بدھ 23 جمادی ثانیہ 1443 - 26 جنوری 2022
اردو

ریشم کی بنی ہوئی میڈیکل اسٹیچنگ ٹیپ جسم پر لگانے کا حکم

147062

تاریخ اشاعت : 24-04-2015

مشاہدات : 4201

سوال

سوال: میں میڈیکل سائنس کا طالب علم ہوں، ہمارے بعض طریقہ علاج میں ایک ٹیپ جوڑوں، اور پٹھوں کے درد کیلئے استعمال کی جاتی ہے۔۔۔ میرا سوال یہ ہے کہ: بعض اوقات استعمال ہونے والی یہ طبی ٹیپ ریشم سے بنی ہوتی ہے، تو کیا اس ٹیپ کو مریضوں کیلئے استعمال کرنا جائز ہے؟ یہ بات ذہن نشین رہے کہ اس کا متبادل بھی موجود ہے۔

جواب کا متن

الحمد للہ.

اول:

مردوں کیلئے قدرتی ریشم پہننا حرام ہے، اس کی دلیل ابوداود (3535) میں علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ:  "نبی صلی اللہ علیہ وسلم   نے اپنے دائیں  ہاتھ میں ریشم لی، اور بائیں ہاتھ میں سونا پکڑا، اور پھر فرمایا: ( بیشک یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں)" البانی نے اسے صحیح ابوداود: (3422) میں صحیح کہا ہے۔

مزید کیلئے سوال نمبر: (30812) کا مطالعہ کریں۔

دوم:
علاج معالجے کیلئے ریشم سے بنی ہوئی چپکنے والی ٹیپ  استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اس کی دلیل بخاری: (5839 ) اور مسلم: (2076) میں ہے کہ انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر اور عبد الرحمن کو خارش کی وجہ سے ریشم پہننے کی اجازت دی تھی" مسلم کے الفاظ ہیں کہ: "خارش یا کسی تکلیف کی بنا پر انہیں اجازت دی تھی"

حافظ ابن حجر فتح الباری میں کہتے ہیں:
"طبری   کہتے  ہیں: "اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ: جس  شخص کی بیماری میں ریشم پہننے سے  کمی آتی ہو تو اس کیلئے ریشم پہننا منع نہیں ہے" انتہی،  اسی طرح کسی اور کپڑے کی عدم موجودگی میں گرمی یا سردی سے بچنے کیلئے بھی  ریشم استعمال کی جاسکتی ہے" انتہی

ابن قدامہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"جوؤں، خارش، یا کسی بھی ایسی بیماری میں ریشم پہننا [امام احمد کے نزدیک ]ایک روایت کے مطابق جائز ہے، بشرطیکہ ریشم پہننے کی وجہ سے مرض میں کمی آتی ہو؛ کیونکہ انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عبد الرحمن بن عوف، اور زبیر بن عوام  نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جوؤں کی شکایت کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک غزوے کے دوران ریشم کی قمیص پہننے کی اجازت دے  دی۔
انس رضی اللہ عنہ سے مروی ایک روایت کے یہ الفاظ بھی ہیں کہ : "انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جوؤں کی شکایت کی تو آپ نے انہیں ریشم کی قمیص پہننے کی اجازت دی، اور میں نےخود دونوں کو ریشم کی قمیض پہنے ہوئے دیکھا" متفق علیہ
اور جو اجازت کسی صحابی کے لئے ہے  تو وہی کسی اور امتی  کے لئے بھی ہے، تا آنکہ وہ اجازت اس صحابی کیلئے مختص نہ ہو، اور مختص ہونے کی دلیل چاہے( جو کہ نہیں ہے)، چنانچہ جوؤں کے علاوہ جس بیماری کے بارے میں ریشم مفید ہو سکتا ہے، اسے بھی جوؤں پر قیاس کر کے  ریشم پہننے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔
اور [امام احمد کے نزدیک ]دوسری روایت میں  بیماری کے باعث ریشم  پہننا جائز نہیں ہے، اس احتمال کا لحاظ رکھتے ہوئےکہ شاید بیماری کی صورت میں ریشم پہننے کی اجازت عبد الرحمن اور زبیر رضی اللہ عنہما کیلئے خاص ہو، یہی موقف امام مالک رحمہ اللہ کا ہے، تاہم پہلا موقف ہی -ان شاء اللہ -درست  ہے،  کیونکہ ریشم پہننے کی اجازت کو انہی دو صحابہ کرام کیساتھ  مختص کرنا  خلافِ اصل ہے" انتہی
"المغنی" (1/ 342)

اور  صاحب کتاب: "زاد المستقنع" کہتے ہیں: "مجبوری، خارش، بیماری، یا جوؤں کی وجہ سے [ریشم پہننا جائز ہے] "
اس کی تشریح میں شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اگر کسی بیماری میں  ریشم کا لباس پہننا  بیماری میں قدرے کمی یا مکمل شفا کا باعث ہو تو ریشم پہننا جائز ہے، ریشم کے مفید ہونے یا نہ ہونے  کا اعتبار طبی ماہرین کہی آراء سے ہو گا، اگر طبی ماہرین کے مطابق  ریشم پہننا مریض کیلئے مفید ہو تو  مریض ریشم پہن سکتا ہے۔

اسی طرح  جؤوں کے خاتمے کیلئے ریشم پہننا  بھی جائز ہے؛ کیونکہ  یہ عارضہ کسی بھی شخص کو ذہنی طور پر مجبور کر دیتا ہے کہ وہ یس سے چھٹکارے کی کوئی راہ اختیار کرے ؛ اس  لئے کہ کپڑوں پر جوئیں  گرتی ہوں  تو لوگوں کےسامنے آنا  بہت مشکل ہے،  اسی طرح  اسے  جسمانی طور پر   ایسے لباس کی ضرورت ہے ؛ اس لئے کہ جوئیں انسان کو کاٹ کر تکلیف میں مبتلا رکھتی ہیں، جبکہ ریشم  ملائم، صاف اور نرم  ہونے کی وجہ سے جوؤں کو ختم کرتا ہے؛ کیونکہ عموماً میل کچیل کی وجہ سے جوئیں پیدا ہوتی ہیں" انتہی
"الشرح الممتع" (2/ 216)

دائمی فتوی کمیٹی سے پوچھا گیا:
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (اللہ تعالی نے میری امت کیلئے  کسی حرام چیز میں شفا نہیں رکھی) اور دوسری جانب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کیلئے خارش کی صورت میں خصوصی  اجازت بھی عنائت  کی، حالانکہ  ان پر ریشم کا استعمال  حرام ہے؟"
تو فتوی کمیٹی نے جواب دیا:
"خارش کی صورت میں  مردوں کیلئے  ریشم کا استعمال  جائز ہے، اور یہ ریشم کیلئے  خصوصی حکم ہے، جبکہ حرام  اشیاء کیساتھ علاج معالجہ کرنا  عام حکم ہے، چنانچہ  اس عام حکم سے  خارش وغیرہ کے علاج کیلئے ریشم کے خاص انداز میں استعمال کو استثناء حاصل ہوگا، شریعت میں ایسی متعدد مثالیں ہیں جہاں پر  خصوصی  حالات و مسائل کو عمومی احکامات سے  استثناء کیا گیا ہے۔
اللہ تعالی ہی توفیق دینے والا ہے، اللہ تعالی ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم انکی اولاد، اور صحابہ کرام پر رحمتیں، اور سلامتی نازل فرمائے" انتہی
"فتاوى اللجنة الدائمة" (24/47)

شیخ عبد العزيز بن عبد الله بن باز ۔ شیخ عبد الله بن غديان ۔ شیخ عبد الله بن قعود ۔

مندرجہ بالا پوری وضاحت  قدرتی ریشم کے بارے میں ہے، اور اگر یہ ریشم  مصنوعی ہے  تو پھر کسی قسم کا مسئلہ ہی نہیں ہے، کیونکہ مصنوعی ریشم کا حکم قدرتی ریشم  والا نہیں ہے، بلکہ یہ بھی دیگر استعمال میں آنے والی مباح اور جائز چیزوں میں سے ہے، لہذا مصنوعی ریشم  مریض اور تندرست سب لوگ استعمال کر سکتے ہیں۔

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

متعلقہ جوابات