بدھ 24 صفر 1441 - 23 اکتوبر 2019
اردو

ایک یتیم کی کفالت کرتا ہے، تو کیا اس پر اپنے مال کی زکاۃ خرچ کر سکتا ہے؟

سوال

سوال: ایک خاندان نے ایک یتیم بچے کو اپنے بیٹوں کے ساتھ پالنا شروع کیا تو کیا یہ لوگ اس بچے کے کپڑے اور کھانے پینے کی چیزیں زکاۃ کی رقم سے خرید سکتے ہیں؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

اگر اس یتیم کو آپ نے گود لیا ہوا ہے، اور اس کا اپنا کوئی مال یا کفالت کرنے والا نہیں ہے، تو آپ اس پر زکاۃ کی رقم خرچ کر سکتے ہیں؛ کیونکہ یہ بھی فقراء میں شامل ہے، اور زکاۃ کے بارے میں اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ :
(إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ...)
ترجمہ: بیشک زکاۃ فقراء اور مساکین  کیلئے ہیں ۔۔۔ [التوبة:60]

اور یہ اصول ہے کہ: "ہر وہ شخص جس کے اخراجات آپ کے ذمہ ہوں انہیں آپ زکاۃ نہیں دے سکتے" اور اس یتیم کے اخراجات آپ کے ذمہ نہیں ہیں، اس لئے اسے زکاۃ کی رقم دینا جائز ہے۔

صحیح بخاری: (1466) صحیح مسلم: (1466) میں ہے کہ : "عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ زینب   رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: "اگر میں اپنی زکاۃ اپنے خاوند اور میری گود میں موجود یتیموں پر خرچ کروں تو  اس طرح زکاۃ ادا ہو جائے گی؟" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ہاں، زکاۃ ادا ہو جائے گی، اور اسے قرابت داری اور صدقے کا  دوہرا اجر ملے گا)"

ابن قدامہ رحمہ اللہ  "المغنی" (2/271) میں کہتے ہیں:
"اگر کسی آدمی کے گھر میں کوئی ایسا شخص- یعنی یتیم وغیرہ -ہو جس کا خرچہ اُس کے ذمہ نہیں ہے،  تو امام احمد کے موقف کے مطابق اس پر زکاۃ خرچ نہیں کی جا سکتی، کیونکہ امام احمد کے نزدیک اس طرح   وہ شخص اپنا خرچہ بچائے گا، لیکن ان شاء اللہ صحیح یہی ہے کہ اسے زکاۃ دی جا سکتی ہے؛ کیونکہ یہ یتیم زکاۃ کے مستحق افراد میں شامل ہے، اور ایسی کوئی نص، اجماع، یا قیاسِ صحیح نہیں ہے جو اس کیلئے مانع ہو، اس لئے بغیر کسی دلیل کے اس یتیم کو زکاۃ کے مستحقین میں سے خارج کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔۔۔" انتہی

اسی طرح شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے استفسار کیا گیا:
"کیا میں اپنے مال کی زکاۃ  ایسے یتیموں کو دے سکتا ہوں جن کی کفالت شرعی طور پر میرے والد کرتے ہیں، کیونکہ میرے والد نے ان کی والدہ سے شادی کی ہوئی ہے؟"
تو انہوں نے جواب دیا:
"اگر  آپ کے والد کی کفالت میں موجود یتیموں  کے بارے میں یہ شرط لگائی گئی تھی کہ ان کی کفالت آپ کے والد کے ذمہ ہے، اور آپ کے والد ان کی کفالت بھی کرتے ہیں ، تو پھر انہیں زکاۃ نہیں دی جا سکتی، کیونکہ اس صورت میں ان کے اخراجات کی ذمہ داری آپ کے والد پر ہے، اور انہیں  کسی بیرونی امداد کی ضرورت نہیں ہے، تاہم اگر یہ یتیم  آپ کے والد  کی کفالت میں کسی شرط کے بغیر ہیں، اور انہیں وراثت میں کوئی مال بھی نہیں  ملا تو اس صورت میں آپ انہیں اپنی زکاۃ دے سکتے ہیں، کیونکہ  یہ یتیم زکاۃ کے مستحقین میں سے ہیں" انتہی
"فتاوى ابن عثیمین" (18/353)

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں