ar

205369: لڑکی کے والد نے اس پر قسم ڈال دی کہ: اگر فلاں سے شادی نہیں کرنی تو ملازمت بھی نہیں کرنی، پھر والد کا انتقال ہوگیا، تو کیا والد کی قسم کا کفارہ دینا ہوگا؟


کیا فوت شدہ کی قسم ختم ہوجاتی ہے؟ میرامطلب ہے کہ اگر باپ اپنی بیٹی پر قسم ڈال دے کہ "ج"سے شادی نہیں کرنی تو ملازمت بھی نہیں کرنی، اسکے بعد والد فوت ہوگیا، اور اُس نے "ج" سے شادی نہیں کی؛ کیونکہ وہ خود ہی شادی کے بارے میں خاموش ہوگیا تھا، یہ بات ذہن نشیں رہے کہ لڑکی والدین کی نافرمان نہیں ہے، لیکن اُن دنوں میں کافی دباؤ میں تھی، اور اسکے پاس اتنا وقت بھی نہیں تھا کہ وہ اس موضوع پر عقلمندی والا فیصلہ کرسکتی، اسے اپنے بھائیوں کی طرف سےبھی "ج" کیساتھ شادی نہ کرنے کی صورت میں کافی دباؤ کا سامنا تھا کہ وہ تعلیم مکمل نہیں کرنے دینگے، صرف اس بنا پر کہ "ج" رسم و رواج کے مطابق لڑکی کے رشتہ داروں میں سے تھا، باقی دینی یا شرعی کوئی وجہ نہیں تھی!
تو کیا اب یہ لڑکی اپنے فوت شدہ والد کی طرف سے قسم کا کفارہ دے سکتی ہے؟

Published Date: 2014-09-15

الحمد للہ:

اول:والد یا دیگر رشتہ دار لڑکی کو کسی غیر مرغوب آدمی سے شادی پر مجبور نہیں کرسکتے، اور جبر کرنے کا معاملہ اس وقت مزید سنگین ہوجائے گا جب وہ شخص لڑکی کا دین اور اخلاق کے اعتبار سے ہم پلہ نہ ہو۔

لڑکی ہو یا لڑکا کسی خاص فرد کیساتھ شادی کے معاملے میں ان پر اپنے والدین کی اطاعت ضروری نہیں ہے، اس لئے کوئی بھی شادی سے انکار کرے تو یہ نافرمانی کے زمرے میں نہیں آتا۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:

"والدین اپنی اولاد کو کسی نا پسندیدہ فرد کیساتھ شادی پر مجبور نہیں کرسکتے، اولاد انکار کی بنا پر نافرمان بھی نہیں ہوگی، جیسے غیر مرغوب کھانا نہ کھانے کی وجہ نافرمان نہیں ہوتی"انتہی

" الفتاوى الكبرى " (5/449)

مزید معلومات کیلئے سوال نمبر: (111787) کا جواب ملاحظہ کریں

دوم:

اگر والد نے اپنی بیٹی پر قسم ڈالی کہ فلاں سے شادی نہ کی تو ملازمت بھی نہیں کروگی، اسکے بعد والد فوت ہوگیا، اب اگر لڑکی نے والد کی زندگی میں ملازمت کی تو والد کے ذمہ کفارہ ہوگا، جو کہ والد کے ترکہ سے ادا کیا جائے گا،جس طرح میت کی طرف سے دیگر قرضے ادا کیے جاتے ہیں۔

اور اگر لڑکی نے والد کی زندگی میں ملازمت نہیں کی، لیکن وفات کے بعد ملازمت کرنے لگی تو ایسی صورت میں قسم کا کفارہ والد کے ذمہ نہیں آئے گا؛ کیونکہ والد کے فوت ہونے کی وجہ سے قسم ختم ہوگئی، چنانچہ ورثاء پر کچھ بھی لازم نہیں آئےگا، اس لئے کفارہ یا لڑکی پر شادی کرنا ضروری نہیں ہوگا۔

بہوتی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

"اگر کسی نے کوئی کام کرنے کی قسم اٹھائی، اور ایک معین وقت کی نیت کرلی، مثلا ایک دن، ماہ، یا سال، تو اسے مقرر کردہ وقت کی پابندی کرنا ہوگی؛ کیونکہ نیت کی وجہ سے الفاظ کے ظاہری معنی کو چھوڑ کرغیر ظاہری معنی مراد لیا جاسکتا ہے، لہذا وقت کیساتھ مقید قسم کسی اور وقت میں بالاولی ادا نہیں کی جائے گی، اور اگر قسم کیلئے کوئی وقت مقرر نہیں کیا، پھر قسم سے متعلقہ چیز تلف ہونے ہوگئی یا قسم اٹھانے والا ہی فوت ہوگیا تو قسم نہیں ٹوٹے گی[بلکہ ختم ہوجائے گی]"انتہی

"كشاف القناع" (6/239)

دائمی فتوی کمیٹی سے پوچھا گیا:

"ایک آدمی نے اپنے بھائی پر قسم ڈال دی کہ میرے گھر میں داخل نہیں ہونا، اسکے بعد قسم ڈالنے والا فوت ہوگیا، اور میت کا وہی بھائی گھر میں داخل ہوگیا، تو کیا میت کے ورثاء پر کچھ لازم آئے گا؟ یا میت کے بھائی پر قسم کا کفارہ ہوگایا نہیں؟

تو انہوں نے جواب دیا: آپکے اپنے فوت شدہ بھائی جس نے آپ پر داخل نہ ہونے کی قسم ڈالی تھی اسکے گھر جانے میں کوئی حرج نہیں ہے،کیونکہ اسکی قسم وفات کی وجہ سے ختم ہوچکی ہے، اس لئے ورثاء پر بھی کوئی کفارہ لازم نہیں آتا۔ واللہ اعلم"انتہی

" فتاوى اللجنة الدائمة – پہلا مجموعہ- " (23/139-140)

واللہ اعلم .

اسلام سوال وجواب ویب سائٹ
Create Comments