ar

113474: عدالت ميں خاوندنے عليحدہ عليحدہ تين طلاقيں ديں بيوى كا دعوى ہے كہ اس نے يہ مجبورا كيا


ميں نے ( 19 / 2 / 2005 م ) ميں ايك شادى شخص شخص سے شادى كى اور يہ شادى عدالت ميں ولى كى موجودگى ميں شرعى طور پر ہوئى اور شادى كو مشہور بھى كيا گيا ليكن يہ شادى ميرے خاوند كے گھر والوں اور اس كى پہلى بيوى كى لاعلمى ميں ہوئى.
ميں اس پر راضى تھى اور ہمارے درميان اتفاق يہ ہوا كہ وہ انہيں اس شادى كے متعلق پہلا بچہ پيدا ہونے كے بعد بتائےگا ليكن دو ماہ گزرنے كے بعد ہى پہلى بيوى كو اس شادى كے متعلق معلوم ہو گيا وہ ايك معروف خاندان سے تعلق ركھتى ہے بيوى نے مجھے طلاق دينے كا اصرار كيا اور اس كے خاندان والوں نے بھى، ميرا خاوند ان سے خوفزدہ تھا اس نے مجھے كہا كہ ميں اس كا ساتھ دوں كيونكہ وہ مجھے ايك رجعى طلاق دے گا تا كہ وہ انہيں خاموش كر سكے اور ان كے شر كو دور كرے.
وہ اندر سے طلاق پر راضى نہ تھا اس نے جس دن طلاق ہوئى تھى اسى دن نيت سے ميرے ساتھ رجوع كر ليا اور ميرے پاس آ كر ميرے ساتھ مباشرت بھى كى، اور ميں اس دوران چار ماہ كى حاملہ تھى " طلاق ( 22 / 5 / 2005 ) كو ہوئى اور رجوع بھى اسى دن كر ليا.
اس كے ايك ماہ بعد انہيں دوبارہ علم ہو گيا كہ اس نے مجھ سے رجوع كر ليا ہے اور ميں ابھى تك اس كى بيوى ہوں پہلى بيوى كے گھر والے اور خاوند كے گھر والے سب جمع ہوئے اور اسے دھمكى دى كہ وہ اس وقت تك گھر داخل نہ ہو جب تك اس كے پاس طلاق كا ورقہ نہ ہو، وہ پھر دوبارہ ان سے ڈر گيا اور اس خوف اور مجبورى كے تحت اس نے مجھے دوسرى طلاق دے دى اور اس كے تين ماہ بعد مجھ سے رجوع كر ليا، اور ميں سات ماہ كى حاملہ تھى، يعنى عدت ختم ہونے سے قبل رجوع كر ليا اور پھر مجھے كہا تم آج سے ميرى بيوى ہو ( دوسرى طلاق 25 / 6 / 2005 اور رجوع 24 / 9 / 2005 ميں ہوا ) ميرا وضع حمل 23 / 11 / 2005 ہوا تو ميں اس كى عصمت ميں تھى اور اس كے ساتھ تقريبا دو برس تك رہى اس كے اور اس كى پہلى بيوى كے گھر والے يہ سمجھتے ہيں كہ ميں موجود نہيں اور اس نے مجھے طلاق دے دى ہے...
اور اب ميں اس كے دوسرے بچے كى ماں بننے والى ہوں مجھے حمل كا آٹھواں ماہ ہے، تين ہفتہ قبل انہيں علم ہوا كہ اس نے مجھ سے رجوع كر ليا ہے اور ميں حاملہ ہوں تو پھر وہ اسے دھمكانے لگے كہ وہ اسى وقت گھر ميں داخل ہو سكتا ہے جب وہ مجھے طلاق دےگا، ليكن اس نے ابتدا ميں ان كى بات نہ مانى ليكن اس كے بعد وہ ان كے سامنے گھٹنے ٹيك گيا اور ان سے ڈر كر مجھے طلاق دے دى صرف اس ليے كہ وہ ان كى خواہش پورى كرے، اسے طلاق كے علاوہ كوئى اور فكر نہ تھا، وہ طلاق اس ليے دينا چاہتا تھا كہ طلاق كا كاغذ لے كر اپنے اور بيوى كےگھر والوں كو دے...
حتى كہ عدالت ميں جب انہوں نے اس كے ساتھ كوشش كى تو بھى وہ كسى كى سننے پر تيار نہ تھا، اور وہ كچھ نہيں چاہتا تھا حتى كہ كسى بھى چيز ميں سوچ نہ تھى صرف وہ كسى بھى قيمت پر طلاق كا ورقہ حاصل كرنا چاہتا تھا ( طلاق 25 / 12 / 2007 ہوئى تو ميں حاملہ تھى ) يہ علم ميں رہے كہ تينوں طلاقيں عدالت ميں رجسٹر ہيں اور يہ سب مجبور كر كے حاصل كى گئى ہيں، تو كيا يہ طلاق صحيح ہے، كيا ميں اب بالفعل مطلقہ عورت ہوں اور اس پر حرام ہوں ؟
اور اب اس كا حل كيا ہے ميرى ايك بچى بھى ہے اور ميں دوسرے بچے كى ماں بننے والى ہوں ان شاء ايك ماہ كے دوران ولادت ہو جائيگى ؟

Published Date: 2010-12-11

الحمد للہ:

آپ نے جو كچھ ذكركيا ہے اس سے ہميں تو يہ ظاہر نہيں ہوتا كہ آپ كے خاوند كو يہ دھمكانا اور اسے تنگ كرنا اس معتبر درجہ كے اكراہ و جبر پر پہنچتا ہو، اور جب عدالت ميں يہ معاملہ مكمل ہو چكا ہے تو آپ عدالت سے رجوع كريں تا كہ آپ اپنے اس اكراہ اور مجبور كيے جانے كے دعوى كو ديكھيں.

عدالت كے حكم كے مطابق آپ اپنے خاوند سے بائن كبرى ہو چكى ہيں اور اس كے ليے اس وقت تك حلال نہيں ہو سكتيں جب تك كسى اور سے نكاح نہ كر ليں.

اس سے بچ كر رہيں كہ وہ آپ كے وہم ميں لائے كہ آپ اس كى بيوى ہيں، بلكہ آپ اس كى بيوى اسى صورت ميں بن سكتى ہيں جب تك عدالت طلاق كو ختم نہيں كرتى اور وہ بھى عدالت كے سامنے معتبر جبر كو ثابت كرنے كے بعد.

اور جب تك يہ نہ ہو آپ كا اس كے ساتھ رہنا زنا شمار ہو گا، اللہ تعالى سے سلامتى و عافيت كى دعا ہے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments