بدھ 14 صفر 1440 - 24 اکتوبر 2018
اردو

بيوى كى نافرمانى حمل كا نفقہ ساقط نہيں كرتى

106750

تاریخ اشاعت : 13-06-2012

مشاہدات : 1977

سوال

ميں نے آپ كو طلاق كے متعلقہ سوال نمبر ( 106150 ) ارسال كيا اور آپ نے اس كا جواب عنايت فرمايا، ليكن ميرا ايك اشكال باقى ہے، مجھے يہ ياد نہيں كہ آيا ميرى نيت عام تھى يا كہ مينٹريال ميں موجود اپنے گھر كے متعلق تھى، عموما ميں نے يہ بطور دھمكى استعمال كيا تھا، اور ميں طلاق نہيں دينا چاہتا تھا.
اگر ميں اسے طلاق دينا چاہتا تو اس وقت دے سكتا تھا جب وہ ميرى نافرمانى كرتے ہوئے بغير اجازت گھر سے باہر جاتى تھى، اور پھر اب تو اسے طلاق پر معلق كرنے كا كوئى سبب بھى نہيں تھا.
مجھے ہر وقت وسوسہ سا رہتا ہے مجھے كسى معين حالت كى نيت ياد نہيں ہے جيسا كہ سوال ميں ہے، ميرے سوال سے ظاہر ہوتا ہے كہ بہر حال ميرى نيت ميں طلاق دينا مقصود نہ تھا. واللہ اعلم.
اللہ سے ميرى دعا ہے كہ اللہ ميرى زبان كو اس طرح كى تعلقات سے محفوظ ركھے، برائے مہربانى يہ بتائيں كہ اس وقت بيوى كے ساتھ ميرے جو بچے ہيں ان كے نفقہ كے متعلق كيا حكم ہے، اور اب جو حمل ہے اس كے نفقہ كا كيا حكم ہو گا ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

اول:

اگر اصلا آپ كى نيت ميں طلاق نہيں تھى، يعنى جب آپ نے بيوى كو يہ بات كہى تو صرف اسے ڈرانا دھمكانا مقصود تھا، اور مخالفت كى حالت ميں طلاق واقع نہيں كرنا چاہتے تھے، تو مونٹريال يا اس كے اپنے ملك ميں بغير اجازت گھر سے باہر نكلنے كى صورت ميں طلاق واقع نہيں ہوگى، بلكہ آپ كو صرف قسم كا كفارہ ادا كرنا لازم آئيگا.

دوم:

اولاد كا نفقہ والد كے ذمہ واجب ہے، چاہے بيوى نافرمان بھى ہو اور اسے طلاق بھى دے ديں تو بھى اولاد كا نفقہ واجب ہوگا، اور اسى طرح بيوى كے حاملہ ہونے كى صورت ميں حمل كا نفقہ بھى واجب ہے.

شرح منتھى الارادات ميں درج ہے:

" حاملہ عورت كا نفقہ اس كے حمل كے ليے ہے؛ كيونكہ يہ نفقہ حمل كى وجہ سے ہے لہذا حمل ہونے كى صورت ميں نفقہ واجب ہوگا، اور وضع حمل كى صورت ميں يہ نفقہ ساقط ہو جائيگا....

اور اگر بچہ ماں كے بيٹ ميں فوت ہو جائے تو اس سے نفقہ بھى منقطع ہو جائيگا، كيونكہ يہ نفقہ ميت كے ليے واجب نہيں ہوتا، اس طرح حاملہ نافرمان عورت كے ليے نفقہ واجب ہوگا؛ كيونكہ نفقہ تو حمل كے ليے ہے، يہ ماں كى نافرمانى كى بنا پر ساقط نہيں ہوتا " انتہى بتصرف

ديكھيں: شرح منتھى الارادات ( 3 / 231 ).

اللہ سبحانہ و تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ وہ آپ كى زبان كى حفاظت فرمائے، اور ايسے اعمال كرنے كى توفيق نصيب فرمائے جنہيں وہ پسند فرماتا اور جن سے راضى ہوتا ہے.

واللہ اعلم .

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں