45871: اجنبى اور غير محرم مرد گزرنے كا احتمال ہونے كى بنا پر دوران نماز عورت كا چہرہ چھپانا


كيا اجنبى اور غير محرم مردوں كى موجودگى يا ان كے گزرنے كا احتمال ہو تو نماز ميں چہرے كا پردہ كرنا واجب ہے، جيسا كہ حرم ميں ہوتا ہے، يا كہ چہرہ ننگا كرنے ميں كوئى حرج نہيں ؟

Published Date: 2008-02-13

الحمد للہ:

شيخ صالح الفوزان كہتے ہيں:

نماز ميں عورت سارى كى سارى پردہ ہے، اس ليے اگر وہاں غير محرم مرد نہ ہوں تو چہرے كے علاوہ باقى سارا بدن چھپانا واجب ہوگا.

اس ليے اگر وہ اكيلى ہو، يا پھر وہاں اس كے محرم مرد ہوں تو وہ نماز ميں چہرہ ننگا ركھےگى.

ليكن اگر وہاں غير محرم مرد ہوں تو وہ نماز يا عام حالت ميں اپنا چہرہ چھپا كر ركھے گى، كيونكہ چہرہ بھى پردہ ميں شامل ہے.

ديكھيں: فتاوى المراۃ المسلمۃ ( 1 / 315 ).

مزيد تفصيل كے ليے آپ سوال نمبر ( 21803 ) اور ( 1046 ) كے جوابات كا مطالعہ ضرور كريں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments