منگل 29 رمضان 1442 - 11 مئی 2021
اردو

وصیت کا حکم

111834

تاریخ اشاعت : 11-04-2015

مشاہدات : 6357

سوال

سوال: میں کچھ دن بعد آپریشن کیلئے ہسپتال میں داخل ہونگا، تو کیا میں آپریشن سے پہلے خدشات کے پیش نظر حج وغیرہ کی وصیت کر سکتا ہوں؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

ہم اللہ تعالی سے آپکے لئے شفا یابی، اور صحت مند زندگی کی دعا کرتے ہیں۔

وصیت کے بارے میں  کچھ تفصیل ہے کہ کچھ وصیتیں واجب ہوتی ہیں، اور کچھ مستحب۔

چنانچہ اگر آپ پر لوگوں کے واجبات، اور حقوق ہیں، اور ایسی کوئی دستاویز موجود نہیں ہے جس سے ان کے حقوق ثابت ہوتے ہوں، تو آپ پر ان حقوق اور واجبات کی وصیت کرنا واجب ہے، تا کہ لوگوں کے حقوق کا تحفظ یقینی ہو، مثلا: آپ نے کسی سے قرضہ لیا، اور اس قرضہ کے بارے میں کوئی گواہ موجود نہیں ہے، اور نہ ہی آپ نے قرضہ کے بارے میں کوئی تحریر لکھی، تو ایسی صورت میں آپ وصیت لازمی کریں۔

جبکہ صاحب جائیداد کی طرف سے کچھ مال  کے بارے میں وصیت کرنا جائز ہے، بشرطیکہ کہ اس کے ورثاء کو  اس مال کی ضرورت  نہ ہو، تو ایسی صورت حال میں ایک تہائی یا اس سے  کم مقدار میں وصیت کر سکتا ہے، جسے رفاہی کاموں، مساجد کی تعمیر، حج بدل، اور فقراء وغیرہ کو کھانا کھلانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

دائمی فتوی کمیٹی کے علمائے کرام کا کہنا ہے کہ:
"جو شخص اپنے مال میں وصیت کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو وہ اپنی وصیت موت آنے سے پہلے لکھوادے، اور اس کو معتبر بنانے پر توجہ دے اور اس پر گواہ بنائے، اور اس وصیت کی دو قسمیں  ہیں:

پہلی قسم: واجب وصیت، مثال کے طور پر یہ وصیت کہ دوسروں کا اس پر اور اس کا دوسروں پر کیا حق باقی ہے؟ جیسے قرضوں کی ادائیگی یا وصولی،  خرید و فروخت، کی رقوم   اس کے پاس رکھی ہوئی امانتیں، یا لوگوں کے ذمہ اپنے حقوق  کی وضاحت وغیرہ  ، تو اس حالت میں وصیت کرنا واجب ہے؛ تا کہ اس کے مال محفوظ رہے اور ذمہ داری سے عہدہ برآ ہو جائے؛ کیونکہ ہو سکتا ہے اس کی موت کے بعد اس کے ورثاء اور ان حقوق کے مالکان کے مابین تنازع کھڑا ہو جائے، اس لئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم كا فرمان ہے:
" جس کسی مسلمان کو کسی چیز کی وصیت کرنی ہو تو اس کے لئے وصیت لکھے بغیر دو راتیں گزارنا بھی جائز نہیں ہے" بخاری ،مسلم نے اسے روایت کیا ہے، اور یہ الفاظ بخاری (3/186)کے ہیں۔

دوسری قسم: مستحب وصیت، اور یہ حقیقت میں صرف عطیہ ہوتا ہے، جیسے کسی انسان کا اپنی موت کے بعد اپنے ایک تہائی یا اس سے کم کا اپنے غیر وارث رشتہ دار کیلئے یا کسی غیر رشتہ دار کے لیے وصیت کرنا یا نیکی کے کاموں میں جیسے صدقہ برائے فقراء ومساکین یا رفاہی کاموں میں  مثلا مساجد کی تعمیر اور دیگر مفادِ عامہ کے لیے وصیت کرنا؛ اس کی دلیل خالد بن عبید سلمی نے نقل  کی ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"بے شک اللہ عزوجل نے وفات کے وقت تمہارے مال كا تیسرا حصہ تمہارے لئے مباح کیا ہے تاکہ تمہارے اعمال صالحہ میں اضافہ ہو "
ہیثمی  "مجمع الزوائد" میں کہتے ہیں: اسے طبرانی نے روایت كیا ہے، اور اس کی سند حسن ہے، اور امام احمد نے اپنی مسند میں ابو الدرداء سے اس روایت کو نقل کیا ہے۔

اس کی ایک دلیل سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی حدیث  بھی ہے جو کہ صحیحین میں موجود ہےکہ :
"نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے مکہ میں میری عیادت کی -اور انہیں مکہ سے ہجرت کرنے  کے بعد مکہ میں وفات پانا ناگوار گزر رہا تھا-، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(عفراء کے بیٹے پر اللہ رحم فرمائے)  
میں نے عرض کیا یا رسول الله! " کیا میں اپنے سارے مال کی وصیت کردوں؟ "
آپ نے فرمایا: (نہیں)
 میں نے عرض کیا کہ : "کیا دو تہائی مال خیرات کردوں؟ "
آپ نے فرمایا: (نہیں)
میں نے کہا : "ایک تہائی مال خیرات کردوں؟ "
آپ نے فرمایا: (ایک تہائی مال خیرات کردو، اور ایک تہائی بھی بہت ہے، اگر تم اپنے وارثوں کو مالدار چھوڑو، تو یہ انہیں محتاج چھوڑنے سے زیادہ بہتر ہےکہ  کہیں وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے نہ پھریں۔۔۔) مذکورہ الفاظ بخاری کے ہیں۔

 اور بخاری کی ایک دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں:
"میں نے کہا میں وصیت کرنا چاہتا ہوں، میری صرف ایک بیٹی ہے"
میں نے کہا: "کیا میں اپنے آدهے مال کی وصیت کردوں؟"
 آپ نے فرمایا: (آدها مال بہت زیادہ ہے)
 میں نے کہا: "تہائى مال کی وصیت کردوں؟ "
آپ نے فرمایا: (تہائى بھی بہت زیادہ ہے یا بہت بڑا حصہ ہے"
راوی کہتے ہیں کہ پھر : "انہوں نے ایک تہائی مال کی وصیت کی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جائز ٹھرایا" انتہی

شیخ عبد العزیز بن باز ، شیخ عبد العزیز آل شیخ ، شیخ عبد الله بن غدیان ، شیخ صالح الفوزان ، شیخ بكر أبو زید ۔
" فتاوى اللجنة الدائمة " ( 16 / 263 - 266 )

یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ اگر کوئی مسلمان فوت ہونے سے پہلے حج نہ کرسکا تو اس کے مال سے حج کیا جائے گا، چاہے اس نے حج کرنے کی وصیت کی ہو یا نہ کی ہو۔

تاہم جس شخص نے اپنی زندگی میں فریضہ حج ادا کر لیا تھا تو اس کے مال سے اسی وقت نفل حج کیا جائے گا، جب وہ  وصیت کر کے جائےبشرطیکہ حج کی ادائیگی کا خرچہ  مکمل ترکہ کے ایک تہائی سے زیادہ نہ ہو۔

دائمی فتوی کمیٹی کے علمائے کرام کہتے ہیں:
" وجوبِ حج کیلئے تمام شرائط  پوری ہونے کے بعد کوئی  مسلمان فریضہ حج ادا کیے بغیر فوت ہو جائے ؛ تو اس کی طرف سے اُسی کے ترکہ میں سے حج کرنا واجب ہے، چاہے اس نے وصیت کی ہو یا نہ کی ہو " انتہی
شیخ عبد العزیز بن باز ، شیخ عبد الرزاق عفیفی، شیخ عبد الله بن غدیان ، شیخ عبد اللہ منیع ۔
" فتاوى اللجنة الدائمة " ( 11 / 100 )

اس لئے آپ اپنی وصیت لکھ کر رکھیں، چاہے آپ ہسپتال میں داخل ہو ں یا نہ ہوں، کیونکہ موت کا کوئی پتہ نہیں ہے، یہ اچانک آتی ہے۔

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب