جمعہ 22 ذو الحجہ 1440 - 23 اگست 2019
اردو

ہجری مہینوں کے ناموں کی وجہ تسمیہ کیا ہیں؟

سوال

سوال: اسلامی مہینوں کے ناموں کی وجہ تسمیہ کیا ہے؟ میں انہیں کیلنڈر میں شامل کرنا چاہتا ہوں تا کہ لوگوں کو ان کی وجہ تسمیہ بھی معلوم ہو جائیں، نیز میں اس کام کا حکم بھی جاننا چاہتا ہوں؛ کیونکہ میرے علم کے مطابق مہینوں کے یہ نام اسلام کے ظہور سے پہلے بھی موجود تھے۔

جواب کا متن

الحمد للہ:

عربوں نے اسلام سے پہلے قمری مہینوں کے نام استعمال کیے ہیں اور پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عرب میں کچھ ناموں پر اتفاق ہو گیا اور سارے عرب علاقے میں رائج ہو گئے، اور یہ وہی صورت تھی جس میں  یہ نام آج کل ہمارے ہاں معروف ہیں، نیز یہ پانچویں صدی عیسوی کا واقعہ ہے جو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پانچویں دادا "کلاب " کا زمانہ تھا۔

قمری مہینوں کے نام رکھنے کی وجہ تسمیہ اور جن معانی کی وجہ سے ان مہینوں کو موسوم کیا گیا  ہے انہیں اہل علم نے ذکر کیا ہے، چنانچہ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"شیخ علم الدین سخاوی رحمہ اللہ نے ایک رسالہ لکھا جس کا نام ہے: " الْمَشْهُورُ فِي أَسْمَاءِ الْأَيَّامِ وَالشُّهُورِ "اس میں وہ رقمطراز ہیں:
محرم کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ یہ مہینہ حرمت والا ہے، لیکن میرے نزدیک اس کی وجہ تسمیہ اس مہینے کی حرمت  کو مزید عیاں اور مؤکد کرنے کیلیے اس نام سے موسوم کیا گیا؛ کیونکہ عرب اس مہینے کی حرمت کو دیگر مہینوں میں منتقل کرتے رہتے تھے، چنانچہ ایک سال محرم کو حرمت والا سمجھتے اور آئندہ سال میں اس کی حرمت کسی اور مہینے میں  منتقل کر دیتے تھے اور اسے حلال جانتے تھے، سخاوی رحمہ اللہ پھر کہتے ہیں کہ:  محرم کی جمع عربی زبان میں محرمات، محارم، اور محاریم آتی ہے۔

صفر کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ  عربوں کے گھر سفر اور جنگوں پر روانگی کے باعث رہنے والوں سے خالی ہو جاتے تھے ، اور عربی زبان میں " صَفِرَ الْمَكَانُ " اس وقت بولا جاتا ہے جب کوئی جگہ انسانوں سے خالی ہو جائے، اس کی عربی میں جمع " أصفار" آتی ہے۔

ربیع الاول کی وجہ تسمیہ یہ ہے [یہ " ارتباع" سے ہے] اور ارتباع  گھر میں ٹکے رہنے کو کہتے ہیں چونکہ اس مہینے میں لوگ  اپنے گھروں میں بیٹھےرہتے تھے ، اس لیے اسے ربیع  کا نام دیا گیا، اس کی عربی زبان میں جمع: " أربعاء" جیسے " نصيب" کی جمع " أنصباء" آتی ہے، اسی طرح اس کی جمع " أربعة" بھی آتی ہے جیسے " رغيف" کی جمع " أرغفة" آتی ہے، ربیع الثانی کا وجہ تسمیہ بھی یہی ہے۔

جمادی الاولی کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس مہینے میں پانی جامد  ہو گیا تھا۔
ایسا لگتا ہے کہ ان کے حساب سے قمری مہینے گرمی سردی میں تبدیل ہو کر نہیں آتے تھے، لیکن یہ صحیح نہیں ہے؛ کیونکہ اگر قمری مہینے چاند سے منسلک ہیں تو لازمی بات ہے کہ  یہ مہینے گرمی اور سردی  تبدیل ہو کر آئیں؛ البتہ یہ ممکن ہے کہ جس وقت انہوں نے ان مہینوں کو نام دیے تو اس وقت پانی سردی کی وجہ سے جم چکا تھا، جمادی کی جمع عربی زبان میں:" جماديات" آتی ہے ، جیسے کہ "حبارى" کی جمع: "حباريات " آتی ہے۔عربی زبان میں " جمادى" کا لفظ مذکر اور مؤنث دونوں طرح استعمال ہوتا ہے، چنانچہ " جمادى الأول" اور " جمادى الأولى" اسی طرح " جمادى الآخر" اور " جمادى الآخرة " دونوں طرح کہنا درست ہے۔

رجب عربی زبان کے لفظ : " ترجيب" سے ماخوذ ہے، جس کا معنی ہے تعظیم کرنا ہے[یہ حرمت والا مہینہ ہے اور اس کی تعظیم کی جاتی ہے اس لیے اسے رجب کے نام سے موسوم کیا گیا]، اس کی جمع " أرجاب، رجاب اور رجبات" آتی ہے۔

شعبان کا لفظ " تشعب" سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ہے بکھرنا، منتشر ہونا، [اس مہینے میں لوگ حرمت والے مہینے میں  گھروں میں قید رہنے کے بعد لڑائی جھگڑے کیلیے باہر نکلتے تھے]اس کی جمع: " شعابين" اور " شعبانات"آتی ہے۔

رمضان  کا لفظ " رمضاء" سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے سخت گرمی، عربی میں " رمضت الفصال" اس وقت کہا جاتا ہے جب اونٹنی کا بچہ گرمی سے پیاسا ہو جائے، اس کی جمع " رمضانات" اور " رمضاضين" اور " أرمضة" آتی ہے۔

شوال کا لفظ عربی زبان کے مقولے " شالت الإبل بأذنابها للطراق" سے ماخوذ ہے اور یہ اس وقت بولا جاتا ہے جب اونٹ جفتی کیلیے اپنی  دم اٹھائے، اس کی جمع: " شواويل"، "شواول" اور " شوالات" آتی ہے۔

ذو القعدہ میں "ق" پر زبر  پڑھی جائے گی، لیکن میں کہتا ہوں کہ زیر بھی پڑھی جا سکتی ہیں؛ کیونکہ عرب اس مہینے میں جنگوں اور سفر کرنے سے گھروں میں بیٹھ جاتے تھے، اس کی جمع: " ذوات القعدة" آتی ہے۔

ذو الحجہ میں "ح" پر زیر پڑھی گئی ہیں، لیکن میں کہتا ہوں کہ زبر پڑھنا بھی  ٹھیک ہے؛ کیونکہ اس مہینے میں حج کیا جاتا ہے اس لیے اس مہینے کا نام ذو الحجہ ہے، اس کی جمع: " ذوات الحجة" آتی ہے۔"
ماخوذ از: تفسیر ابن کثیر:(4/ 128-129)

مزید کیلیے آپ  "المفصل في تاريخ العرب قبل الإسلام" از: مؤرخ جواد علی (16/91) اور اس کے بعد والے حصے کا مطالعہ کریں۔

مہینوں کے نام  اور ان کے معانی کی شرح ، اصل اشتقاق بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اسی طرح وجہ تسمیہ بھی بیان کی جا سکتی ہے، جیسے کہ پہلے بھی مؤرخین اور علمائے لغت  بیان کرتے آئے ہیں۔

خصوصی طور پر اگر اس میں تعلیمی مصلحت کار فرما ہو تو  اور بھی اچھا ہے۔

یہ واضح رہے کہ اس ناموں کے اصل اشتقاق کا مہینوں کے ناموں سے کوئی تعلق نہیں رہا؛ کیونکہ قمری مہینے سال کے سارے موسموں میں بدل بدل کر آتے ہیں، نیز وجہ تسمیہ کا شرعی احکامات سے کوئی تعلق بھی نہیں ہے۔

مزید فائدے کیلیے آپ سوال نمبر: (170242) کا جواب ملاحظہ کریں۔

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں