Fri 18 Jm2 1435 - 18 April 2014
9589

خاوند دوكان سےمال چوري كرتا ہے اور دليل يہ ديتا ہے كہ صاحب دوكان قيمت ميں اضافہ كرتا ہے

ميں اپنےخاوند كو تين برس سےجانتي ہوں اور وہ خالصتا مسملمان شخص ہے دوماہ قبل وہ ايك سپر ماركيٹ سے خريداري كرنےگيا توماركيٹ ميں دوسري دوكانوں كي بنسبت قيمتيں زيادہ تھيں تواس نےوہاں سے كوئي چيز چوري كرلي اور عذر يہ پيش كيا كہ وہ دھوكے پر راضي نہيں.
اور دوہفتےقبل اس نےتقريب ميں جانےكےليے ايك سوٹ كرايہ پر حاصل كيا، اور پھر شرٹ اور ٹائي خريدنےگيا تو شرٹ اور ٹائي ايك پيكٹ ميں ركھي تھي اسے اٹھايا اور ماركيٹ والوں نےاس پر تہمت لگائي كہ اس نے ڈسكاؤنٹ حاصل كرنےكےليے ايك ہي پيكٹ ميں ركھا ہے، ليكن يہ بات صحيح نہ تھي، لھذا اس نےسٹور والوں كوسزا دينےكےليے 900 ڈالر كا سوٹ چرا ليا اور اس كي جگہ پچاس ڈالر كا كرايہ پر حاصل كردہ سوٹ ركھ ديا، تو ميں نےاسے كہا كہ ايسا كرنا حرام ہے، وہ چور تونہيں بلكہ ايك ملتزم مسلمان شخص ہے.
لھذا ميں اسے كيا كہوں جس سے وہ اس پر مطمئن ہو جائے كہ ايسا كرنا حرام اور چوري ہے ؟

الحمد للہ :

1 - جوكچھ آپ نےذكر كيا ہے اس سے ہميں آپ كےخاوند كےاس فعل پر تعجب ہوا ہے، اور ہميں اس پر بھي بہت تعجب ہے كہ آپ نے خاوند كےبارہ ميں يہ وصف بيان كيا ہے كہ وہ چور نہيں بلكہ ايك التزام كرنےوالا مسلمان شخص ہے، حالانكہ وہ ايسا عمل كررہا ہے جو كسي عام مسلمان پر مخفي نہيں كہ وہ حرام ہے چہ جائيكہ مسلمان علماء كرام پر .

ہمارے پاس چوري كےحكم كےعلاوہ تواور كوئي چيز نہيں جوآپ اسےبتائيں ، اور يہ كہ چوري كرنا حرام ہے، اور اللہ سبحانہ وتعالي نےاپني كتاب عزير قرآن مجيد ميں فرمايا ہے:

{اور چوري كرنےوالےمرد اور چوري كرنے والي عورت كا ہاتھ كاٹ دو يہ اس كا بدلہ ہےجوانہوں نےكيا، اور اللہ تعالي كي طرف سےسزا ہے} المائدۃ ( 38 )

لھذا شريعت اسلاميہ ميں چوري كي حد داياں ہاتھ كاٹنا ہے. اور چور كا ہاتھ كاٹنےكےبعد بھي وہ اس وقت تك بري الذمہ نہيں ہوسكتا جب تك حقدار كا حق اس كوواپس نہ كردے .

اور اللہ تعالي نےايك مقام پر يہ فرمايا ہے:

{اور تم آپس ميں ايك دوسرے كا مال باطل طريقہ سےنہ كھاؤ} البقرۃ ( 188 )

ابن عباس رضي اللہ تعالي عنھما بيان كرتےہيں كہ قرباني والےدن نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم نےلوگوں سےخطاب كرتےہوئےفرمايا:

لوگويہ كونسا دن ہے؟ تولوگوں نےجواب ديا يہ يوم حرام ہے، رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نےكہا يہ شھر كونسا ہے؟ تولوگوں نےجواب ديا يہ حرمت والا شھر ہے، رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نےكہا: يہ مہينہ كونسا ہے؟ لوگوں نےجواب ديا: حرمت والا مہينہ ہے، تورسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نےفرمايا:

بلاشبہ اس دن اور مہينہ اور اس شھر كي حرمت كي طرح تمہارا آپس ميں ايك دوسرے كا خون اور مال اور عزتيں تم پر حرام ہيں، رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نےاسےكئي بار دہرايا اور پھر اپنا سر اٹھا كر كہنےلگے: اے اللہ كيا ميں نےپہنچاديا اےاللہ كيا ميں نےپہنچاديا؟

ابن عباس رضي اللہ تعالي كہتےہيں اس ذات كي قسم جس كےہاتھ ميں ميري جان ہے بلاشبہ يہ ان كي امت كو وصيت تھي، لھذا حاضر شخص غائب تك پہنچا دے. صحيح بخاري حديث نمبر ( 1652 )

اور صحيحين ميں ابوبكرۃ رضي اللہ تعالي عنہ سے بھي اسي طرح كي حديث مروي ہے.

اور ابوھريرہ رضي اللہ تعالي عنہ بيان كرتےہيں كہ ايك شخص رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم كےپاس آيا اور كہنےلگا: اے اللہ تعالي كےرسول صلي اللہ عليہ وسلم مجھےيہ بتائيں كہ اگر كوئي شخص آكر ميرا مال لينا چاہے؟

تورسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نےجواب ميں فرمايا: تم اسے اپنا مال نہ دو، وہ شخص كہنےلگا: يہ بتائيں كہ اگر وہ مجھ سےلڑائي كرے تو؟ رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نےجواب ميں فرمايا:

تم بھي اس سے لڑو، وہ شخص كہنےلگا: اچھا يہ بتائيں كہ اگر وہ مجھے قتل كردےتو؟

رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نےفرمايا: تو تم شھيد ہوگے، اس شخص نےكہا: مجھےيہ بتائيں كہ اگر ميں نےاسے قتل كرديا تو؟ رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نےفرمايا: وہ آگ ميں جائےگا. صحيح مسلم حديث نمبر ( 140 )

ابوھريرہ رضي اللہ تعالي عنہ سےہي روايت ہے كہ رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نےفرمايا:

( اللہ تعالي چور پر لعنت كرے وہ خود چوري كرتا ہے تواس كا ہاتھ كاٹ ديا جاتا ہے، اور رسي چرائےتواس كا ہاتھ كاٹ ديا جاتا ہے ) صحيح بخاري حديث نمبر ( 6401 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1687) .

اوريہ كہ وہ اپنےليے چوري اس ليےمباح كرلےكہ اسے دھوكہ ديا جاتا ہے: يہ شيطاني حيلہ اور تلبيس ہے، اس ليےكہ حرام كا مقابلہ اسي طرح كےحرام كام سے نہيں كياجاتا.

يہ تواس كےقول كوتسليم كرتےہوئےہےوگرنہ اصل بات تويہي ہےكہ بائع يعني فروخت كرنےوالےكوحق حاصل ہے كہ وہ جس قيمت پر چاہے اپني اشياء فروخت كرے، اور پھر نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہےكہ:

( بائع اور مشتري جب تك جدا نہيں ہوتےانہيں اختيار حاصل ہے ) صحيح بخاري حديث نمبر ( 1973 ) صحيح مسلم حديث نمبر( 1532 ) .

لھذا جب اسے اشياء كي قميت پسند نہيں توقيمت كم كرانا اس كاحق ہے يہ نہيں كہ اسے اٹھا ہي لے، لھذا اگر اسے قيمت اچھي لگے توخريد لے وگرنہ وہ دوسري دوكان پر چلا جائے.

اور بطور سزا سٹور سے نو سو ڈالر كي اشياء كا چوري كرنا يہ بھي حرام ہے، اس ليے كہ اللہ تعالي كا فرمان ہے:

{اگر تمہيں سزا دي جائے توتم بھي اتني ہي سزا دو جتني تمہيں دي گئي ہے}

اس ليے انسان يہ جائز نہيں كہ اگر وہ مظلوم ہو توجوچاہے لے لے، بلكہ اگر وہ اپنےسلب كردہ حق سے زيادہ ليتا ہے تو وہ دوسرا ظالم بن جائےگا.

يہ تواس صورت ميں ہے جب آپ كےخاوند پر سٹور والوں نےظلم كيا، ليكن جوظاہر ہورہا ہےوہ اس طرح نہيں بلكہ اس كےخلاف ہے، كسي غلط گمان كي وجہ سے معاملہ ميں زيادتي نہيں كي جاسكتي، تو كيا آپ كا خاوند اس پر راضي ہوگا كہ اگر كوئي اس كےساتھ بھي ايسا ہي كرے؟ اس ميں شك ہونے كي بنا پر اس سے نصف مبلغ چوري كرلے توكيا وہ راضي ہوگا؟ .

اس كا جواب معلوم ہے كہ نفي ميں ہي ہوگا، لھذا اسي طرح خود اس كےليے بھي اس دوكاندار كےساتھ ايسا كرنا حلال نہيں .

ہم آپ كووصيت كرتےہيں كہ آپ اسےيہ بتائيں كےدنيا زائل ہونےوالي چيز ہے، اور انسان نےروز قيامت اپنےرب سے اپنےاعمال كےساتھ ملاقات كرني ہے، اور چوري كرنا دنيا وآخرت دونوں ميں ذلت ورسوائي كا كام ہے.

دنيا ميں چوري كرنےوالے كےمال سے بركت جاتي رہتي اورختم ہوجاتي ہے بلكہ اس كي ساري زندگي سےہي بركت ختم ہوجاتي ہے، اور پھر لوگوں كے مابين اسےذلت ورسوائي حاصل ہوتي ہے.

اور آخرت ميں اس سےبھي زيادہ اور شديد قسم كي رسوائي ہوگي اسے مندرجہ ذيل حديث پر غور وفكر كرنا چاہيے:

ابوحميد الساعدي رضي اللہ تعالي عنہ بيان كرتےہيں كہ رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نےفرمايا:

( اللہ كي قسم تم ميں سے جوكوئي بھي ناحق چيز ليےگا وہ روز قيامت اسے اٹھا كر اللہ تعالي سےملاقات كرےگا، ميں تم ميں سے وہ اللہ تعالي سے ملےگا تواونٹ اٹھائے ہوئےہوگا اور وہ اونٹ آواز نكال رہا ہوگا، يا گائے اٹھائي ہوئي ہوگي اس كي آواز ہوگي، يا بكري اٹھا ركھي ہوگي اور وہ ممنا رہي ہوگي ، پھر رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نےاپنا ہاتھ بلند كيا حتي كہ بغل كي سفيدي نظر آنےلگي اور فرمايا: اللہ كيا ميں نے پہنچا ديا؟ ) صحيح بخاري حديث نمبر ( 6578 ) صحيح مسلم حديث نبمر ( 1832 ) .

واللہ اعلم  .

شيخ محمد صالح المنجد
Create Comments