جمعرات 20 محرم 1441 - 19 ستمبر 2019
اردو

اسلامی مملکت میں بیت المال(سرکاری خزانے ) کے ذرائع آمدن

138115

تاریخ اشاعت : 05-03-2015

مشاہدات : 5879

سوال

سوال: اگر زکاۃ کے مصارف آیت میں مذکور صرف آٹھ چیزیں ہی ہیں، تو حکومت اتنا پیسہ کہاں سے لائے گی ، جس سے حکومتی ملازمین کی تنخواہیں جاری ہوں، راستے بنائے جائیں، اور ہسپتال، اسکول، یونیورسٹیز وغیرہ جیسی ضروریاتِ زندگی پوری ہوسکیں؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

اول:

زکاۃ کے مخصوص مصارف  ہیں جنہیں اللہ تعالی نے درج ذیل آیت میں بیان فرمایا ہے:
(إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ)
ترجمہ: صدقات تو صرف فقیروں اور مسکینوں کے لیے اور ان پر مقرر عاملوں کے لیے ہیں اور ان کے لیے جن کے دلوں میں الفت ڈالنی مقصود ہے اور گردنیں چھڑانے، تاوان بھرنے اور اللہ کے راستے میں اور مسافر کے لیے یہ اللہ کی طرف سے ایک فریضہ ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا ، حکمت والا ہے ۔[التوبۃ:60]
انکی تفصیل جاننے کیلئے سوال نمبر: (46209) کا جواب ملاحظہ فرمائیں۔

دوم:
مسلمانوں کے بیت المال کیلئے ذرائع آمدن زمانہ قدیم سے لیکر اب تک بہت زیادہ ہیں
چنانچہ " الموسوعة الفقهية " ( 8 / 245 – 248 ) میں ہے کہ:
"بیت المال کے ذرائع آمدن:

1- زکاۃ اور اسکی تمام اقسام، جسے امام وصول کریگا، خواہ اموالِ ظاہرہ کی زکاۃ ہو یا اموال باطنہ ، جیسے چرنے والے جانور، زرعی پیداوار، نقدی، سامان تجارت ۔

2- مال ِغنیمت میں سے اس  مال کا خمس جو قابل انتقال ہو  ، اور غنیمت    سے مراد  اراضی، جائیداد کے علاوہ ہر وہ مال  ہے جو قتال کے ذریعہ کفار سے حاصل ہو، چنانچہ ایسے مال کا خمس بیت المال میں داخل کیا جائے گا، تا کہ اسے غنیمت کے مصارف میں تقسیم کیا جا سکے، اللہ تعالی کا فرمان ہے:
وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ
ترجمہ: اور جان  لو کہ جو کچھ تمہیں مالِ غنیمت کی شکل میں حاصل ہو اس میں سے پانچواں حصہ اللہ اور اسکے رسول کیلئے، [رسول کے]قریبی رشتہ داروں ، یتیموں ،مساکین اور مسافروں کیلئے ہے[الأنفال : 41]

3- زمین سے نکلنے والی معدنیات سونا، چاندی، اور لوہا وغیرہ کا پانچواں حصہ ، اور ایک قول کے مطابق سمندر سے نکلنے والے موتی ، عنبر وغیرہ میں بھی اسی طرح پانچواں حصہ لازم ہوگا۔

4- رکاز [مدفون خزانہ] کا پانچواں حصہ، رکاز سے ہر وہ مال مرا د ہے جسے کسی انسان نے  زمین میں دفن کرد یا ہو، یہاں اس سے مراد  اہل جاہلیت اور کفار کے وہ خزانے ہیں جو کسی مسلمان کو ملیں، تو اس کا خمس بیت المال کو دیا جائے گا، اور خمس  نکالنے کے بعد باقی حصہ جس شخص کو یہ خزانہ ملا ہے اسی کا ہوگا۔

5- مالِ فئ: اس سے مراد ہر وہ منقولہ مال ہے جو  قتال اور  گھوڑے  یا پیادہ سپاہیوں  کو دوڑائے  بغیرکفار سے حاصل ہو۔

مالِ فئ کی چند قسمیں ہیں:

1. وہ اراضی و جائیداد جنہیں مسلمانوں کے خوف سے کافر چھوڑ کر چلے جائیں، یہ اراضی و جائیداد وقف ہونگی، جس طرح قتال کے ذریعہ غنیمت میں حاصل اراضی وقف ہوتی ہیں، اور ان سے حاصل شدہ پیداوار ہر سال تقسیم کی جائے گی، شافعی فقہاء نے اس کی صراحت کی ہے، اور اس کی تقسیم میں  اختلاف ہے۔

2. وہ منقولہ اشیاء جو کفار چھوڑ کر چلے جائیں، ان اشیاء کو فوراً تقسیم کر دیا جائے گا وقف نہیں کیا جائے گا۔

3. کفار سے حاصل کیا گیا خراج ، یا ان کی ایسی اراضی  کی اجرت جنہیں مسلمانوں نے حاصل کیا  ، اور انہیں کرایہ پر کسی مسلمان  یا ذمی کو دیا  ہو، یا اہل ذمہ کی ان اراضی  کی اجرت جنہیں ان کے قبضہ میں برقرار رکھا گیا ہو، خواہ صلح کے طور پر اس اجرت پر اتفاق ہو یا   بزورِ طاقت ان پر قبضہ کرنے کے بعد انہیں ذمی مالکان  کو دے دیا گیا ہو کہ وہ ہمیں خراج ادا کریں گے۔

4. جزیہ : اس سے مراد وہ مال ہے جو مسلمانوں کے ملک میں رہائش کی وجہ سے کفار پر لازم ہوتا ہے، چنانچہ ہر بالغ اور قدرت رکھنے والے ذمی مرد پر ایک متعین مقدار ِ مال بطورِ جزیہ واجب ہوتی ہے، یامجموعی طور پر پورے شہر  پر لازم کر دیا جاتا ہے کہ ایک متعین مقدار میں جزیہ ادا کیا جائے، اگر ایسا شخص جزیہ ادا کرے ، جس پر جزیہ کی ادائیگی واجب نہیں ہے تو اس کی حیثیت جزیہ کی نہیں بلکہ تحفہ کی ہوگی۔

5. اہل ذمہ کے عُشر: یہ وہ ٹیکس ہے جو ذمی سے ان کے ایسے اموال پر لیا جاتا ہے جن کو وہ تجارت کیلئےدار الحرب (کفار کے وہ ملک جن سے امن و امان کا کوئی معاہدہ نہ ہو )  لے جاتے ہیں،  یا  دار الحرب سے دار الاسلام لاتے ہیں، یا دار الاسلام میں ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل کرتے ہیں، اہل ذمہ سے یہ ٹیکس سال میں ایک مرتبہ لیا جائے گا تاہم اگر وہ دارالاسلام چھوڑ دیں پھر واپس لوٹ آئیں تو یہ ٹیکس دوبارہ سے ادا کرنا ہو گا۔
اسی طرح یہ عُشر  اُن حربی تاجروں سے بھی لیا جائے گا جو امان لے کر سامانِ تجارت ہمارے ملک میں لائیں۔

6. وہ مال جو حربی صلح کی رو سے مسلمانوں کو ادا کریں۔

7. مرتد کا مال : اگر اسے قتل کر دیا جائے ، یا وہ مر جائے، اور زندیق کا مال اگر اسے قتل کر دیا جائے ، یا وہ مر جائے، ان دونوں کا مال وراثت میں تقسیم نہیں ہوگا، بلکہ وہ فئ ہوگا، احناف کے ہاں مرتد کے مال  کے بارے میں قدرے تفصیل ہے۔

8. ذمی کا مال :  اگر کوئی ذمی مر جائے، اور اس کا کوئی وارث نہ ہو، یا وارث ہو تو  اس کے وارث کو دینے کے بعد جو بچ جائے وہ بھی فئ ہے۔

9. قتال کے ذریعہ غنیمت میں حاصل ہو نے والی اراضی ، ان سے مراد  زرعی اراضی ہیں، اسے بیت المال میں شامل کیا جائے گا اُن حضرات کے مطابق جو ان کو غنیمت حاصل کرنے والے مجاہدین میں تقسیم کرنے کے قائل نہیں ہیں۔

6- بیت المال کی اراضی اور اس کی املاک کی پیداوار، اور تجارتی و اقتصادی  منافع جات۔

7- ہدایا ، تحائف، صدقات، اور وصایا جو جہاد یا دیگر مفادِ عامہ کی خاطر بیت المال  کو پیش کیے جائیں۔

8- وہ تحفے تحائف جو ایسے قاضیوں کے پیش کئے گئے ہوں جنہیں منصب قضا پر آنے سے پہلے ان لوگوں سے تحائف نہ پیش کئے جاتے ہوں، یا اس منصب سے پہلے پیش تو کئے جاتے ہوں، لیکن ہدیہ  پیش کرنے والے کا کوئی مقدمہ اس قاضی کے پاس زیرِ سماعت ہو، ایسے ہدایا  اگر ہدیہ دینے والے کو واپس نہ کئے گئے تو بیت المال واپس جائیں گے، اس لئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے "ابن لتبیہ " کو دیا گیا ہدیہ واپس لے لیا تھا۔
اسی طرح وہ ہدایا جو اہل حرب کی جانب سے حکمران کو پیش کئے جائیں، نیز وہ ہدایا جو حکومت کے کارندوں اور گورنروں کو پیش کئے جائیں، یہ حکم اس صورت میں ہے جب اس نے بھی ہدیہ دینے والے کو اپنے خاص مال سے ہدیہ نہ دیا ہو۔

9- ایسے ٹیکس جو رعایا پر انکی مصلحت  کیلئے فرض کیے گئے ہوں، خواہ جہاد کیلئے ہوں یا کسی اور مقصد کیلئے، لیکن ایسا ٹیکس لوگوں پر اسی وقت لگایا جائے گا جب بیت المال سے ضرورت پوری نہ ہو رہی ہو، اور ضروری کام رہ جاتے ہوں، بصورتِ دیگر یہ آمدنی  غیر شرعی ہوگی۔

10- لا وارث اموال: یہ ہر وہ مال ہے جس کا مالک نا معلوم ہو، مثلاً: گرا پڑا سامان، ودیعت، رہن، اسی قسم میں وہ اموال بھی ہیں جو چوروں وغیرہ کے پاس سے نکلیں، اور ان کا کوئی دعویدار نہ ہو، ایسے اموال کو بیت المال میں داخل کر دیا جائے گا۔

11- ایسے مسلمان کا ترکہ جو فوت ہو جائے، اور اسکا کوئی وارث نہ ہو، یا اسکا وارث تو ہو لیکن وہ پورے مال کا وارث نہ بنتا ہو-یہ ان اہل علم کے نزدیک ہے جو بقیہ  مال وارث کو ہی لوٹانے  کے قائل نہیں ہیں-، اسی طرح وہ مقتول جس کا وارث نہ ہو، اس کی دیت بیت المال میں داخل کی جائے گی، اور اسے فئ کے مصارف میں خرچ کیا جائے گا۔
اس قسم میں بیت المال  کا حق شافعی  اور مالکی فقہاء کے ہاں بطور میراث ہے، یعنی بیت المال عصبہ بنتا ہے، حنفی اور حنبلی فقہاء کے ہاں ایسے مال کو بیت المال  میں بطورِ فئ داخل کیا جائے گا، بطور میراث نہیں ۔

12- تاوان، چالان  اور جرمانے کے طور پر ضبط کردہ مال،جیسا کہ  زکاۃ نہ دینے والے  سے اس کے مال کا ایک حصہ بطورِ تاوان  لینا حدیث میں منقول ہے، اسحاق بن راہویہ ، اور ابو بکر عبد العزیز اسی کے قائل ہیں، اور یہ بھی منقول ہے کہ اگر ایک شخص[درخت پر] لٹکایا ہوا پھل  اتار لے جاتا ہے  تو اس سے اس کی قیمت  کا دو گنا تاوان وصول کیا جائے گا، یہ رائے حنبلی فقہاء اور اسحاق بن راہویہ کی ہے۔
 ظاہر بات ہے کہ اس قسم کے تاوان وصول کیے جائیں گے  تو انہیں مصالح عامہ پر خرچ کیا جائے گا، اور اس طرح یہ مال بیت المال کا حق قرار پائے گا۔
منقول ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کچھ گورنروں سے ان کے مال کا نصف  یہ دیکھ کر ضبط کر لیاتھا کہ ان کی گورنری کے سبب ان کے ہاں خوشحالی آگئی تھی، اس طرح کے اموال بھی بیت المال میں داخل کئے جائیں گے" کچھ اختصار کے ساتھ اقتباس مکمل ہوا۔

موجودہ زمانے میں بیت المال کے ذرائع آمدن میں  ملکی زمین سے دریافت ہونے والی قدرتی معدنیات، پٹرول، قدرتی گیس۔۔۔۔ اور دیگر معدنیات ہیں، بہت ہی کم ایسے ممالک ہیں جہاں ایسے ذرائع آمدن نہیں ہیں۔

انہی ذرائع آمدن میں یہ بھی شامل کیا جائے گا :کہ  ایسی آمدن جو حکومت کی جانب سے زرعی، انڈسٹری، تجارتی یا سروسز کے شعبے میں قائم کردہ منصوبوں سے حاصل ہوتی ہے، اور لوگوں کی خدمت کیلئے  ان کی مصنوعات کو فروخت کیا جاتا ہے، مثلاً: بجلی، ٹیلیفون، اور پانی ۔۔۔ الخ

اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ مسلمانوں کے بیت المال کیلئے مالی ذرائع آمدن بہت زیادہ ہیں۔

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

متعلقہ جوابات

تاثرات بھیجیں