ar

145722: كچھ عرصہ بيوى كو نان و نفقہ سے محروم ركھنے كے بعد طلاق دے دى كيا بيوى اس عرصہ كے نان و نفقہ كا مطالبہ كر سكتى ہے ؟


سوال ميرے بيٹى اور داماد كے بارہ ميں ہے، تقريبا ايك برس سے دونوں عليحدہ ہو چكے ہيں، اس ليے كہ ميرا داماد ميرى بيٹى سے برا سلوك كرتا تھا، ان كى رہائش بھى والدين اور اقرباء سے دور تھى، ايك بار بيٹى كو جھگڑا كى بنا پر مجبورا پوليس رپورٹ كرنا پڑى، پوليس نے آ كر گھر كى تلاشى لى تا كہ بيٹى كى بات كى سچائى معلوم كى جا سكے تو انہوں نے بچى كے جسم پر ضرب كے نشانات پائے اور ميرے داماد كو گرفتار كر ليا، اور نہ تو اپنى بيوى سے بات چيت كرنے كى اجازت دى اور نہ ہى ديكھنے اور ملنے، بلكہ جہاں ہمارى بيٹى اسے وہاں جانے سے بھى روك ديا.
اس وجہ سے ہم اپنے داماد كے كہنے پر بيٹى كو اپنے گھر لانے پر مجبور ہوئے، جب لائے تو وہ بہت لاغر ہو چكى تھى بچى كى عمر سولہ برس ہے، اور وہ حاملہ ہونے كى وجہ سے ويٹامن كى كمى كا شكار تھى، گھر ميں كھانے كى كوئى چيز نہ تھى اور اسے كوئى اختيار بھى حاصل نہ تھا، صرف وہ مسجد يا پھر كوئى چيز خريدنے يا ہوا خورى كے ليے باہر جا سكتى تھى.
ان حالات ميں ہمارے دامام نے ہميں پوليس معاملہ ختم ہونے كے بعد اسے واپس لے جانے كا عنديہ ديا، اسى وجہ سے ہمارے ساتھ رابطہ رہا كہ ہمارى بيٹى عدالت ميں جا كر اعتراف كرے كہ اس نے بھى خاوند كو مارا ہے، ليكن بيٹى نے جانے سے انكار كرديا، جس كى بنا پر اسے اور زيادہ غصہ آيا اور طلاق كى دھمكى دى، بہر حال بيٹى نے وكيل كو لكھا كہ مقدمہ عدالت سے ختم كر ديا جائے كيونكہ وہ اپنے خاوند كے ساتھ دوبارہ رہنا چاہتى ہے، جيسے ہى مقدمہ ختم ہوا اس نے فورى ہميں طلاق دينے كى اطلاع كر دى، كہ اس نے پوليس رپورٹ كيوں كروائى تھى.
جون ( 2008 ) سے آج تك ہم رابطہ كى كوشش كر رہے ہيں تا كہ طلاق كى تفصيل معلوم ہو سكے ليكن كوئى فائدہ نہيں ہوا، شريعت كے مطابق تو يہ طلاق ہو چكى ہے كيا ايك برس كا نان و نفقہ لينے كا حق ركھتى ہے يا نہيں، اور آپ اس مسئلہ ميں كيا نصيحت فرماتے ہيں ؟

Published Date: 2012-11-08

الحمد للہ:

اول:

خاوند كے ليے بيوى پر بہتر اور اچھے طريقہ سے خرچ كرنا لازم ہے؛ كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ مرد حضرات عورتوں پر حاكم ہيں، اس ليے كہ اللہ سبحانہ و تعالى نے ايك دوسرے پر فضيلت دى ہے، اور اس ليے بھى كہ مردوں نے اپنے مال خرچ كيے ہيں }النساء ( 34 ).

اور ايك دوسرے مقام پر ارشاد بارى تعالى ہے:

{چاہيے كہ مالدار آدمى اپنى وسعت كے مطابق خرچ كرے اور جس كى روزى تنگ ہو وہ اللہ كے ديے ہوئے سے خرچ كرے، اللہ تعالى كسى بھى جان كو اتنا ہى مكلف كرتا ہے جسقدر اسے ديا ہے }الطلاق ( 7 ).

معاويہ قشيرى رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں ميں نے عرض كيا:

اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم ہمارى بيوى كا اس كے خاوند پر كيا حق ہے ؟

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جب تم خود كھاؤ تو اسے بھى كھلاؤ، اور جب تم خود لباس پہنو تو اسے بھى پہناؤ، اور بيوى كے چہرہ پر مت مارو، اور قبيح و بدشكل مت كہو، اور گھر كے علاوہ اس سے عليحدگى مت اختيار كرو "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 2142 ) سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 1850 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے اسے صحيح سنن ابو داود ميں صحيح قرار ديا ہے.

ابن رشد رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" فقھاء اس پر متفق ہيں كہ درج ذيل فرمان بارى تعالى كى بنا پر خاوند پر بيوى كا نان و نفقہ اور لباس واجب ہے.

{ اور وہ مرد جس كا بچہ ہے اس كے ذمے معروف طريقہ كے مطابق ان عورتوں كا كھانا اور ان كا كپڑا ہے }.

اور اس ليے بھى كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ثابت ہے كہ:

" ان عورتوں كا تم پر نان و نفقہ اور ان كا لباس معروف طريقہ كے مطابق واجب ہے "

اور اس ليے بھى كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ہند رضى اللہ تعالى سے فرمايا تھا:

" تم اتنا مال لے ليا كرو جو تمہيں اور تمہارى اولاد كو معروف طريقہ سے كافى ہو "

رہا نفقہ تو فقھاء كرام اس كے وجوب پر متفق ہيں " انتہى

ديكھيں: بدايۃ المجتھد و نھايۃ المقتصد ( 44 ).

ليكن اگر بيوى ناشز يعنى اپنے خاوند كى نافرمان ہو مثلا وہ خاوند كى اجازت كے بغير گھر سے باہر جائے، يا خاوند كا حق ادا نہ كرے تو پھر يہ نان و نفقہ ساقط ہو جائيگا.

دوم:

رجعى طلاق والى عورت كا دوران عدت نان و نفقہ خاوند كے ذمہ لازم ہے.

اور اگر وہ حاملہ بيوى كو طلاق دے تو حاملہ بيوى كى عدت وضع حمل ہوگى، اس ليے حمل كى مدت ميں چاہے طلاق بھى دے دے تو بھى بيوى كا نان و نفقہ خاوند كے ذمہ لازم ہوگا.

موسوعۃ الفقھيۃ ميں درج ہے:

" فقھاء كرام كا اتفاق ہے كہ طلاق رجعى والى يا بائن طلاق والى حاملہ عورت كا وضع حمل تك نان و نفقہ خاوند كے ذمہ واجب ہوگا؛ كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اور اگر وہ عورتيں حاملہ ہوں تو ان پر وضع حمل تك خرچ كرو }. انتہى

ديكھيں: الموسوعۃ الفقھيۃ ( 16 / 274 ).

سوم:

چاہے بيوى خاوند كى مطيع و فرماں بردار ہو يا نافرمان حمل كى حالت ميں طلاق سے پہلے يا طلاق كے بعد ہر حالت ميں اس كے اخراجات و نان و نفقہ خاوند كے ذمہ واجب ہوگا اور جب بچہ پيدا ہو جائے تو بچے كے اخراجات بھى باپ كے ذمہ واجب ہونگے.

مزيد تفصيل كے ليے آپ سوال نمبر ( 106750 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

اس سے يہ واضح ہوا كہ آپ كے داماد پر آپ كى بيٹى كے حمل كا نان و نفقہ طلاق سے قبل اور طلاق سے بعد بھى لازم ہے، اور اسى طرح اسے طلاق سے قبل آپ كى بيٹى كے اخراجات دينا ہونگے، اور طلاق كے بعد عدت ختم ہونے تك بھى نفقہ كى ادائيگى كرنا ہوگى، اس سے استثنى اسى صورت ميں ہو سكتا ہے كہ اگر بيوى كى نافرمانى ثابت ہو جائے، اگر نافرمانى ثابت ہو جائے تو پھر بيوى كے نفقہ كى بجائے حمل كا نفقہ بھى ادا نہيں ہوگا.

اگر خاوند اپنى بيوى پر واجب كردہ نفقہ خرچ نہيں كرتا تو بيوى كو قرض حاصل كرنا چاہيے تھا، كہ وہ قرض لے كر اپنا خرچ پورا كرے، اور پھر وہ خاوند سے قرض كى ادائيگى مطالبہ كريگى.

چاہے بيوى نے قرض ليا ہو يا آپ نے بغير قرض ليے اس پر خرچ كيا ہے تو وقت اور عرصہ گزرنے سے وہ خرچ جو خاوند ادا ہى نہيں كيا ساقط نہيں ہوتا، بلكہ آپ اس سے ادائيگى كا مطالبہ كرنے كا حق ركھتے ہيں.

ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" جس شخص نے اپنے ذمہ بيوى كا واجب نفقہ كچھ عرصہ ادا نہ كيا تو يہ اس سے ساقط نہيں ہوگا، بلكہ يہ اس كے ذمہ قرض ہے اس كى ادائيگى كرنا ہوگى، چاہے اس نے نفقہ كسى عذر يا غير عذر كى بھى بنا بھى ترك كيا ہو، امام احمد رحمہ اللہ كى واضح اور ظاہر روايت يہى ہے، اور حسن اور مالك شافعى، اسحاق اور ابن منذر سب كا يہى قول ہے ":

جمہور رحمہ اللہ نے عمر رضى اللہ تعالى عنہ درج ذيل حكم سے استدلال كيا ہے:

" عمر رضى اللہ تعالى عنہ نے فوج كے سالاروں كو خط لكھا كہ جو لوگ اپنى بيويوں سے غائب ہيں، يا تو انہيں ان كے اخراجات ديں، يا پھر طلاق دے ديں، اور اگر وہ طلاق ديں تو پچھلے عرصہ كا نان و نفقہ روانہ كريں " انتہى

ديكھيں: المغنى ( 8 / 165 ).

چہارم:

اگر وضع حمل ہونے كى بنا پر عدت ختم ہو جائے تو آپ كى طلاق يافتہ بيوى كے ليے اپنے خاوند كے پاس جانا اور خاوند كا اس سے رجوع كرنا جائز نہيں؛ ليكن اگر وہ چاہے تو مہر كى ادائيگى كرتے ہوئے نيا نكاح كيا جا سكتا ہے.

ہم اپنى بہن كو يہى نصيحت كرتے ہيں ( اللہ اسے توفيق سے نوازے ) اگر اس كا خاوند برے اخلاق كا مالك ہے، اور وہ اپنے خاوند كے اخلاق ميں كوئى بہترى اور تبديلى كى اميد بھى نہيں ركھتى تو پھر وہ اس كے پاس واپس جانے كى حرص مت ركھے، ہو سكتا ہے جو كچھ ہوا ہے وہ اس كے ليے بہتر ہو اور پھر اللہ سبحانہ و تعالى كا بھى فرمان ہے:

{ اور اگر وہ دونوں عليحدہ ہو جائيں تو اللہ تعالى ہر ايك كو اپنى وسعت و فضل سے غنى كر ديگا، اور اللہ سبحانہ و تعالى بڑى وسعت والا اور حكمت والا ہے }النساء ( 130 ).

اور اگر اس كا خاوند مجمل طور پر پسنديدہ ہے اور وہ اپنے خاوند كے پاس واپس جانے كى رغبت ركھتى ہے تو پھر اس كے ليے كسى ايسے شخص كو درميان ميں لايا جائے تو اسے تلاش كر كے انہيں اكٹھا اور آپس ميں جمع كرنے كى كوشش كرے، اس كے ساتھ ساتھ اسے كثرت سے اللہ كى طرف رجوع كرتے ہوئے توفيق كى دعا كرنى چاہيے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments