ar

95028: بےپرواہ اور بد دماغ خاوند كے منع كرنے كے باوجود بيوى كا نفلى روزہ ركھنا


ميں ہر قسم كے وسائل مثلا نماز، روزہ اور نوافل، اور رات كے آخرى حصہ ميں تہجد كى ادائيگى، اور ہر جمعرات اور سوموار كو روزہ وغيرہ كے ساتھ اللہ كا قرب حاصل كرنے كى كوشش كرتى ہوں، ليكن مجھے يہ علم ہوا ہے كہ عورت رمضان كے روزوں كے علاوہ كوئى روزہ خاوند كى اجازت كے بغير نہيں ركھ سكتى، اور كئى ايك اسباب كى بنا پر ميں ايسا نہيں كرتى:
پہلا سبب يہ ہے كہ: سوال نمبر ( 1859 ) كے جواب ميں جو كچھ بيان ہوا ہے وہ سب ميرے خاوند پر فٹ ہوتا ہے، اور پھر وہ ميرے ساتھ مباشرت بھى نہيں كرتا چاہے ميں نے روزہ ركھا ہو يا نہ ركھا ہو، وہ ميرے بستر پر آنے سے ہى انكار كر ديتا ہے، اور دليل يہ ديتا ہے كہ جب ميں نماز فجر كے وقت اٹھتى ہوں تو اس كے آراح ميں خلل پڑتا ہے، جس كى بنا پر ميں دوسرے كمرے ميں سوتى ہوں، تا كہ فجر اور قيام الليل كا اجروثواب ضائع نہ ہو.
اور جب ميں روزہ ركھنے كى اجازت مانگتى ہوں تو وہ مجھے اجازت دينے سے انكار كر ديتا ہے، جس كى بنا ميں اس كے علم ميں لانے كے ليے اسے كہتى ہوں كہ كل روزہ ركھونگى، اور اجازت نہيں ليتى، تو كيا ميرے سارے روزے باطل ہيں، ـ يہ علم ميں رہے كہ ميں دو برس سے اس حالت كا شكار ہوں ـ ؟

Published Date: 2007-10-24

الحمد للہ:

اول:

اصل تو يہى ہے كہ اگر خاوند گھر ميں ہو تو بيوى نفلى روزہ اجازت كے بغير نہيں ركھ سكتى.

ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" كسى بھى عورت كے ليے جائز نہيں كہ ا سكا خاوند موجود ہو اور وہ اس كى اجازت كے بغير روزہ ركھے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5159 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1026 ).

يہ چيز تو بيوى پر خاوند كے حق كى عظمت كى بنا پر مشروع كى گئى ہے، اور خاوند كے ليے افضل يہى ہے كہ وہ بيوى كو روزہ ركھنے كى اجازت دے دے؛ كيونكہ ايسا كرنے ميں بيوى كے نيكى و اطاعت كے كام ميں معاونت ہوگى، اور خاوند كو بھى ا سكا اجروثواب حاصل ہوگا، اور اگر خاوند كو دن كے وقت بيوى كے پاس جانے كى حاجت نہ ہو تو اس حالت ميں بيوى كو روزہ نہ ركھنے دينا مكروہ ہے.

شيخ عبد اللہ بن جبرين حفظہ اللہ سے درج ذيل سوال كيا گيا:

كيا مجھے بيوى كو نفلى روزے مثلا شوال كے چھ روزے ركھنے سے منع كرنے كا حق حاصل ہے ؟

اور اگر ميں منع كروں تو كيا مجھے ا سكا گناہ ہو گا ؟

شيخ كا جواب تھا:

" اگر خاوند گھر ميں ہو تو بيوى سے مباشرت كى ضرورت كے پيش نظر بيوى كے ليے اجازت كے بغير نفلى روزہ ركھنے كى ممانعت آئى ہے؛ تو اگر بيوى خاوند كى اجازت كے بغير روزہ ركھ لے تو خاوند كو بيوى سے ہم بسترى كى ضرورت ہونے كى شكل ميں بيوى كے ليے روزہ توڑنا جائز ہے، اور اگر خاوند كو بيوى سے مباشرت كرنے كى ضرورت اور حاجت نہ ہو تو خاوند كے ليے بيوى كو روزہ ركھنے سے منع كرنا مكروہ ہے، ليكن اگر روزہ ركھنا بيوى كے ليے نقصاندہ ہو، يا پھر بچے كى تربيت ميں خلل پيدا كرے يا بچے كو دودھ پلانے ميں نقصاندہ ہو تو پھر وہ منع كر سكتا ہے، چاہے وہ شوال كے روزے ہوں يا دوسرے نفلى روزے.

ديكھيں: فتاوى اسلاميۃ ( 2 / 167 ).

اور اگر بيوى خاوند كى اجازت كے بغير روزہ ركھ لے تو اس كے فعل كى حرمت كے ساتھ روزہ صحيح ہو گا.

الموسوعۃ الفقھيۃ ميں درج ہے:

فقھاء اس پر متفق ہيں كہ عورت خاوند كى اجازت كے بغير نفلى روزہ نہيں ركھ سكتى؛ كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" عورت كا خاوند موجود ہو تو وہ اس كى اجازت كے بغير روزہ نہ ركھے "

اور اس ليے بھى كہ خاوند كا حق فرض ہے، تو كسى نفل كے ليے فرض ترك كرنا جائز نہيں.

اور اگر عورت خاوند كى اجازت كے بغير روزہ ركھ لے تو جمہور علماء كے ہاں حرمت كے ساتھ ا سكا روزہ صحيح ہوگا، اور احناف كے ہاں كراہت تحريمى ہے، ليكن شافعى حضرات نے حرمت كو خاص كيا ہے كہ تكرار ہو تو حرام ہے، ليكن جس ميں تكرار نہ ہو مثلا يوم عرفہ يا عاشوراء، يا شوال كے چھ روزے يہ خاوند كى اجازت كے بغير ركھ سكتى ہے، ليكن اگر وہ منع كر دے تو پھر نہيں.

اور اگر خاوند غائب ہو تو پھر اجازت كى ضرورت نہيں، اس كى دليل حديث كا مفہوم اور نہى كا ختم ہونا ہے " انتہى.

ديكھيں: الموسوعۃ الفقھيۃ ( 28 / 99 ).

دوم:

اور اس صورت ميں كہ خاوند نے بيوى كو چھوڑ ركھا ہو، اور اس سے ازدواجى تعلقات قائم نہ كرتا ہو، اور معاشرت كے حقوق كى ادائيگى نہ كر رہا ہو، اور بيوى كو صرف بيوى پر تسلط قائم ركھنے كے ليے روزہ ركھنے كى اجازت نہ دے، تو پھر خاوند كو اجازت كا كوئى حق نہيں رہتا، بلكہ بيوى خاوند كى اجازت كے بغير ہى روزہ ركھ سكتى ہے، چاہے اجازت نہ بھى لے اور خاوند كى موافقت اور عدم موافقت دونوں برابر ہونگى.

شيخ محمد بن صالح العثيمين رحمہ اللہ " بلوغ المرام كى شرح " ( مخطوطہ ) ميں كہتے ہيں:

" خاوند حاضر ہو تو بيوى كے ليے اجازت كے بغير روزہ ركھنا حلال نہيں، اس ميں حكمت يہ ہے كہ ہو سكتا خاوند كو بيوى سے مباشرت كى ضرورت ہو، اور بيوى كا روزہ خراب كرنا پڑے، اور يہ اس كے حق كو پورا كرنا ہے.

اور كيا يہ اس كے ساتھ مقيد ہے كہ اگر جب خاوند بيوى كے حقوق كى ادائيگى نہ كرے، تو كيا بيوى اجازت كے بغير روزہ ركھ سكتى ہے ؟

جى ہاں؛ كيونكہ عدل يہى ہے كہ جب خاوند بيوى كے حقوق كى ادائيگى نہ كر رہا ہو، تو بيوى بھى اس كے حق ادا نہ كرے؛ كيونكہ اللہ تعالى كا فرمان ہے:

﴿ تو جو كوئى بھى تم پر زيادتى كرے تو تم بھى اس پر اتنى ہى زيادتى كرو جتنى تم پر ہوئى ہے ﴾البقرۃ ( 194 ). انتہى

يہاں ہم سوال كرنے والى بہن كو ايك چيز پر متنبہ كرتے ہيں كہ: اگر ا سكا خاوند نماز ادا نہيں كرتا تو اس كے ليے خاوند كے ساتھ باقى رہنا حلال نہيں؛ كيونكہ وہ نماز چھوڑنے كى وجہ سے مرتد ہو چكا ہے.

اس كى مزيد تفصيل ديكھنے كے ليے آپ سوال نمبر ( 33007 ) اور ( 4131 ) كے جوابات كا مطالعہ ضرور كريں.

اور اگر وہ كبيرہ گناہوں كا مرتكب ہے، تو پھر آپ كے ليے ـ اگر اسے وعظ و نصيحت كوئى فائدہ نہيں ديتى، اور آپ صبر نہيں كر سكتيں ـ افضل يہى ہے كہ آپ اس سے عليحدہ ہو جائيں.

مزيد تفصيل كے ليے آپ سوال نمبر ( 47335 ) كے جواب كا مطالعہ كريں، اس ميں شادى شدہ عورت كے ليے معصيت و نافرمانى كرنے والے كو وعظ و نصيحت كرنے كا حكم بيان كيا گيا ہے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments