112067: خاوند كے والدين بہو كو طلاق دينا چاہتے ہيں ليكن خاوند طلاق نہيں دينا چاہتا


ميرى شادى كو اب تك چار برس ہو چكے ہيں اور ميرے ہاں ايك بيٹا بھى پيدا ہوا ہے جس كى عمر ڈيڑھ برس ہے، اس عرصہ ميں ميں نے ازدواجى زندگى كى ہر مشكل ديكھى ہے مثلا مجھے زدوكوب بھى كيا گيا، اور بےعزت بھى، اور مجھے گھر سے بھى نكالا گيا اور ميرا نان و نفقہ بھى بند كيا گيا، ليكن سب بچوں كى طرح ميرے بچے كا بھى باپ ہونا ان تكليفوں كے مقابلہ ميں بالكل ہلكا لگتا ہے.
ليكن ميرا سوال يہ ہے كہ: اس شادى سے سات برس قبل ميرى شادى يونيورسٹى كے كلاس فيلو كے ساتھ ہوئى، ليكن ابتدائى طور پر طو يہ شادى عرفى تھى، اور جب خاندان والوں كو علم ہوا تو يہ شادى شرعى طور پر مكمل كر لي گئى، ليكن يہ شادى مستقل نہ رہى اور ہمارے درميان طلاق ہو گى.
اور اس كے بعد ميں نے اپنے موجودہ خاوند كے ساتھ شادى كر لى، يہ علم ميں رہے كہ شادى سے قبل ميرے اس خاوند كو ميرى پہلى شادى كا علم تھا، اب مشكل يہ پيش آ رہى ہے كہ اب وہ دن رات مجھے اس كے طعنے ديتا رہتا ہے اور ذليل كرتا ہے اور اس ميں اور مشكل اس طرح پيدا ہوئى ہے كہ ميرى ساس ہمارے درميان دخل ديتى ہے، اور ہمارى زندگى اجيرن كرنے لگى ہے، اور ميں خاوند كے ساتھ جس معاملہ كى بھى اصلاح كرنے ميں كامياب ہوتى ہوں وہ اسے خراب كر كے ركھ ديتى ہے.
آخر ميں يہ ہے كيونكہ ہم سب ايك ہى گھر ميں رہتے ہيں جس ميں ساس كا عمل دخل ہے اور وہ ہمارى مشكل ميں بھى دخل ديتى ہے، اس نے جو كچھ بھى سنا اور ميرى پہلى شادى كا بھى ميرى ساس كو علم ہو گيا، اور اب ميرى ساس اور سسر اپنے بيٹے سے مجھے طلاق دينے كا مطالبہ كرتے ہيں كہ اسے طلاق دے كر اس كا سارا سامان ركھ لو.
يہ علم ميں رہے كہ ميرا خاوند مجھے طلاق نہيں دينا چاہتا، كيونكہ وہ نہيں چاہتا كہ اس كے بيٹے كى تربيت اس سے دور ہو؛ اس ليے كہ اس نے بھى ميرى طرح پہلى شادى كى تھى اور پھر طلاق ہو گئى، اور اس كا بھى ايك دس سالہ بيٹا ہے جو اس سے دور رہ كر تربيت پا رہا ہے، اب وہ اس كا دوبارہ تجربہ نہيں كرنا چاہتا، اور وہ مجھ سے محبت كا بھى دعوى كرتا ہے، اب مجھے پتہ نہيں چل رہا كہ اس سلسلہ ميں اپنے سسرال والوں كے ساتھ كيا كروں ؟
ميں نے خاوند سے كہا كہ اس گھر سے كہيں اور چلے جاتے ہيں، ليكن ميرى ساس نے بيٹے كو كہا كہ تيرى بيوى خائن ہے اور ممكن ہے اس كے بعد سامان چورى كركے اس پر چورى كا الزام لگا دوں، اور بيٹے كو كہا: ہمار گھر ميں رہنا امن ہے، كيونكہ وہ مستقل طور پر گھر ميں ہى رہتے ہيں اور يہ سامان چورى نہيں كر سكے گى، اور ساس بيٹے كو مجھے طلاق دے كر اور شادى كرنے كا كہتى رہتى ہے ؟

Published Date: 2010-03-18

الحمد للہ:

اول:

عرفى شادى كى ايك قسم تو باطل ہے، اور ايك دوسرى صورت ميں وہ ناقص ہو گى، باطل اس طرح كہ عورت اور مرد كا عقد نكاح اس حالت ميں ہو كہ عورت كا ولى اس شادى پر موافق نہ ہو اور ولى كے بغير شادى انجام پائے.

اور ناقص اس طرح ہو گى كہ جب يہ شادى خفيہ ہو اور اس كا اعلان نہ كيا جائے، كہ مرد كى طرف سے ابتدا ہو اور عورت كے خاندان والوں كا اس كا علم بھى نہ ہو، افسوس ہے كہ بعض اسلامى ممالك ميں اس طرح كى شادى پائى جاتى ہے، يہ ايسى صورت ہے جو باطل نكاح كى صورتوں ميں سے ايك صورت ہے، بلكہ يہ اصل ميں نكاح ہى نہيں !!

اس كے تفصيلى مسائل و احكام آپ سوال نمبر ( 45513 ) اور ( 45663 ) كے جوابات ميں ديكھ سكتے ہيں.

دوم:

خاوند پر بيوى كے حقوق ميں شامل ہے كہ وہ بيوى كے ساتھ حسن معاشرت كرے اور اس كے ساتھ بہتر اور اچھى بود و باش اختيار كرتے ہوئے زندگى گزارے اور بيوى كا احترام كرے اور اس كو ذليل كرنے كى كوشش مت كرے.

عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے نہ تو كبھى كسى عورت پر ہاتھ اٹھايا اور نہ ہى كسى خادم پر، ليكن آپ نے اللہ كى راہ ميں جہاد كرتے ہوئے ضرور ہاتھ اٹھايا "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 2328 ).

اور حكيم بن معاويہ القشيرى اپنے باپ سے روايت كرتے ہيں انہوں نے كہا:

" ميں نے عرض كيا: اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم ہم پر اپنى بيوي كا كيا حق ہے ؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جب خود كھاؤ تو اسے بھى كھلاؤ، اور جب خود پہنو تو اسے بھى پہناؤ، اور نہ تو اس كے چہرے پر مارو، اور نہ ہى اس قبيح قول كہو، اور اس سے گھر كے علاوہ كہيں اور بستر سے عليحدہ مت ہو"

سنن ابو داود حديث نمبر ( 2142 ) سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 1850 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ابو داود ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

المناوى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" بيوى كو مارنا حرام ہے، الا يہ كہ نشوز كى حالت ميں "

ديكھيں: فيض القدير ( 1 / 66 ).

اور شوكانى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اس باب كى حديث سے يہ ظاہر ہے كہ: بيوى سے بستر كى عليحدگى اور اسے مارنا جائز نہيں، الا يہ كہ وہ كوئى واضح فحش كام وغيرہ كرے، اور حديث ميں مطلقا عورت كو مارنے كى ممانعت وارد ہے.

ديكھيں: نيل الاوطار ( 6 / 263 ).

اور امام صنعانى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" قولہ: ( لا تقبح ) يعنى اسے كوئى ايسى بات مت سناؤ جسے آپ ناپسند كرتے ہوں، اور آپ اسے سخت اور ترش اور گندى بات كہيں "

ديكھيں سبل السلام ( 1 / 150 ).

چنانچہ خاوند پر واجب ہے كہ اللہ كا ڈر و تقوى اختيار كرے اور اسے يہ معلوم ہونا چاہيے كہ اس كے ليے بيوى كى كسى ايسے معاملہ ميں تذليل كرنا حلال نہيں جو ماضى ميں ہو چكا ہے اور ختم ہو چكا ہو، اور اسے يہ بھى علم ہونا چاہيے كہ اس طرح وہ اپنے ساتھ بھى برا سلوك كر رہا ہے كيونكہ اسے شادى سے قبل اپنى بيوى كى شادى كا علم ہو چكا تھا، اور اس كے باوجود اس نے اسے بطور بيوى اور اپنى اولاد كى ماں قبول كيا، اس ليے جو عيب وہ بيوى كو دے گا وہ عيب اسے خود بھى حاصل ہو گا، اور جس طرح وہ بيوى كى بےعزتى اور تذليل كريگا تو اس ميں اس كے اپنے نفس كى تذليل و بےعزتى ہے.

اس ليے اس پر واجب و ضرورى ہے كہ وہ بيوى سےحسن سلوك اور بہتر معاشرت كے ساتھ رہے، اور بيوى كے حقوق كى ادائيگى كرے، اور اسے ايك اہم معاملہ پر متنبہ رہنا چاہيے كہ ظالم شخص كے ليے دنيا ميں بھى سزا ہے اور اس كا آخرت ميں بھى انجام اچھا نہيں، اور ظلم ان گناہوں ميں شامل ہوتا ہے اللہ تعالى نے جن كى سزا آخرت سے قبل دنيا ميں بھى ركھى ہے.

انس رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" دو چيزوں كى سزا دنيا ميں جلد دى گئى ہے، ايك تو بغاوت اور دوسرى والدين كى نافرمانى "

رواہ الحاكم ( 4 / 196 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے السلسلۃ الاحاديث الصحيحۃ ( 1120 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

اور اگر يہ خاوند اپنى بيوى كا ماضى نہيں بھولتا، اور وہ اسے ذليل و رسوا كرنے پر اصرار كرے تو وہ عورت اپنے ذمہ نہ ركھے، بلكہ اسے طلاق دے كر اسے پورے حقوق ادا كر كے فارغ كرے جس پر اتفاق ہوا ہے.

ليكن كہ وہ اسے اپنى زوجيت ميں بھى ركھےاور اس كے حقوق ادا نہ كرے، يا پھر اسے اپنى زوجيب ميں ركھ كر اسے ذليل و رسوا كرے اور اس كى تحقير كرتا پھرے تو اس كے ليے حلال نہيں "

مزيد استفادہ كے ليے آپ سوال نمبر ( 41199 ) اور ( 10680 ) كے جوابات كا مطالعہ ضرور كريں.

سوم:

خاوند كو نہيں چاہيے كہ وہ اپنى بيوى كو طلاق دينے ميں اپنے والدين كى رغبت پر عمل كرے، كہ اگر والدين اسے كہيں كہ بيوى كو طلاق دے دو تو وہ ان كى بات مان كرطلاق دے دے ہاں يہ ہو سكتا ہے جن اسباب كى بنا پر والدين طلاق دينے كا مطالبہ كرتے ہيں وہ اسباب شرعى ہوں، يعنى بيوى كو معصيت و فحاشى كا كام كرے، يا پھر كسى واجب كو ترك كرنے والى ہو.

مستقل فتوى كميٹى كےعلماء كرام سے درج ذيل سوال كيا گيا:

ايك شخص نے والدين كى اجازت سے شادى كى اور شادى كے بعد تين برس تك بيوى كے ساتھ رہا اور اس كى اولاد بھى ہوئى تو والدين نے بغير كسى سبب اور غلطى كے بيوى كو طلاق دينے كا مطالبہ كر ديا، نہ تو بيوى سے خاوند كے بارہ كوئى گناہ ہوا اور نہ ہى ساس كے ساتھ اور پھر خاوند اور بيوى آپس ميں بہت محبت بھى كرتے ہيں، اب اس شخص كو كيا كرنا چاہئے: آيا والدين كى نافرمانى كے ڈر سے وہ بيوى كو طلاق دے يا نہ دے ؟

كميٹى كے علماء كرام كا جواب تھا:

مذكورہ شخص كو چاہيے كہ وہ اپنى ماں سے نيكى و حسن سلوك كرے، اور ماں سے اچھى كلام بھى كرے اور حسب استطاعت ماں كے ساتھ اچھے فعل سے پيش آئے، اور اگر تو اس كى بيوى دينى اور اخلاقى طور پر اسے پسند ہے تو اس كے ليے اسے طلاق دينا واجب نہيں.

الشيخ عبد العزيز بن باز.

الشيخ عبد الرزاق عفيفى.

الشيخ عبد اللہ بن غديان.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ ولافتاء ( 20 / 31 ).

اور شيخ محمد بن صالح العثيمين رحمہ اللہ سے دريافت كيا گيا:

آپ كو معلوم ہے آج كل جو معاشرے ميں تعصبات پيدا ہو چكے ہيں " يہ ميرا قبيلہ ہے، اور يہ ميرا قبيلہ نہيں، اس كا تعلق ميرے قبيلہ اور برادرى سے اور يہ غير برادرى سے تعلق ركھتا ہے " ايك شخص نے كسى دوسرى برادرى ميں شادى كر لى تو اس كا والد اس پر ناراض ہو كر كہنے لگا اس عورت كو طلاق دو وگرنہ ميں ميرے اور تيرے درميان كوئى تعلق نہيں، اس سلسلہ ميں آپ كى كيا رائے ہے ؟

شيخ رحمہ اللہ كا جواب تھا:

" اگر خاوند كو يہ عورت دينى اور اخلاق طور پر پسند ہے تو اسے طلاق نہيں دينى چاہيے، چاہے اس كا والد اسے طلاق دينے كا حكم بھى دے تو وہ اس سلسلہ ميں والد كى بات نہ سنے اور اس كى اطاعت مت كرے، اور اس ميں وہ نافرمان شمار نہيں ہو گا، بلكہ والد قطع تعلقى كر رہا ہے: كيونكہ اس كا كہنا ہے:

اگر تم اس كو طلاق نہيں ديتے تو ميں تم سے تعلق ختم كر لونگا، لہذا اس طرح تو وہ خود قطع رحمى كر رہا ہے، اور اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور تم سے يہ بھى بعيد نہيں كہ اگر تمہيں حكومت مل جائے تو تم زمين ميں فساد بپا كر دو، اور رشتے ناطے توڑ ڈالو يہ وہى لوگ ہيں جن پر اللہ كى پھٹكار ہے اور جن كى سماعت اور آنكھوں كى روشنى چھين لى ہے ﴾ محمد ( 22 - 23 ).

بلاشك و شبہ خاوند اور بيوى ميں تفرقہ اور اختلاف ڈالنا اور عليحدگى كى كوشش كرنا زمين ميں فساد كے مترادف ہے، اسى ليے اللہ سبحانہ و تعالى نے اس عمل كو جادوگروں كا فعل قرار ديتے ہوئے فرمايا ہے:

﴿ پھر لوگ ان سے وہ كچھ سيكھتے جس سے خاوند اور بيوى ميں جدائى ڈال ديں ﴾البقرۃ ( 102 ).

اور جادوگر زمين ميں فساد كرنے والے شمار ہوتے ہيں جيسا كہ موسى عليہ السلام نے فرمايا تھا اللہ سبحانہ و تعالى نے ان كا يہ قول نقل كرتے ہوئے فرمايا:

﴿ اور جب انہوں نے ڈالا تو موسى ( عليہ السلام ) نے فرمايا يہ جو كچھ تم لائے ہو جادو ہے، يقيني بات ہے كہ اللہ تعالى اس كو ابھى درہم برہم كيے ديتا ہے، يقينا اللہ تعالى ايسے فساديوں كا كام بننے نہيں ديتا ﴾يونس ( 81 ).

چنانچہ جادوگروہ كو موسى عليہ السلام نے فساديوں ميں شمار كيا، اور ان كا سب سے عظيم جادو خاوند اور بيوى كے درميان جدائى اور عليحدگى كرانا ہے، اس ليے يہ باپ جو اپنے بيٹے اور بہو كے مابين عليحدگى اور جدائى كى كوشش كر رہا ہے اس كا يہ عمل جادوگروں كے فعل كى جنس سے ہى ہے، اور وہ زمين ميں فساد و خرابى پيدا كرنا ہے.

اس طرح جو باپ اپنے بيٹے كو كہتا ہے كہ بيوى كو طلاق دو وگرنہ وہ اس سے قطع تعلقى كر ليگا، تو اس طرح باپ خود قطع رحمى كر رہا ہے اور زمين ميں فساد كا باعث بن رہا ہے، اس ليے وہ درج ذيل آيت كے تحت آتا ہے:

فرمان بارى تعالى ہے:

﴿ اور تم سے يہ بھى بعيد نہيں كہ اگر تمہيں حكومت مل جائے تو تم زمين ميں فساد بپا كر دو، اور رشتے ناطے توڑ ڈالو يہ وہى لوگ ہيں جن پر اللہ كى پھٹكار ہے اور جن كى سماعت اور آنكھوں كى روشنى چھين لى ہے ﴾ محمد ( 22 - 23 ).

اب ميں بيٹے كو نصيحت كرتے ہوئے كہتا ہوں: آپ جو جب اپنى بيوى كا دين اور اخلاق اچھا لگتا اور پسند ہے تو آپ اسے اپنے پاس ركھيں، اور طلاق مت ديں.

اور والد كو ميرى نصيحت يہ ہے كہ: وہ اپنے آپ كے متعلق اللہ سے ڈرتا ہوا تقوى اختيار كرے، اور اپنے بيٹے اور بہو كے درميان جدائى اور عليحدگى كى كوشش مت كرے، اس طرح وہ زمين ميں فساد و خرابى پيدا كرنے كا باعث ہو گا، اور اسى طرح اس قطع رحمى ميں بھى.

اور ہم بيٹے كو يہ كہتے ہيں كہ: آپ جس طرح ہيں اسى طرح رہيں اور بيوى كو ساتھ ركھيں، چاہے آپ كا والد ناراض ہو يا خوش، اور چاہے وہ آپ سے قطع تعلقى كرتا ہے يا صلہ رحمى ليكن اگر بالفرض باپ اپنى اس دھمكى پر عمل درآمد كرتے ہوئے آپ سے قطع تعلقى كر لے تو آپ اس كے پاس جا كر اس سے صلہ رحمى كى كوشش كريں، اور اگر وہ انكار كر دے تو اس كا گناہ اكيلے باپ پر ہو گا.

ہو سكتا ہے كچھ لوگ يہ كہيں كہ:

عمر رضى اللہ تعالى عنہ نے اپنے بيٹے كو حكم ديا تھا كہ وہ اپنى بيوى كو طلاق دے، لہذا بيٹے نے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے حكم سے بيوى كو طلاق دے دى تھى، اور ميں بھى اپنے بيٹے كو حكم ديتا ہوں كہ وہ اپنى بيوى كو طلاق دے دے ؟

اس كے متعلق ہم يہ عرض كرتے ہيں كہ: اس مسئلہ كے بارہ ميں امام احمد رحمہ اللہ سے دريافت كيا گيا: ايك شخص آيا اور كہنے لگا: ميرے باپ مجھے اپنى بيوى كو طلاق دينے كا حكم دے رہا ہے ؟

تو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اسے كہا:

" چاہے وہ تجھے حكم بھى دے تو بھى بيوى كو طلاق مت دو "

ميرے خيال ميں امام احمد رحمہ اللہ نے اس شخص سے دريافت كيا تھا كہ: كيا وہ اپنى بيوى ميں رغبت ركھتا ہے يا نہيں ؟

اور جب اس شخص نے امام احمد رحمہ اللہ كو اپنى بيوى ميں رغبت ركھنے كا بتايا تو امام احمد نے فرمايا:

" اسے طلاق مت دو "

تو وہ كہنے لگا: كيا عمر رضى اللہ تعالى عنہ نے اپنے بيٹے كو حكم نہيں ديا تھا كہ وہ اپنى بيوى طلاق دے تو بيٹے نے اسے طلاق دے دى تھى ؟

تو امام احمد رحمہ اللہ كہنے لگے:

كيا تمہارا باپ عمر ہے ؟

عمر رضى اللہ تعالى عنہ نے اپنے بيٹے كو صرف كسى خواہش يا تعصب كى بنا پر طلاق دينے كا حكم نہيں ديا تھا، ليكن يہ حكم كسى ايسے عمل كى بنا پر جس ميں انہوں نے مصلحت ديكھى تھى.

خلاصہ كلام يہ ہوا كہ:

جب تك بيٹے كو اپنى بيوى كا اخلاق اور دين اچھا لگتا ہے اور پسند ہے وہ اپنى بيوى كے ساتھ رہے اور اسے طلاق مت دے چاہے بيٹے كے ماں اور باپ راضى ہوں يا ناراض.

ديكھيں: لقاءات الباب المفتوح ( 72 ) سوال نمبر ( 7 ).

مزيد تفصيلى معلومات حاصل كرنے كے ليے آپ سوال نمبر ( 44923 ) اور ( 47040 ) كے جوابات كا مطالعہ ضرور كريں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments