سوموار 12 صفر 1440 - 22 اکتوبر 2018
اردو

اگر اس نے اپنے روزہ خور افسران کو چائے اور قہوہ پیش نہیں کیا تو ممکن ہے کہ اسے ملازمت سے فارغ کر دیں۔

275060

تاریخ اشاعت : 08-05-2018

مشاہدات : 75

سوال

ایک مسلمان ملازم سے اس کے روزہ خور افسران رمضان میں دن کے وقت چائے اور قہوہ پیش کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں، اگر وہ انکار کرتا ہے تو اس کو ملازمت سے فارغ کر دیں گے اور اسے اس کے ملک بھیج دیا جائے گا؛ کیونکہ وہ نقل کفالہ نہیں دیتے، تو ایسی صورت میں ملازم کیا کرے؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

اول:

رمضان میں صرف مریض، مسافر، حائضہ اور نفاس والی خاتون  جیسے افراد کو  روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے۔

رمضان میں جان بوجھ کر بغیر کسی عذر کے روزہ خوری  کبیرہ ترین گناہ ہے۔

امام ذہبی رحمہ اللہ اپنی کتاب: الکبائر: 64 میں کہتے ہیں کہ :
"اہل ایمان کے ہاں یہ مسلمہ بات ہے کہ جو شخص  بیماری یا کسی شرعی عذر کے بغیر روزہ نہیں رکھتا تو وہ زانی  اور شرابی سے بھی بد تر ہے، بلکہ وہ تو ایسے شخص کے ایمان کو مشکوک سمجھتے ہیں اور اسے زندیق  اور ملحد گردانتے ہیں" ختم شد

اسی طرح ابن حجر المکی اپنی کتاب: " الزواجر عن اقتراف الكبائر (1/ 323) "  میں لکھتے ہیں کہ:
"140 اور 141 واں کبیرہ گناہ : رمضان میں روزہ خوری، اور جماع یا کسی اور ذریعے سے روزہ توڑنا ہے جبکہ  سفر یا بیماری کی صورت میں کوئی شرعی عذر بھی نہ ہو" ختم شد

رمضان میں جان بوجھ کر روزہ خوری کرنے پر وعید سوال نمبر: (38747) کے جواب میں ملاحظہ فرمائیں۔

دوم:

جس شخص کے بارے میں علم ہو کہ وہ رمضان میں دن کے وقت بغیر عذر کے کھائے پیے گا تو اسے کھانے پینے کی چیز فراہم کرنا جائز نہیں ہے؛ کیونکہ اس میں گناہ پر معاونت پائی جاتی ہے، چاہے وہ شخص مسلمان ہو یا کافر، مسلمان کو اس لیے دینا جائز نہیں کہ وہ روزہ خور ہے اور اسے روزہ رکھنے کا حکم دیا گیا ہے، وہ روزہ خوری کی بنا پر گناہ گار ہے، نیز رمضان میں اسے کھانا پینا پیش کرنے سے اس کی اعانت بھی ہو گی، جبکہ کافر بھی روزہ سمیت تمام شرعی احکامات کا مخاطب ہے، لیکن روزہ رکھنے سے پہلے کافر شہادتین کا اقرار کر کے اسلام میں داخل ہو گا، چنانچہ روزِ قیامت اسے اس کے کافر ہونے کی وجہ سے عذاب دیا جائے گا اور اسلام کے احکامات پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے بھی اسے عذاب ہو گا، اس طرح کافر کو ملنے والا عذاب مزید بڑھ جائے گا۔

نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"محققین اور اکثر اہل علم کے ہاں صحیح موقف یہ ہے کہ : کفار بھی شرعی احکامات کے مخاطب ہیں، اس لیے مرد کافروں پر بھی ریشم اسی طرح حرام ہے جیسے مرد مسلمانوں پر حرام ہے" ختم شد
" شرح مسلم " ( 14 / 39 )

اسی طرح موسوعہ فقہیہ (9/211 -212) میں عنوان: "حرام مقصد والی چیز کی بیع" کے تحت لکھا ہے کہ: "جمہور کا مذہب ہے کہ ہر وہ چیز جس کا مقصد حرام ہو اور ہر وہ تصرف جس کے نتیجے میں معصیت ہو وہ حرام ہے، لہذا ہر اس چیز کی بیع ممنوع ہو گی جس کے بارے میں معلوم ہو کہ خریدار کا اس سے مقصد ناجائز ہے۔۔۔

شافعی فقہائے کرام کے ہاں اس کی مثالوں میں یہ شامل ہے کہ: سن کرنے والی چیز کسی ایسے شخص کو فروخت کرنا جس کے بارے میں ظن غالب ہو کہ وہ اس کو حرام راستے میں استعمال کرے گا، یا آلات موسیقی بنانے والے شخص کو اسی غرض کیلیے لکڑی  فروخت کرنا، یا ریشمی کپڑا اس شخص کو فروخت کرنا جو بغیر مجبوری کے پہنے گا، اور اسی طرح باغی ، ڈاکو یا چور کو ہتھیار فروخت کرنا۔۔۔

شروانی  اور ابن قاسم العبادی نے صراحت کی ہے کہ مسلمان کے لیے ایسے کافر کو کھانا فروخت کرنا ممنوع ہے جس کے بارے میں یقین ہو یا ظن غالب ہو کہ وہ رمضان کے دن میں اسے کھائے گا۔ رملی رحمہ اللہ نے یہی فتوی دیا ہے ، ان کا کہنا ہے کہ : اس لیے  منع ہے کہ یہ معصیت پر تعاون ہے ، یہ اس بات پر مبنی ہے کہ کفار فروع شریعت کے مخاطب ہیں" ختم شد

سوم:

اس عامل کیلیے ضروری ہے کہ وہ اللہ سے ڈرے اور اپنے افسران کی گناہ کے کاموں پر اعانت مت کرے، اگر ان کا روزہ چھوڑنے میں کوئی عذر نہیں ہے تو انہیں رمضان میں دن کے وقت چائے اور قہوہ وغیرہ پیش مت کرے، چاہے افسران چائے پیش کرنے کا حکم کیوں نہ دیں؛ کیونکہ جہاں اللہ کی نافرمانی لازم آتی ہو وہاں مخلوق کی بات نہیں مانی جاتی، رزق کے دروازے وسیع ہیں ، اللہ کے خزانے بھرے ہوئے ہیں، اللہ سے ڈرنے والے کو اللہ تعالی ہر قسم کے شر سے بچا لیتا ہے۔

جو شخص اللہ کیلیے کسی چیز کو ترک کرے تو اللہ تعالی اسے اس سے بہتر عطا فرما دیتا ہے۔ اس ملازم کو اللہ پر توکل کرنا چاہیے اورچاہیے کہ  اپنے افسران کو روزہ خوری کی حرمت بتلائے اور کسی کی اس سنگین نوعیت کے گناہ پر مدد نہ کرے۔

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں