اتوار 18 رجب 1440 - 24 مارچ 2019
اردو

موبائل فون كى حرام اور باطل ٹونز

34217

تاریخ اشاعت : 04-07-2006

مشاہدات : 6241

سوال

موبائل فون سے موسيقى ٹونز كے بارہ ميں آپ كى رائے كيا ہے، حتى كہ يہ مساجد ميں بھى سنائى ديتى ہيں ؟

جواب کا متن

الحمد للہ :

موبائل سيٹ ميں موسيقى ٹونز لوڈ كروانا حرام ہے، اور جب يہ ٹونز مساجد ميں سنائى دينے لگيں تو اس كى حرمت و قباحت اور بھى بڑھ جاتى ہے كيونكہ اس ميں باطل اور حرام چيز كا اظہار اور اعلان ايسى جگہ جو سب سے افضل ہے، تو اس طرح ايسا كرنے والا شخص زيادہ گنہگار ہو گا.

يہ تو معلوم ہى ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے بانسرى جو كہ موسيقى كى آواز نكالتى ہے اس كى حرمت بيان كى ہے، جن موبائل سيٹوں ميں موسيقى ٹونز لوڈ كروائى گئى ہے ہر فون آنے پر يہ ٹونز اللہ تعالى كے گھروں مساجد ميں دوران نماز بار بار بجتى ہيں، كاش مجھے معلوم ہو جائے كہ ان لوگوں كے اعمالنامے ميں كيا لكھا جائيگا جن كے موبائل سيٹ اللہ كے گھروں مساجد ميں موسيقى اور باطل كى آواز پيدا كرتے ہيں، جس كى بنا پر وہ خود بھى تنگ ہوتےاور نمازيوں كو بھى تنگ كرتے ہيں.

كيا يہ لوگ اپنے رب سے ڈرتے نہيں، اور كيا وہ اس كے سامنے توبہ كرتے ہوئے اس كام كو چھوڑ كيوں نہيں ديتے،اور وہ اس برائى كو تبديل كيوں نہيں كرے، خاص كر جب اس كے مقابلہ ميں موبائل كے اندر ٹونز ميں موسيقى كے بغير بتہرين اوراچھى ٹونز موجود ہيں.

ايك تنبيہ كرنا ضرورى ہے كہ: ٹيلى فون كى گھنٹى اگرچہ وہ مباح آواز پر مشتمل ہے، ليكن پھر بھى مسجد ميں داخل ہونے سے قبل موبائل فون كا سائلنٹ كريں تا كہ نمازويوں كى نماز خراب نہ ہو.

اللہ سے مدد طلب كى جاتى ہے، اور اسى كى طرف شكايت ہے، اور اس كے بغير كوئى بھى نيكى كرنے كى نہ تو طاقت ہے اور نہ ہى استطاعت.

واللہ اعلم .

ماخذ: الشيخ محمد صالح المنجد

تاثرات بھیجیں