منگل 15 جمادی ثانیہ 1443 - 18 جنوری 2022
اردو

کتوں پر تحقیقات و ریسرچ اور کتوں کے DNA کو ہاتھ لگانے کا حکم

151447

تاریخ اشاعت : 09-03-2015

مشاہدات : 8850

سوال

سوال: کیا کوئی مسلمان کتے کے خلیہ اور DNA کو ہاتھ لگا سکتا ہے؟ میں کوریا میں زیر تعلیم ہوں، یہاں پر کتے کے خلیوں کو کتے میںپائی جانے والی پروٹین پر تحقیق کیلئے استعمال کرتے ہیں، تو اسکا کیا حکم ہے؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

کتوں پر تحقیق، تجربے، اور ریسرچ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اور اس کیلئے کتوں کو ہاتھ لگانا پڑے، یا کتوں کے کچھ اعضا کو چھونا پڑے تب بھی کوئی حرج نہیں ہے؛ کیونکہ  شریعت میں صرف کتوں کو بلا وجہ پالنے  سے منع کیا گیا ہے۔

تاہم جس شخص کو کتے کے کچھ حصوں کو چھونا پڑے تو وہ  اپنے  متاثرہ حصے کو سات بار دھوئے ، جن میں سے پہلی بار  دھوتےوقت مٹی استعمال کرے؛ اس بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے: (تمہارے کسی برتن کو  کتا منہ لگا دے تو اس کو پاک کرنے کیلئے سات بار دھوئے، پہلی بار دھوتے ہوئے مٹی استعمال کرے)مسلم: (279)

نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"یہ بات ذین نشین رہے کہ کتے کے منہ اور دیگر اعضا میں کوئی فرق نہیں ہے، چنانچہ اگر کتے کا پیشاب، لید، خون، پسینہ، بال، لعاب یا اس کے جسم کا کوئی بھی حصہ کسی پاک شے کو لگ جائے ، اوریہ پاک شے یا  اُن نجس اشیا  میں سے کوئی  ایک  حالت ِ رطوبت میں  ہو تو اس پاک شے کو سات بار دھونا لازم ہوجائے گا، جس کیلئے پہلی بار دھوتے وقت مٹی کا استعمال  کیا جائے گا" انتہی
"شرح صحيح مسلم " (3/185)

اور شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"کتے کو چھونے کے بارے میں یہ ہے کہ اگر کتے کو خشک ہاتھ لگیں تو اس سے وہ  پلید نہیں ہوں گے، اور اگر رطوبت کی حالت میں ہاتھ لگے تو اس سے متعدد اہل علم کے ہاں ہاتھ نجس ہو جائے گا، اور اسے ساتھ بار دھونا واجب ہوگا، جس میں ایک بار مٹی کا استعمال کیا جائے گا" انتہی
"مجموع فتاوى ابن عثیمین" (11/246)

اور کتے کے پاک یا پلید ہونے کے بارے میں اختلاف کا ذکر علمائے کرام کی آراء  سمیت سوال نمبر: (69840) کے جواب میں گزر چکا ہے۔

شافعی، اور حنبلی مذہب کے مطابق کتا نجس ہے، اسی کو دائمی فتوی کمیٹی نے اختیار کیا ہے، چنانچہ دائمی فتوی کمیٹی کے فتاوی: (23/89) میں ہے کہ: "کتا پورے کا پورا نجس ہے، اسکا لعاب وغیرہ سب نجس ہے"انتہی

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب