95891: کسی لیڈی ڈاکٹر کے ہاتھوں زیر ناف بال صاف کروانے کا حکم


سوال: میری بغلوں اور مخصوص حصے پر بہت ہی گھنے بال ہیں، تو کیا کسی خاتون طبیب کی مدد سے زیر ناف بال لیزر کی مدد سے ختم کروا سکتی ہوں؟ واضح رہے کہ بال بہت ہی زیادہ گھنے ہیں، جس کی وجہ سے سیفٹی یا استرا یا بالوں کو نوچنے کی وجہ سے جلد بھی خراب ہو گئی ہے۔

Published Date: 2016-01-24

الحمد للہ:

جن سے شرمگاہ چھپانا ضروری ہے ان کے سامنے شرمگاہ کھولنا  جائز نہیں ہے، اور جمہور فقہائے کرام کے ہاں  ایک عورت  کی دوسری عورت کے سامنے شرمگاہ کی تعیین ناف سے گھٹنے تک ہے۔

لہذا  علاج معالجہ یا کسی اور ضرورت کے پیش نظر اس قدر شرمگاہ کھولنا جائز ہے،  تاہم مخصوص اعضا کو کھولنے کے لئے حاجت وضرورت کا مزید اشد اور مؤکد ہونا ضروری امر ہے۔

چنانچہ بغلوں کے بال زائل کروانے کیلئے لیزر استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، بشرطیکہ اس میں کسی قسم کا کوئی منفی پہلو نہ ہو۔

جبکہ زیر ناف بال کسی خاتون ڈاکٹر کے ہاتھوں صرف سخت ضرورت  کے پیش نظر ہی زائل کروائے جا سکتے ہیں، مثال کے طور پر بال اتنے گھنے ہوں کہ  بال نوچنے اور مونڈنے سے کوئی فائدہ  نہ ہو، اور ڈاکٹر  کے بتلائے ہوئے طریقے کے مطابق آپ خود بھی لیزر کے ذریعے بال زائل کرنے کی صلاحیت نہ رکھتی ہوں۔

 عز بن عبد السلام رحمہ للہ کہتے ہیں:
"شرمگاہ  کو ڈھانپ کر رکھنا  اعلی ترین عادت ہے، خواتین کو اس کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے، تاہم ضرورت اور حاجت کے وقت کھولنا جائز ہے، چنانچہ میاں بیوی  ایک دوسرے کے اعضا دیکھ سکتے ہیں، اور اطبا علاج معالجہ کیلئے شرمگاہ چیک کر سکتے ہیں، اسی طرح زخموں  کی مرہم پٹی  کیلئے بھی شرمگاہ دیکھی جا سکتی ہے۔
مخصوص اعضا  پر نظر ڈالنے کی شرائط شرمگاہ کے بقیہ حصہ پر نظر ڈالنے  سے زیادہ کڑی ہیں، اسی طرح خواتین کے جسم پر نظر ڈالنے کی شرائط مردوں کے جسم پر نظر ڈالنے سے زیادہ کڑی ہیں، کیونکہ خواتین کے جسم پر نظر پڑنے سے فتنے کا اندیشہ  بہت زیادہ ہوتا ہے، نیز سرین پر نظر پڑنے کا حکم  گھٹنوں اور رانوں پر نظر پڑنے کے حکم کی طرح نہیں ہے" انتہی مختصراً
"قواعد الأحكام" (1/165)

خطیب شربینی کہتے ہیں:
"جسم کو دیکھنے اور چھونے کی بیان کردہ حرمت کا تعلق ایسے حالات میں ہے جب اس کی ضرورت نہ ہو، چنانچہ حاجت و ضرورت کے وقت جسم دیکھنا اور چھونا جائز ہے، مثلاً: حجامہ [سنگھی]لگواتے ہوئے، کسی بیماری کا علاج کرواتے ہوئے جسم دیکھنا اور اسے چھونا جائز ہے چاہے اعضائے مخصوصہ ہی کیوں نہ ہوں؛ کیونکہ اس وقت انکا معائنہ کرنے کی ضرورت ہے، اگر اس ضرورت کے وقت بھی معائنہ کی اجازت نہ ہو تو اس میں بہت ہی زیادہ حرج واقع ہوگا" انتہی
"مغنی المحتاج" (4/215)

حنبلی فقہائے کرام کے ہاں شرمگاہ عیاں کرنے کی جو حالتیں ہیں ان میں  زیر ناف بالوں کی صفائی بھی شامل ہے، چنانچہ جو خود سے زیر ناف بال صاف نہیں کر سکتا تو وہ کسی سے کروا سکتا ہے، یہ بات ابن مفلح رحمہ اللہ نے "الفروع "(5/153) میں ذکر کی ہے۔

واللہ اعلم.

اسلام سوال و جواب
Create Comments