سوموار 16 جمادی اولی 1440 - 21 جنوری 2019
اردو

ٹيكسى ڈرائيور كا كچھ لوگوں كو حرام مقامات پر لے جانا

10398

تاریخ اشاعت : 20-06-2005

مشاہدات : 2984

سوال

ميں اسٹريليا ميں مقيم اور تعليم حاصل كر رہا ہوں، اور پارٹ ٹائم ميں ٹيكسى چلاتا ہوں، بعض اوقات لوگوں كو ڈانس كلبوں، يا غلط قسم كى جگہوں، اور قحبہ خانوں، ميں پہنچاتا، يا وہاں سے اٹھاتا ہوں، كيا ايسا كرنا حرام ہے؟
جيسا كہ آپ كو علم ہے كہ ٹيكسى قوانين كے مطابق ہمارى استطاعت ميں نہيں كہ ہم انہيں سوار نہ كريں، اور وہاں نہ پہنچائيں، لھذا اس سلسلے ميں مسلمان شخص كو كيا كرنا چاہيے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ :

اس ميں كوئى شك وشبہ نہيں كہ يہ كام گناہ ومعصيت اور ظلم و زيادتى ميں تعاون شمار ہوتا ہے، لھذا ہم آپ كو يہى نصيحت كرتے ہيں كہ انہيں قحبہ خانوں اور فحاشى كے اڈوں، يا فساد اور نشہ والى جگہوں تك نہ ليكر جائيں، آپ كو ان كے علاوہ اور بہت سى سوارياں مل جائيں گى.

چاہے آپ سوارياں وہاں لے كر جائيں، يا ان مقامات سے سوارياں حاصل كريں، مسئلہ ايك ہى ہے، اور جو كوئى شخص بھى اللہ تعالى كا تقوى اختيار كرتا ہے اللہ تعالى اس كے ليے نكلنے كى راہ بنا ديتا ہے، لہذا آپ دوسرى جگہوں سے سوارياں تلاش كريں.

اور اگر فرض كيا جائے كہ آپ نے يہ سوارياں اٹھائيں ہوں اور آپ كو ان كے اس مقصد كا علم نہ ہو تو ہم يہ نہيں كہتے كہ آپ كے ليے يہ اجرت حرام ہے كيونكہ يہ آپ كے كام اور كوشش اور گاڑى كى اجرت ہے.

الشيخ عبد اللہ بن جبرين

اور اگر آپ يہ محسوس كريں كہ آپ اپنے كام ميں حرام كام كرنے ميں مجبور ہيں يعنى آپ كو لازم ہے كہ اس كام ميں حرام كا بھى ارتكاب كريں، تو آپ كو چاہيے كہ آپ كوئى اور كام تلاش كرليں.

اللہ تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ وہ ہم سب كى روزى حلال بنائے، اور ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم پر اپنى رحمتيں نازل فرمائے.

واللہ اعلم .

ماخذ: الشیخ محمد صالح المنجد

تاثرات بھیجیں