جمعہ 16 رجب 1440 - 22 مارچ 2019
اردو

نماز میں سجدہ تلاوت کے بعد قراءت کا حکم

139007

تاریخ اشاعت : 22-06-2015

مشاہدات : 2844

سوال

سوال: ہمیں امام نے فجر کی نماز پڑھائی جس میں انہوں نے سورہ اعراف کا آخری حصہ تلاوت کیا، جب وہ سجدہ تلاوت والی آیت پر پہنچے تو انہوں نے سجدہ تلاوت کیا، اور سجدہ تلاوت کرنے کے بعد قرآن مجید کی مزید کچھ تلاوت نہ کی، بلکہ سجدہ سے اٹھ کر رکوع میں چلے گے، نماز مکمل ہونے کے بعد مسجد کے شیخ نے کہا کہ: "سب کیلئے نماز دوبارہ پڑھنا لازمی ہے" میں نے ان سے اسکی وضاحت پوچھی تو انہوں نے کہا: "امام صاحب پر سجدہ تلاوت کے بعد قراءت نہ کرنے کی وجہ سے سجدہ سہو کرنا لازمی تھا، لیکن چونکہ اب امام صاحب سلام پھیرنے کے بعد قبلہ سے رخ موڑ چکے ہیں، اب وہ سجدہ سہو نہیں کر سکتے، اس لئے ہم پر لازمی ہے کہ ہم سب نماز دوبارہ پڑھیں" تو میں نے انہیں بتلایا کہ:" فاتحہ کے بعد والی قراءت نماز کے واجبات میں سے نہیں ہے" تو انہوں نے کہا: "ہم چونکہ حنفی ہیں، ہمارے ہاں فاتحہ کے بعد والی قراءت واجب ہے، اور [عدمِ قراءت ]کی وجہ سے سجدہ سہو لازم ہوتا ہے" تو میں نے کہا کہ: "آپ نماز دوبارہ کیوں پڑھتے ہیں؟ " اور ساتھ میں بخاری کی ذو الیدین والی روایت پیش کی، اور اس میں یہ بھی ہے کہ "آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ رخ چھوڑ چکے تھے، بلکہ اپنی جگہ سے اٹھ کر چلے گئے تھے، اور جب آپکو [نماز کے بارے میں]بتلایا گیا تو آپ اپنی جگہ واپس آئے، اور نماز مکمل فرمائی، اور پھر بعد میں سجدہ سہو فرمایا" لیکن انہوں نے کہا کہ: "ہم تو نماز دوبارہ پڑھیں گے" میں تو مسجد سے چلا گیا، اور انکے ساتھ میں نے نماز دوبارہ نہیں پڑھی، تو کیا میرا یہ عمل درست ہے؟ اور کیا یہ صحیح ہے کہ سورہ فاتحہ کی تلاوت احناف کے ہاں نماز کے واجبات میں سے ہے، ارکان میں سے نہیں ہے؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

اول:

سورہ فاتحہ کی تلاوت احناف کے ہاں نماز کے ارکان میں شامل نہیں ہے، ان کے ہاں پہلی دو رکعتوں میں فاتحہ اور  دوسری سورت کی تلاوت  واجب ہے، اور آخری دو رکعتوں میں کسی دوسری سورت کو ملائے بغیر پڑھنا مستحب  ہے، ان کے ہاں  آخری دو رکعتوں میں  فاتحہ کے ساتھ کوئی سورت  ملا کر پڑھنا مکروہ تنزیہی ہے، اس لئے آخری دو رکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ پر اقتصار کیا جائے گا۔

ابن نجیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"سورہ فاتحہ فرائض کی پہلی دو رکعتوں اور نوافل ، وتراور عیدین کی تمام رکعتوں  میں واجب ہے، جبکہ فرائض کی آخری دو رکعتوں میں سنت ہے"انتہی
"البحر الرائق" (1/312)

اور اگر فاتحہ کے بعد والی قراءت  پہلی دو رکعتوں میں عمداً  چھوڑ دے تو گناہگار ہوگا، اور اگر بھول کر چھوڑ دے تو سجدہ سہو کریگا۔
اس بارے میں کاسانی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"نماز کے بنیادی واجبات چھ ہیں: جن میں دو رکعت والی نماز میں سورہ فاتحہ کے ساتھ کسی دوسری سورت کی قراءت، اسی طرح تین یا چار رکعتوں والی نماز کی پہلی دو رکعتوں   میں  سورت فاتحہ کے ساتھ کسی دوسری سورت کو ملا کر پڑھنا ، اگر دونوں سورتوں  کی تلاوت عمداً  نہ کی یا ایک کی چھوڑ دی تو  اس صورت میں  گناہ گار ہوگا، اور اگر بھول کر چھوڑی تو سجدہ سہو  لازمی کرنا ہوگا"انتہی
"بدائع الصنائع" (1/160)

"الموسوعة الفقهية" (24/237-238) میں ہے کہ:
"فتاوی عالمگیری میں فتاوی تتارخان کے حوالے سے منقول ہے کہ: نماز میں چھوٹ جانے والے اعمال کی تین اقسام ہیں: فرض، سنت، اور واجب، چنانچہ فرض  کا تدارک قضا دینے سے ممکن ہو تو ٹھیک ہے وگرنہ نماز فاسد ہوجائے گی، جبکہ سنت چھوٹ جانے سے نماز فاسد نہیں ہوگی؛ کیونکہ نماز کے تمام ارکان پورے ہیں، اور سنت چھوٹ جانے کی کمی سجدہ سہو سے پوری نہیں کی جائیگی، جبکہ واجب بھول کر چھوڑ دے تو سجدہ سہو کے ذریعے کمی پوری کریگا، لیکن عمداً چھوڑنے کی وجہ سے سجدہ سہو کے ذریعے کمی پوری نہیں کر سکتا۔

احناف کے ہاں واجب   بھول کر ترک کرنے پر سجدہ سہو کرنا واجب ہے، اور اگر سجدہ سہو نہیں کرتا تو اس پر قضا دینا واجب ہوگی۔ ابن عابدین کہتےہیں: "سجدہ سہو چھوٹ جانے پر نماز فاسد نہیں ہوگی  تاہم عمداً  واجب ترک کرے یا بھول کر واجب چھوٹ جانے کے بعد سجدہ سہو نہ کرے تو ہر دو صورت میں نماز دوبارہ پڑھے گا، اور اگر دوبارہ نہ پڑھے تو فاسق اور گناہگار ہوگا"انتہی

یہ تھی احناف کے موقف کی تفصیل، اگرچہ اس میں جمہور علمائے کرام کا موقف ہی درست ہے کہ: ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کی تلاوت کرنا نماز کے ارکان میں سے ایک رکن ہے، اور فاتحہ کے بغیر نماز درست نہیں ہوتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے: (ایسے شخص کی کوئی نماز نہیں جو سورہ فاتحہ نہ پڑھے) متفق علیہ

اس بارے میں مزید تفصیل کیلئے آپ سوال نمبر: (10995) کا جواب ملاحظہ فرمائیں۔

دوم:
یہ پہلے گزر چکا ہے کہ سورہ فاتحہ کے بعد قراءت کرنا  پہلی دو رکعت میں احناف کے  ہاں واجب ہے، جبکہ جمہور علمائے کرام کے ہاں مستحب  ہے، چنانچہ اگر کوئی بھول کر یا عمداً ترک کر بھی دے تو اسکی نماز درست ہے۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ : " ہر رکعت  میں تلاوت قرآن ہے اور جس نماز میں ہم کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے سنایا ہم بھی تم کو سناتے ہیں اور جس میں ہم سے پوشیدہ رکھا یعنی آہستہ تلاوت کی ہم بھی تم سے اخفا کرتے ہیں جس نے ام الکتاب پڑھی تو اس کے لئے کافی ہے جس نے زیادتی کی وہ افضل ہے۔ "بخاری: (772)، مسلم: (296)

نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اس حدیث میں سورہ فاتحہ کے ہر رکعت میں واجب ہونے کی دلیل ہے، اور اس کی جگہ کچھ اور نہیں پڑھا جا سکتا ، اسی طرح اس حدیث میں سورہ فاتحہ کے بعد کوئی اور سورت ملانا مستحب ہے،  فجر، جمعہ، اور ہر نماز کی پہلی دو رکعتوں میں سب علمائے کرام کا  اس کے مستحب ہونے پر اجماع ہے، اور سب علمائے کرام کے ہاں یہ سنت ہے، قاضی عیاض رحمہ اللہ  نے کچھ مالکی فقہاء سے یہ نقل کیا ہے کہ : "سورہ فاتحہ کے بعد سورت ملانا بھی واجب ہے"لیکن یہ موقف شاذ اور مردود ہے"
دیکھیں: "المغنی" از: ابن قدامہ (1/568)

دائمی کمیٹی کے علمائے کرام کہتے ہیں کہ:
"جو شخص سورہ فاتحہ کے بعد نماز میں کچھ بھول گیا تو اس پر کچھ نہیں ہے، چاہے وہ امام ہو یا مقتدی یا منفرد، اسی طرح چاہے اس کی نماز فرض ہو یا نفل، یہی علمائے کرام کا صحیح ترین قول ہے"انتہی
"فتاوى اللجنة الدائمة" (7 / 146)

سوم:
آپکے امام صاحب نے جو کچھ کیا ہے اس کی وجہ سے نماز دوبارہ پڑھنا لازمی نہیں ہے، بلکہ اکثر اہل علم کے ہاں اس سے سجدہ سہو بھی لازم نہیں آتا؛ جمہور علمائے کرام  کے ہاں تو بالکل واضح ہے؛ کیونکہ ان کے ہاں بنیادی طور پر قراءت  مستحب ہی ہے، چنانچہ اگر  کوئی جان بوجھ کر یا  بھول کر چھوڑ دے تو اسکی نماز درست ہوگی، اور  کچھ لازم نہیں آئے گا؛ جبکہ یہاں تو امام صاحب نے فاتحہ کے بعد قراءت بھی کی ہے، انہوں نے زیادہ سے زیادہ یہ کیا ہے کہ: سجدہ تلاوت کے بعد قراءت نہیں کی۔

سورہ فاتحہ کے بعد والی قراءت کو واجب کہنے والےیعنی  احناف کے موقف کے مطابق  بھی امام نے اس واجب کو ادا کر دیاہے؛ کیونکہ  امام صاحب نے سجدہ تلاوت سے پہلے قراءت کی ہے، اور سجدہ تلاوت کے بعد کی جانے والی قراءت اختیاری ہے، ضروری نہیں ہے، جیسے کہ فقہائے احناف نے صراحت کے ساتھ یہ بات ذکر کی ہے:
"جب  سجدہ تلاوت کر لے تو سیدھا قیام میں کھڑا ہو جائے؛ کیونکہ اس نے اب رکوع کرنا ہے اور رکوع میں جانے کیلئے قیام ضروری ہے،پھر سورت کا بقیہ حصہ پڑھے ۔۔۔، اور اگر چاہے تو اس کے ساتھ  دوسری سورت ملا لے۔۔۔، اور سجدہ تلاوت کے بعد والی قراءت  مندوب ہے، واجب نہیں ہے"
"المحيط البرهانی" (2/71)

اسی طرح "الموسوعة الفقهية" (24/223) میں ہے کہ:
"اور جس وقت سجدہ تلاوت سے اپنا سر اٹھائے تو سیدھا کھڑا ہوجائے ، جلسہ استرحت کیلئے مت بیٹھے۔ کھڑے ہونے کے بعد کچھ قراءت کر کے رکوع میں جانا مستحب ہے، اور اگر بالکل سیدھا کھڑے ہونے کے بعد قراءت کے بغیر ہی رکوع میں چلا جائے تو یہ جائز ہے، بشرطیکہ اس نے سجدہ تلاوت سے قبل سورہ فاتحہ پڑھی ہو، سجدہ تلاوت سے اٹھنے کے بعد سیدھے کھڑے ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے، کیونکہ رکوع کیلئے قیام کی حالت سے منتقل ہونا واجب ہے"انتہی

دائمی کمیٹی کے علمائے کرام کہتے ہیں:
"کسی نے سورہ "الاعراف"، "النجم"، اور "العلق" کی آخری آیات نماز میں پڑھتے  ہوئے سجدہ تلاوت کیا تو اس پر سجدہ تلاوت کے بعد مزید تلاوت کرنا ضروری نہیں ہے، اور اگر کوئی مزید تلاوت کر لے تو بھی کوئی حرج نہیں ہے"انتہی
"فتاوى اللجنة الدائمة" (7 / 260)

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں