلكا سرخ تھا جو خروج والى جگہ سے تجاوز نہيں كرتا، اس ليے وہ اسے پہچان نہيں سكتى، كيا وہ نماز روزہ ترك كر دے يا كہ وہ اس خرابى كى بنا پر مريض شمار ہو گى ؟

الحمد للہ:

نماز روزہ اور جماع ميں مانع حيض كا خون ہے، اللہ تعالى نے اس كى كچھ علامات ركھى ہيں جو عورتوں پر مخفى نہيں، اس كا رنگ سياہ ہوتا ہے، اور بدبودار اور كريہہ بو والا اور اسى طرح گاڑھا بھى ہوتا ہے، اس كے علاوہ كوئى اور خون حيض كا خون شمار نہيں كيا جائيگا، بلكہ وہ استحاضہ كا خون ہے جسے عورتيں نزيف كا نام ديتى ہيں، يہ خون نماز روزہ اور جماع ميں مانع نہيں ہے.

آپ نے خون كے رنگ اور اس كى قلت كے متعلق بيان كيا ہے اس سےظاہر يہى ہوتا ہے كہ يہ حيض كا خون نہيں، اس بنا آپ نماز روزہ كى ادائيگى كرينگى، اور اگر شادى شدہ ہيں تو خاوند كے ليے جماع بھى جائز ہے.

ہم سوال نمبر ( 5595 ) كے جواب ميں حيض اور استحاضہ كے خون ميں فرق بيان كر چكے ہيں، اس كا مطالعہ كر ليں، كيونكہ يہ بہت اہم ہے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments